کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو پائے گی؟

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
جام کمال

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Jam_Kamal

،تصویر کا کیپشن

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ انھیں صوبائی اسمبلی میں اپنے خلاف ’عدم اعتماد کی تحریک کی پرواہ نہیں ہے۔'

بلوچستان اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف نے منگل کی شب وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔ تحریک عدم اعتماد چار نکاتی چارج شیٹ پر مشتمل ہے جس پر حزب اختلاف کے 16 اراکین کے دستخط ہیں۔

مگر جام کمال کہتے ہیں کہ ’اگر میری جماعت اور اتحادی میرے ساتھ ہیں تو اپوزیشن سے فرق نہیں پڑتا۔ جس دن میری جماعت اور اتحادیوں کی اکثریت نے عدم اعتماد کیا تو خود چلا جاؤں گا۔ پارٹی اور اتحادیوں کے ساتھ نہ ہونے پر مجھے ایوان کا سربراہ ہونے کا حق نہیں ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER

بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین کا دعویٰ ہے کہ انھیں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے مطلوبہ اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی۔

تحریک عدم اعتماد میں کیا نکات اٹھائے گئے ہیں؟

تحریک عدم اعتماد میں وزیر اعلیٰ پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے بلوچستان میں شدید مایوسی، بد امنی اور بے روزگاری میں اضافے کے علاوہ اداروں کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے متن میں کہا گیا کہ آئین کے شق 37 اور38 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت نے غیر منصفانہ اور متعصبانہ ترقیاتی بجٹ پیش کیا جس سے دانستہ طور پر علاقوں میں پسماندگی، محرومی اور بد امنی میں انتہا درجے تک اضافہ ہوا۔

متن کے مطابق بلوچستان میں قتل، اغوا، چوری، ڈکیتی اور دہشت گردی کے باعث عوام ہر روزسراپا احتجاج ہیں اور ان میں شدید عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے مسائل پر انتہائی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا جس سے بلوچستان میں بجلی، گیس اور پانی کے بحران کے علاوہ شدید معاشی بحران پیدا ہوا۔

تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے کتنے اراکین درکار؟

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد 65 ہے۔ ان میں حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 23 ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثناءاللہ بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی کے موجودہ اراکین کی تعداد کے لحاظ سے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے 13 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کتنے اراکین کی ضرورت ہے؟

دوسری صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے میں بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 جو سب سے کم ہے۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کل 33 اراکین کی ضرورت ہے۔

اس وقت بلوچستان اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف کی تین جماعتوں جمیعت علما اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ ایک آزاد رکن پر مشتمل ہے۔

اسمبلی میں جمیعت العلماءاسلام کے اراکین کی تعداد 11، بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد 10 اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک رکن ہے جبکہ واحد آزاد رکن سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی ہیں۔

حزب اختلاف کے مقابلے میں مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کی مجموعی تعداد 42 ہے۔

حکومتی بینچوں پر سید احسان شاہ ایک ایسے رکن ہیں جنھوں نے سینٹ کے حالیہ انتخابات میں حزب اختلاف میں شامل جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے حزب اختلاف پر امید

حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ حکومتی جماعتوں کے متعدد اراکین وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں۔ حکومتی صفوں میں اراکین کی ناراضگی کی وجہ سے حزب اختلاف کو امید ہے کہ تحریک عدم کامیاب ہو گی۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے حزب اختلاف کو مزید دس اراکین کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اسمبلی کے اسپیکر میر عبد القدوس بزنجو اور سابق وزیربلدیات سردار محمد صالح بھوتانی اعلانیہ طور پر وزیر اعلیٰ کے مخالفین میں شامل ہیں۔

چند ماہ قبل وزیر اعلیٰ نے سردار محمد صالح بھوتانی سے بلدیات کا محکمہ واپس لیا تھا جس کے بعد انھوں نے وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما سردار یارمحمد رند بھی وزیر اعلیٰ سے ناراض تھے۔

،تصویر کا کیپشن

سردار یار محمد رند

انھوں نے جون کے مہینے میں وزرات سے استعفیٰ دیا تھا لیکن ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان چند روز قبل سردار یار محمد رند کو منانے میں کامیاب ہوئے اور انھوں نے استعفیٰ واپس لیتے ہوئے تعلیم کے محکمے کا قلمدان واپس سنبھال لیا ہے۔

تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد حزب اختلاف کے رکن نصیر شاہوانی نے بتایا کہ نہ صرف عوام حکومت سے ناراض ہیں بلکہ خود حکومتی اراکین بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

حزب اختلاف کے رکن ثناءاللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ انھوں نے گراﺅنڈ ورک مکمل کرنے کے بعد تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لیے مطلوبہ اراکین کی حمایت حاصل ہے اور وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کا کیا کہنا ہے؟

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیاقت شاہوانی نے کہا کہ حزب اختلاف کو تحریک کی کامیابی کے لیے مطلوبہ اراکین کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد لانا حزب اختلاف کا حق ہے۔

تجزیہ کاروں کی کیا رائے ہے؟

سینئر تجزیہ کار و صحافی شہزادہ ذوالفقار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کی کامیابی کے لیے حزب اختلاف کو دس حکومتی اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے، بعض لوگ وزیر اعلیٰ سے ناراض ضرور ہیں لیکن تحریک عدم اعتماد پر ناراض اراکین میں سے کسی کے دستخط نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ حزب اختلاف کے اراکین نے یہ تحریک عدم اعتماد یہ دیکھنے کے لیے پیش کی ہو کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف حکومتی صفوں سے عملی طور پر کتنے لوگ سامنے آئیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے۔

بعض مبصرین کی یہ رائے ہے کہ بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے مقتدر حلقوں کا کردار اہم ہے۔

تجزیہ کار و صحافی رضاالرحمان کا کہنا ہے کہ اگر مقتدر حلقے وزیر اعلیٰ جام کمال کی حکومت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ایسے میں وزیر اعلیٰ سے ناراض لوگوں کو ہر قسم کی دباﺅ سے نکلنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صحافیوں کا جن ناراض لوگوں سے رابطہ ہوا ہے انھوں نے بظاہر یہ کہا ہے کہ وہ کسی دباﺅ کو قبول نہیں کریں گے۔‘

رضاالرحمان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب حکومتی صفوں میں جو لوگ ناراض ہیں وزیر اعلیٰ ان کو منانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔