دعا زہرہ کیس: ’زبانی بیان قابل قبول نہیں، نکاح کے وقت شناختی دستاویزات کی چھان بین ضروری‘

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
دعا زہرہ کیس

،تصویر کا ذریعہKHI POLICE

کراچی کی ایک مقامی عدالت نے قرار دیا ہے کہ نکاح رجسٹرار اور متعلقہ افراد کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ نکاح سے متعلقہ شناختی دستاویزات کی چھان بین کریں کیونکہ عمر سے متعلق محض زبانی طور پر بتانا قابل قبول نہیں۔

کراچی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گذشتہ ہفتے دعا زہرہ کیس میں مختصر فیصلہ سُنا کر نکاح خواں غلام مصطفیٰ اور گواہ علی اصغر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اب بدھ کے روز اس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نکاح کے لیے مطلوبہ دستاویزات اور نکاح رجسٹرار کے کردار پر بحث کی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمام نکاح رجسٹرار اور وہ افراد جو شادی میں بطور گواہ شرکت کرتے ہیں اُن کے لیے لازمی ہے کہ وہ تمام دستاویزیات کی چھان بین کریں، زبانی طور پر عمر بتانا اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بطور ثبوت کوئی دستاویزات فراہم نہیں کی جاتیں۔

عدالت کے مطابق عمر کی یہ دستاویز قومی رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کا شناختی کارڈ، بی فارم، سکول چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ، یونین کونسل کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ یا عمر کا تعین کرنے والی اتھارٹی سے جاری کردہ سرٹیفیکیٹ قابل قبول ہو سکتا ہے۔

عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نکاح خواں حافظ غلام مصطفیٰ نے دستاویزات کی تصدیق نہیں کی اور جبکہ نکاح کے گواہ اصغر علی کی کوئی ساکھ نہیں۔

عدالت نے کہا کہ سنگین جرم مغویہ کی نفسیات کو تباہ کر سکتا ہے، اس کے باعث مغویہ کے خاندان کو عوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے، یہ ایک بد نما داغ ہے جس کا سامنا خاندان والوں کو کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ سنگین جرم ہے لہذا اس قسم کا گھناؤنا جرم کسی انفرادی شخص کے خلاف نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کے خلاف ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے دعا زہرہ اغوا کیس میں پیش کیے گئے چالان میں گرفتار ملزمان غلام مصطفیٰ اور اصغر کو بے گناہ قرار دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ انھیں رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

ملزم ظہیر احمد کی حفاظتی ضمانت کی منظوری

یاد رہے کہ اس سے قبل دعا زہرہ اغوا کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے دعا کے مبینہ شوہر اور ملزم ظہیر احمد کی حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی گرفتاری 14 جولائی تک کے لیے روک دی تھی۔

حال ہی میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے بعد ان کے والد نے کراچی کی مقامی عدالت سے ایک بار پھر اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے درخواست دی تھی جس میں سندھ پولیس کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔

ادھر مبینہ شوہر اور ملزم ظہیر احمد کی جانب سے ممکنہ گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جہاں دورانِ سماعت عدالت نے سوال کیا تھا کہ ایف آئی آر کب درج ہوئی۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اغوا کا مقدمہ 16 اپریل کو درج ہوا تھا جبکہ کیس میں تفتیشی افسر کی جانب سے بیان دیا گیا کہ وہ از سر نو تفتیش کر رہے ہیں۔

ظہیر احمد کے فون کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

چند روز قبل کراچی کی مقامی عدالت میں دعا زہرہ کے والد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد مبینہ شوہر اور ملزم ظہیر احمد کے فون کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

بدھ کے دن کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو نے 15 سے 19 اپریل تک کے ملزم ظہیر احمد کے فون کی سی ڈی آر طلب کی۔

عدالت نے کہا کہ ملزم 15 اپریل کو کراچی میں تھا یا لاہور میں، سی ڈی آر نکال لیں اور عدالت میں پیش کریں۔

سماعت کے دوران ملزم ظہیر احمد کے وکیل بھی پیش ہوئے جبکہ عدالت نے تفتیشی افسر سے ضمنی چالان طلب کرتے ہوئے 20 جولائی تک سماعت ملتوی کر دی تھی۔

اس سے قبل دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے عدالت میں کہا تھا کہ ازسر نو تحقیقات کے حکم سے کلاس سی چالان مسترد ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس مقدمے میں دعا سے بار بار جھوٹ بلوایا گیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کس کے کہنے پر بچی ایسا کرتی رہی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے ملزم کو گرفتار نہیں کیا اور کل جب ملزم ملک سے فرار ہو جائے گا تو کون ذمہ دار ہوگا۔

دعا زہرہ کے والد کی درخواست

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ منگل کے روز دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ثابت ہو چکی ہے۔

درخواست گزار کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میرج ایکٹ 2016 کے مطابق دعا اور ظہیر کی شادی غیرقانونی ہے اور عدالت دعا زہرا کو بازیاب کروانے کا حکم دے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ دعا کو ظہیر احمد کی ’غیر قانونی حراست‘ سے بازیاب کروا کر والدین کے حوالے کیا جائے اور اگر مغویہ کے ساتھ اگر جنسی زیادتی ثابت ہوتی ہے تو ملزم ظہیر کے خلاف کارروائی کی جائے۔دعا کے والد نے عدالت سے استدعا کی کہ دعا زہرا کو ملک سے باہر جانے سے بھی روکا جائے۔

اس سے قبل چار جولائی کو دعا زہرہ کی میڈیکل رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروائی گئی تھی جس کے مطابق ان کی عمر 15 اور 16 سال کے درمیان اور 15 سال کے قریب ہے۔

دعا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے عدالت میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے دعا کے والدین کے مؤقف کی تصدیق کی ہے اور گذشتہ میڈیکل رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں دعا زہرہ کی عمر 17 سال بتائی گئی تھی۔

جبران ناصر کے مطابق ’اس طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نادرا کے دستاویزات درست ہیں اور دعا حقیقت میں 14 سال کی بچی ہے۔‘

جبران ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب جب میڈیکل بورڈ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دعا کم عمر ہے تو اس کے اغوا کے دائر مقدمے میں پولیس کو خود کارروائی کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ عدالت انھیں حکم جاری کرے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

یاد رہے کہ پولیس نے اپنے چالان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ لڑکی بالغ ہے اور وہ اپنے مرضی سے گھر سے گئی ہے لہذا اغوا کا مقدمہ نہیں بنتا۔

دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ ’پولیس اگر ٹال مٹول کا رویہ برقرار رکھتی ہے تو وہ پھر عدلیہ سے رجوع کریں گے۔‘

بی بی سی کے پاس موجود میڈیکل بورڈ کی اس رپورٹ میں دس رکنی بورڈ نے اتفاق رائے سے یہ حتمی فیصلہ دیا ہے کہ دعا زہرہ کی عمر 15 اور 16 سال کے درمیان اور پندرہ سال کے قریب ہے۔

اس ٹیم کی سربراہ ڈاؤ میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر صبا سہیل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق دعا زہرہ کا تفصیلی جسمانی معائنہ کیا گیا اور ان کے دونوں ہاتھوں، دونوں کہنیوں، پیلوس، دانتوں وغیرہ کے ایکسرے کیے گئے۔

جبران ناصر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو بچانے کے لیے پولیس اور عدلیہ دونوں میں بہتر طریقہ کار اور تربیت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ڈھائی مہینوں تک والدین کو اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنی پڑی جبکہ دعا خود سے بے خبر اور ناقابل تصور خطرے میں تھیں۔‘

عدالتی حکم پر دعا زہرہ کے کراچی میں میڈیکل ٹیسٹ

دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی حکم پر کراچی میں دو جولائی کو ان کے میڈیکل ٹیسٹ مکمل کیے گئے تھے۔ پولیس نے دعا زہرہ کو سروسز ہسپتال میں میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا جہاں ان کی ہڈیوں اور دانتوں کے ایکسرے، خون کے ٹیسٹ، جسمانی معائنہ سمیت دیگر ٹیسٹ مکمل کیے گئے تھے۔

جس کے بعد دعا زہرہ کو دانتوں کے ٹیسٹ کے لیے ڈاؤ ڈینٹل ہپتال لے جایا گیا۔ کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم دعا کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کے لیے ان کو لاہور سے کراچی لے کر آئی جہاں اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے دعا کو اپنی تحویل میں لیا تھا۔

میڈیکل بورڈ نے دعا کی والدہ کو بھی طلب کیا جنھوں نے بورڈ کے سامنے پیش ہو کر دعا کی زندگی سے متعلق سوالات کے جوابات دیے ہیں جبکہ میڈیکل بورڈ نے دعا زہرہ کے والد اور وکیل کو بھی طلب کیا۔

واضح رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت نے 25 جون کو جاری کیے جانے والے فیصلے میں دعا زہرہ کے دوبارہ میڈیکل کے لیے بورڈ بنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد پولیس ٹیم دعا کو لینے لاہور پہنچی تھی۔

گذشتہ ماہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لیے ایک دس رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ میں دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے آئینی درخواست دائر کی تھی اور میڈیکل سرٹیفیکیٹ کو چیلینج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر سوال یہ ہے کہ کسی کی بھی عمر کا تعین کرنے کے لیے حکام کیا طریقہ کا اختیار کرتے ہیں؟

عمر کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید بتاتی ہیں کہ کسی کی بھی عمر کا تعین پانچ مراحل سے کیا جاتا ہے، جس میں دستاویزات سے لے کر ہڈیوں کی پیمائش تک کے مراحل شامل ہیں۔

کوائف و تفصیلات

کسی بھی بچے یا بچی کی عمر کے تعین کا پہلہ مرحلہ کوائف لینا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق حکام پہلے اس کا بائیو ڈیٹا ریکارڈ کریں گے جس میں نام، والد کا نام، اگر شادی شدہ ہے تو شوہر کا نام، وہ عمر کتنی بتاتے ہیں، جسم پر شناخت کا نشان کیا ہے، ایسی چیزیں دیکھیں گے۔ اس کے بعد معائنے کی اجازت لی جاتی اور رضامندی کے لیے دستخط اور انگوٹھے کا نشان بھی لیا جاتا ہے۔

دستاویزات کی جانچ پڑتال

دوسرا مرحلہ دستاویزات کا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق یہ دیکھا جاتا ہے کہ دستاویزات میں کیا کیا دستیاب ہے، یعنی ہسپتال کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ، بلدیاتی سطح کا برتھ سرٹیفیکٹ، نادرا کا برتھ سرٹیفیکیٹ، اس کے بعد سکول ریکارڈ اگر کوئی دستیاب ہو یا اور کوئی دستاویز جیسے دعا زہرہ کیس میں ان کے والدین کا نکاح نامہ ہے۔

جسمانی معائنہ

عمر کے تعین کے تیسرے مرحلے میں اس لڑکے یا لڑکی کا جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق چاہے وہ بچہ ہو یا چاہے بچی، ان کا قد، وزن ، جسمانی خدو خال یا بلوغت کی علامات جیسے بغلوں کے بال وغیرہ، داڑھی، موچھیں وغیرہ، جبکہ لڑکیوں میں چھاتی کی نشوونما (بریسٹ گروتھ) ماہوری کا آنا یا شروع ہونا شامل ہے، اس سب کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

دانتوں سے عمر کا اندازہ

عمر کا اندازہ لگانے کے لیے دانتوں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید بتاتی ہیں کہ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ دانت کتنے موجود ہیں، وہ گنے جانتے ہیں، ساتھ میں دونوں جبڑوں کا پورا کا پورا ایکسرے بھی کیا جاتا ہے۔

ایکسرے کرنے کے بعد دانتوں کا ماہر یہ بھی بتاتا ہے کہ جو دانت کی جڑیں ہیں ان کی سطح کیا ہے اور دانتوں کی تعداد سے بھی عمر کا پتہ چلتا ہے اور دوسرا ان جڑوں سے بھی مدد ملتی ہے۔

ہڈیوں کی پیمائش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہڈیوں کی پیمائش بھی عمر کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید مزید بتاتی ہیں کہ پانچویں مرحلے لڑکے یا لڑکی کی کہنی، کلائی، کندھے کی ہڈی کا ایکسرے کریں گے۔ اس کے علاوہ پیلوس کا بھی ایکسرے کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ماہر ریڈیولوجسٹ یہ بتاتے ہیں کہ کے ہڈیوں کی عمر کتنی ہے، اس کے بعد ہڈیوں کی عمر، دانتوں کی عمر، فزیکل عمر، جو دستاویزات میں عمر آگئی، ان سب کے مشاہدہ اور مطالعہ کرکے ایک اوسط پر لاکر عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

اگر تمام پیمائشیں اورٹیسٹ درست انداز میں کی گئی ہوں تو اس میں غلطی کی گنجائش میں ایک سال کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ایوریج عمر نکالی جاتی ہے، جیسے عمر 15 سے 16 سال مگر 15 سال کے قریب۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عمر کے تعین میں ہمیں جن ماہرین کی اشد ضرورت ہوتی ہے ان میں ریڈیولوجسٹ یعنی ایکسرے کا ماہر، ڈینٹل سرجن، سول سرجن، پولیس سرجن، ایک معائنہ کار ڈاکٹر اورگائناکولوجسٹ شامل ہیں۔ کوشش تو ہوتی ہے کہ ایک سے دو روز میں رپورٹ دے دی جائے لیکن جب سارے ماہر شامل ہوجاتے ہیں تو پھر ہر کسی کو اسی حساب سے وقت درکار ہوتا ہے۔‘