وارث رضا: پاکستانی صحافی کی 14 گھنٹے تک مبینہ جبری گمشدگی کے بعد گھر واپسی

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
وارث رضا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/SHAHFAHADPK

کراچی سے مبینہ طور پر جبراً لاپتہ ہونے والے صحافی وارث رضا واپس گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اُنھیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ احتیاط کریں لیکن اُن کے مطابق اُنھوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ سینیئر صحافی وارث رضا کو اُن کے خاندان کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال سے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

وارث رضا کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ انھیں ’جمہوریت کی حمایت اور ہائبرڈ نظام کی مخالفت‘ کرنے پر حراست میں لیا گیا۔

اس واقعے کے خلاف پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے 23 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔

کراچی میں مبینہ ٹاؤن پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا جبکہ بی بی سی نے سندھ رینجرز کے ترجمان سے مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

’کیا ہائبرڈ نظام واقعی اتنا خراب ہے؟‘

تقریباً 14 گھنٹے کی گمشدگی کے بعد گھر واپسی پر اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جہاں ان کی آنکھوں پر مسلسل پٹی بندھی ہوئی تھی۔

صحافی وارث رضا کے مطابق ’اُنھوں نے بتایا کہ وہ رینجرز والے نہیں بلکہ ایجنسی والے ہیں تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں‘۔

وارث رضا کے مطابق اُنھیں کہا گیا کہ آپ ریاست کے خلاف لکھتے ہیں، جس کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل حق کے مطابق لکھتے ہیں، جس پر ان سے پوچھا گیا کہ یہ آرٹیکل کیا ہے اور اُنھوں نے بتایا کہ یہ تقریر اور تحریر کی آزادی دیتا ہے۔

وارث رضا کے مطابق اُنھیں فیس بک کی پوسٹس کا حوالہ دیا گیا، ایکسپریس میں لکھا گیا کالم بھی سامنے رکھا گیا اور پوچھا گیا کہ ’آپ ہائبرڈ نظام کے خلاف ہیں، کیا یہ واقعی اتنا خراب ہے؟‘

وارث رضا کے مطابق اُنھوں نے جواب دیا کہ یہ جمہوری اقدار اور حقیقی جموریت کے خلاف ہے۔

’مجھے کہا گیا کہ آپ ایماندار انسان ہیں، خیال کیا کریں، آپ پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف کیوں ہیں۔ میں نے اُنھیں کہا کہ میں ریاست کے خلاف نہیں ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ احتیاط کریں، آئندہ ایسا نہ کیجیے گا۔ میں نے واضح کیا کہ اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار نہیں ہوں گا۔‘

وارث رضا کے مطابق بعد میں اُنھیں گلشنِ اقبال کے مبینہ ٹاؤن تھانے کے قریب لا کر چھوڑا گیا جہاں سے وہ واپس گھر آگئے۔

وارث رضا کون ہیں؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وارث رضا ان دنوں اردو روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ہیں۔ وہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سرکردہ رکن اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کے منصب پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔

وارث رضا کی بیٹی اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کی سیکریٹری اطلاعات ام لیلیٰ رضا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’رات پونے تین بجے کے قریب ایک سفید کرولا کار اور دو رینجرز کی گاڑیوں میں افراد آئے جن میں سول ڈریس والے نقاب پوش والد سے مخاطب ہوئے۔ انھوں نے ان کا نام، کہاں کام کرتے ہیں کی تصدیق کی۔ اس کے بعد ان کا موبائل فون اور بٹوا لیا اور کہا کہ تفتیش کے بعد انھیں چھوڑ دیں گے۔‘

لیلیٰ رضا کے مطابق ان کے والد کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون ہیں اور ان کے والد کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے تاہم ’کچھ دیر کے بعد والد کا فون آیا کہ انھیں تفتیش کے لیے لے کر جا رہے ہیں اور یہ کہ ان کے دوستوں کو مطلع کر دیا جائے۔ ایک گھنٹے کے بعد بہن کو والد کا فون آیا کہ وہ ایک گھنٹے میں واپس آ جائیں گے۔‘

اُن کی بیٹی لیلیٰ رضا کا کہنا تھا کہ والد کے ٹیلیفون پر رابطے کی وجہ سے انھوں نے سمجھا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ چھوڑ دیں۔ اسی لیے وہ تھانے نہیں گئے تاہم اب وہ اپنے وکیل سے رابطہ کر رہے ہیں۔

باسٹھ سالہ وارث رضا کی پانچ بیٹیاں ہیں اور وہ گردے کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں۔

لیلیٰ رضا نے کہا تھا کہ گردے کی تکلیف کی وجہ سے وہ 15 روز ہسپتال میں زیر علاج رہے ہیں اور خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ’ان کے ساتھ اگر ناروا سلوک کیا گیا تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہKarachi Union of Journalists

لیلیٰ نے بتایا کہ ان کے والد پاکستان میں مستحکم جمہوری نظام کے حامی ہیں۔

اُن کے مطابق ’وہ موجودہ نظام کو ’ہائبرڈ‘ سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف ہیں۔ اس کے خلاف فیس بک پر پوسٹ لکھتے رہتے تھے اور پچھلے دنوں انھوں نے ایکسپریس میں ایک کالم بھی لکھا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں انھیں اسی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ وارث رضا نے 19 ستمبر کو روزنامہ ایکسپریس کے لیے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان ’جمہوریت دشمن اقدامات‘ تھا۔

اس مضمون میں وہ یہ تجویز دیتے ہیں کہ ’صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں، طلبہ، ٹریڈ یونینز اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ تحریک جوڑنی ہوگی تاکہ جمہوریت کو تلپٹ کرنے والے ’ہائبرڈ نظام‘ کا مکمل صفایا کیا جا سکے۔‘

یہ بھی پڑھیے

صحافتی تنظیموں کی تنقید

پی ایف یو جے نے وارث رضا کو ’حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی‘ کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

تنظیم کے مطابق ’اگر حکومت سمجھتی ہے کہ چند لوگوں کی گرفتاری یا ان کے خلاف مقدمات سے سیاہ قوانین کے لیے راہ ہموار ہو گی تو یہ ان خام خیالی ہے۔‘

کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے بھی سینیئر صحافی وارث رضا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے ایک بیان میں کہا کہ وارث رضا ایک سینیئر صحافی ہیں جو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔

’انھوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک میں آزادی صحافت کی 70 سالہ جدوجہد کو کتابی شکل میں لانے کا اہم کام بطور مدیر انجام دیا ہے۔ وہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک میں ہر اوّل دستے کا حصہ رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری انتہائی تشویشناک ہے۔‘

کے یو جی کے مطابق وہ اس مبینہ گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ملک میں اس وقت ہر اس توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے۔