جب پاکستان نے ایف سولہ طیاروں کو جوہری میزائل کا متبادل تصور کیا!

  • عمر فاروق
  • دفاعی تجزیہ کار
ایف سولہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل محمد انور شمیم نے دسمبر سنہ 1985 میں انکشاف کیا تھا کہ سنہ 1984 میں پاکستان کے فوجی منصوبہ ساز انڈیا میں ترومبے کے مقام پر قائم بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے کیونکہ اس وقت کے پاکستانی فوجی حکمران کو ڈر تھا کہ انڈیا پاکستان کی کہوٹہ نیوکلئیر لیبارٹری پر حملہ کرے گا۔

چند لوگ ہی تھے جنھیں اس تصوراتی عسکری منظرنامے کے تمام پہلوﺅں کا حقیقی ادراک اور احساس تھا۔

16 دسمبر1985 کی صبح انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل نے اپنی تقریر میں اشارہ دیا کہ نئے حاصل کردہ ایف سولہ طیارے بھی ’جوہری بم کے علاوہ پاکستان کا نیوکلئیر آپشن ہیں۔‘

پاکستان ابھی جوہری حیثیت کے حصول سے کئی سال دور تھا اور انڈیا کے ہاتھوں فوجی شکست کی یادیں پاکستان کے دفاعی منصوبہ سازوں کے ذہن میں ابھی تازہ تھیں۔

جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت نے ایئر چیف مارشل انور شمیم کو سنہ 1978 میں اعلیٰ ترین منصب پر فائز کردیا (جس پر وہ 1985 تک فائز رہے)۔ ایئر چیف مارشل انور شمیم نے نہ صرف پاکستان ایئر فورس میں ایف سولہ طیاروں کی شمولیت کے تمام عمل کی نگرانی کی بلکہ انھوں نے سنہ 1983 میں ان طیاروں کی باضابطہ پاک فضائیہ میں شمولیت کی صدارت بھی کی۔

اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ فوجی اور سلامتی سے متعلق امور پر جنرل ضیا الحق کے قریبی مشیر تھے۔ لہٰذا ریٹائرمنٹ کے فوری بعد دسمبر1985 میں انھوں نے انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں یہ تقریر کی۔

اس تقریب کے شرکا میں ایک امریکی پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ ورسنگ بھی موجود تھے جنھوں نے بعدازاں ’پاکستانز سکیورٹی انڈر ضیا‘ (ضیا دور میں پاکستان کی سلامتی) کے عنوان سے کتاب بھی لکھی۔

ڈاکٹر ورسنگ نے بعد میں اُس تمام منظر نامے کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے جب ایئر چیف مارشل انور شمیم نے تقریب میں یہ انکشاف کیا تھا۔

16 دسمبر 1985 میں انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد میں یہ تقریب ’دفاع پاکستان میں ایف سولہ کا کردار‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی تھی۔

ایئر چیف مارشل انور شمیم کی یہ تقریر (اُن دنوں اسلام آباد کے صف اول کے انگریزی روزنامہ) ’دی مسلم‘ میں شائع ہوئی مگر ایئر مارشل انور شمیم نے اپنی تقریر میں یہ بات نہیں بتائی تھی کہ کہوٹہ پر انڈین حملے کی صورت میں ترومبے اٹامک سینٹر پر جوابی حملے کے بارے میں انڈین حکومت کو اُس وقت کی فوجی حکومت نے آگاہ کر دیا تھا۔

رابرٹ ورسنگ نے ان الفاظ میں ایئر مارشل شمیم کی تقریر کو بیان کیا تھا کہ ’ایف سولہ طیارے کے حصول کی وجہ بننے والے خطرے کا اندازہ لگانے کے عمل کو واضح کرتے ہوئے شمیم نے صرف انڈین فضائی قوت پر توجہ مرکوز کی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’انھوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے دیگر طیاروں کے مقابلے میں ایف سولہ طیارے کے حصول پر اصرار اس لیے کیا کیونکہ انڈیا پر حملے میں اس کی صلاحیت سب پر بھاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہوٹہ کو انڈین سرحد کے کافی قریب دیکھا گیا اور عملاً اس کا تحفظ تقریباً ناممکن ہے۔‘

’انڈیا کی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور انڈین دفاعی نظام میں گھس جانے کی اس کی صلاحیت نے پاکستان کو اس قسم کا ردعمل دینے کے قابل بنایا۔ پاکستان کی فضائیہ اب ترومبے میں انڈین بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کو نشانہ بنا سکتی ہے جس کے نتیجے میں انڈیا کو بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنے پڑے گا اور انھیں (انڈیا) یہ معلوم تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایف سولہ جوہری بم کے علاوہ پاکستان کا جوہری آپشن ہے۔‘

پاکستان کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار نہیں تھے لیکن اس کی جوہری اسٹیبلشمنٹ جوہری پروگرام پر کام کر رہی تھی۔

ایئر چیف مارشل انور شمیم کو یہ بتانے میں 25 سال لگے کہ سنہ 1984 اور 1985 میں پاکستان ایئر فورس کی جانب سے ایف سولہ طیاروں کے حصول کے وقت کیا ہوا تھا۔

28 مئی 2010 کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں انھوں نے ایک اور تقریر کی۔ پاکستان نے 80 کی دہائی کی ابتدا میں انڈیا کو خبردار کیا تھا کہ اگر کہوٹہ کے جوہری اثاثوں پر انڈیا نے حملہ کیا تو جواب میں پاکستان ترومبے میں انڈیا بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر پر جوابی حملہ کر دے گا۔

ایئر مارشل (ر) شمیم کے مطابق انھیں اُس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق نے سنہ 1979 میں کہوٹہ میں جوہری اثاثوں کے بارے میں بات چیت کے لیے بلایا۔ اپنی کتاب ’کٹنگ ایج پی اے ایف‘ میں انور شمیم نے انکشاف کیا کہ ’جنرل ضیا کے پاس مصدقہ اطلاع تھی کہ انڈیا کہوٹہ پر حملے اور اسے تباہ کرنے کا منصوبہ تیار کر رہا تھا۔‘

کتاب میں انھوں نے لکھا کہ انھوں نے جنرل ضیا سے کہا کہ ’کہوٹہ کا دفاع ناممکن ہے کیونکہ یہ انڈین سرحد سے تین منٹ کی پرواز کے فاصلے پر ہے۔ ہمارے پاس جواب دینے کے لیے آٹھ منٹ کا وقت ہے اور جب تک پی اے ایف کے طیارے متعلقہ مقام تک پہنچیں گے اُس وقت تک دشمن اپنا کام مکمل کر چکا ہو گا اور بحفاظت اپنی سرحد کے اندر واپس جا چکا ہو گا۔‘

’جنرل ضیا نے پوچھا کہ ملکی دفاع کے سب سے اہم ہتھیار کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے اور جواب یہ تھا کہ جدید ترین طیارے اور جدید ہتھیار حاصل کیے جائیں اور اگر انڈیا اپنے رویے پر کاربند رہا تو پاکستان ایئر فورس ترومبے میں انڈین جوہری ٹھکانے کو اڑا دے گی۔‘

’ہم انھیں اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچائیں گے جتنا وہ ہمیں پہنچائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’میں نے صدر سے کہا کہ کئی صلاحیتوں کے حامل لڑاکا طیارے ایف سولہ کو جدید ہتھیاروں سمیت حاصل کیا جائے جو پی اے ایف کی ضروریات کے لیے بہترین اور موزوں ترین ہے۔ سنہ 1981 میں امریکی انتظامیہ نے ایف فائیو ایز کی پیشکش کی اور بعد میں ایف فائیو جیز سے مدد دینے کا کہا لیکن پاکستان نے ایف سولہ کے سوا کوئی طیارہ لینے سے انکار کر دیا۔ آخر کار امریکہ نے اسے تسلیم کر لیا۔‘

جنوری سنہ 1983 میں پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کا پہلا دستہ موصول ہوا جس پر انھوں نے صدر کو اپنی ذمہ داری سے متعلق خط لکھا۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں اب یہ تصدیق کرنے کے قابل ہوں کہ انڈیا کہوٹہ پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ اب یہ اُن پر واضح ہو چکا ہے کہ اگر انھوں نے کوئی حرکت کی تو ہم ترومبے میں ان کے اٹامک سٹیشن پر حملہ کر دیں گے اور یہ جانتے ہوئے کہ انھیں ہم سے کہیں زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، لہٰذا انڈیا اب کسی حماقت سے باز رہے گا۔‘

اپنی کتاب میں انھوں نے لکھا کہ انھوں نے اس وقت کے سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی منیر حسین کو خط لکھا تھا جو اس وقت جوہری توانائی پر ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

’میں نے خط میں لکھا تھا کہ وہ اپنے انڈین ہم منصب کو آگاہ کر دیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر حملے کی مہم جوئی کے نتائج کیا ہوں گے۔‘

’جب انھوں نے اپنے انڈین ہم منصب سے بات کی تو اُس نے جواب دیا کہ نہیں بھائی، ہم آپ کی صلاحیت جانتے ہیں اور ہم کبھی بھی ایسا مشن نہیں کریں گے۔‘

پاکستان کی دفاعی پالیسی میں ایف سولہ نے اصل میں کیا کردار ادا کیا؟

پاکستان ایئر فورس کی جانب سے ایف سولہ کے حصول کے بعد دونوں ممالک نے ایسے کسی تنازعے میں مدبھیڑ نہیں کی جس میں دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر فضائیہ کو استعمال کیا گیا ہو۔

کارگل تنازعے کے دوران انڈین ایئر فورس لائن آف کنٹرول کی انڈین طرف محدود ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے محدود حد تک استعمال کی گئی۔

کارگل کے دوران پاکستانی ایئر فورس کو پوری طرح فعال نہیں کیا گیا تھا۔ سنہ 2019 میں انڈین ایئر فورس کے بالاکوٹ میں حملوں کے دوران پاکستان ایئر فورس نے انڈین ’مِگ‘ طیارہ مار گرایا تھا لیکن آج کی تاریخ تک یہ شک ہے کہ اس آپریشن میں ایف سولہ استعمال ہوئے تھے۔ پاکستان انکار جبکہ انڈیا واویلا کرتا ہے کہ پاکستان نے امریکی ساختہ ایف سولہ طیارے اس کارروائی میں استعمال کیے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے 85 ایف سولہ طیارے قومی فخر کا ذریعہ ہیں اور دنیا کی ایلیٹ میں پاکستان کی ائیر فوس کے بڑے مقام کا باعث ہیں۔

اس پروگرام کا آغاز سنہ 1981 میں ہوا تھا جب افغانستان میں سویت یونین نے مداخلت کی تھی۔ امریکہ نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کی حامی بھر لی تھی تاکہ انھیں سویت یونین اور افغان طیاروں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔

سویت یونین اور افغان طیارے ترتیب وار سرحد پار کر کے مجاہدین کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بناتے تھے۔ سنہ 1986 سے 1990 کے دوران پاکستانی ایف سولہ طیاروں نے کم از کم 10 افغان اور روسی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ٹرانسپورٹ طیارے مار گرائے تھے۔

1990 میں امریکہ نے 28 ایف سولہ طیارے پاکستان کو دینے سے انکار کر دیا جس کے لیے پاکستان 658 ملین ڈالر کی رقم ادا کر چکا تھا۔ اگرچہ امریکہ نے آخر کار یہ رقم واپس کر دی تھی، اسلام آباد نے امریکہ کو ایک قابل اعتبار اتحادی کے طور پر شک سے دیکھنا شروع کر دیا اور تحفظات پیدا ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگست 2020 میں امریکی ملٹری نیوز ویب سائٹ نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے دو سابق ملازمین کی لکھی ہوئی کمنٹری چلائی۔ یہ کمنٹری لکھنے والے ایرون سٹین اور رابرٹ ہمیلٹن تھے جن کا دعویٰ تھا کہ پی اے ایف کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے بعد سے امریکی فوج مسلسل اُن کی مانیٹرنگ کر رہی تھی۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو 18 جدید ترین بلاک 52 ایف سولہ طیارے دینے پر اتفاق کیا جس کی لاگت تقریباً 1.4 ارب ڈالر تھی۔

اس کے ساتھ ٹارگٹنگ پوڈز اور الیکڑانک وار فئیر پوڈز بھی شامل تھے۔ پاکستان کے 52 پرانے ماڈل کے ایف سولہ طیاروں کی اپ گریڈیشن کٹس بھی دیں۔ یہ ساز و سامان ملنے کے بعد ایف سولہ طیارے بلاک 52 قسم کے طیاروں کے ہم پلہ ہو گئے۔

سابق امریکی سفارتکاروں نے ’وار آن دی راک‘ نامی ویب سائٹ پر لکھا کہ ’ایف سولہ کے جدید قسم کے طیارے اور اس کے ساتھ جدید جنگی آلات دینے کا امریکہ کا فیصلہ ڈوریاں ہلائے بغیر نہیں ہوا۔ جب جدید ترین ایف سولہ دینے اور پرانے ماڈلز کو جدید بنانے کی منظوری دی گئی، امریکہ نے پروگرام کی غیر معمولی نگرانی کرنے پر بھی اصرار کیا۔ دی جانے والی ٹیکنالوجی کی حفاظت کے لیے واشنگٹن نے اسلام آباد سے منوایا کہ امریکی ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم شہباز اور مصحف ائیر فورس بیسز کا دورہ کرے گی۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں جدید ترین ایف سولہ کو رکھا جانا تھا۔‘

پاکستان کے پاس مجموعی طور پر 85 ایف سولہ ہیں جن میں سے 66 پرانے بلاک 15 طیارے ہیں اور 19 جدید ترین بلاک 52 ہیں۔ یہ طیارے امریکی ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم کی نگرانی میں ہیں۔

سابق امریکی سفارتکار نے لکھا کہ ’ٹیم کا مشن اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان ایئر فورس اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس کے لیے وہ لیے گئے ہیں، ان میں اور ان کے ہتھیاروں میں کوئی تبدیلی نہ لائے اور کسی بھی غیر مجاز فریقین کو یہ ٹیکنالوجی نہیں دے گا۔‘

’پاکستان کے لیے بعد والا پہلو بطور خاص اہم ہے کیونکہ پاکستانی ایئر فورس جے ایف 17 تھنڈر بھی اڑاتی ہے جو چین کے ساتھ مل کر بنایا گیا ہے۔ جن اڈوں پر جدید ترین ایف سولہ موجود ہیں امریکہ نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ ان طیاروں کو دیگر طیاروں سے الگ رکھا جائے اور انھیں صرف اسی علاقے تک محدود رکھا جائے جہاں انھیں کھڑا کیا جاتا ہے۔‘