ڈکیتی کی شکار برطانیہ پلٹ خاتون کا بھائی سمیت ملزمان کی شناخت سے انکار، عدالت کا رہائی کا حکم

  • احتشام احمد شامی
  • صحافی
منگلا

صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں منگلا کینٹ کے علاقے میں 22 جون کو ڈکیتی کا شکار بننے والی برطانیہ پلٹ خاتون نے اپنے بھائی سمیت دیگر گرفتار ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں لوٹنے والا ان کا بھائی یا ان کے دوست نہیں بلکہ انھیں ناجائز طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔

خاتون کی جانب سے یہ موقف اختیار کرنے کے بعد جہلم کے سینیئر سول جج نے اس کیس میں گرفتار تین افراد کو فوری رہا کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔

عدالت کی جانب سے یہ احکامات اس وقت دیے گئے جب مقامی پولیس نے تینوں مبینہ ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ان کے چھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

جمعرات کے روز اس کیس کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ڈکیتی کا شکار بننے والی خاتون بھی عدالت میں پیش ہوئیں اور انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جن ملزمان نے انھیں اسلحے کی نوک پر لوٹا تھا وہ پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے افراد (بشمول ان کے بھائی) نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے تعلق رکھنے والی خاتون 22 جون کو برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ پر اُن کے بھائی اور بھابھی نے انھیں خوش آمدید کہا اور اپنے ساتھ کار میں بٹھا کر میرپور کی طرف روانہ ہوئے تھے۔

اس گاڑی کو خاتون کے بھائی خود ڈرائیو کر رہے تھے اور جب وہ منگلا کے علاقے میں بائی پاس روڈ پر پہنچے تو عقب سے آنے والی ایک کار نے انھیں زبردستی روکا اور کار میں سوار دو افراد نے اسلحے کی نوک پر ان سے آٹھ ہزار پاؤنڈ، طلائی زیورات سمیت انگلینڈ سے لایا جانے والا سامان لوٹ لیا تھا۔

اس مقدمے کے مدعی خاتون کے بھائی ہی تھے۔

تاہم بعدازاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عامر خان نیازی نے میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا کی مدد سے دونوں مبینہ ڈکیت گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ کال ریکارڈ سے پتہ چلا کہ دونوں ملزمان خاتون کے بھائی سے رابطے میں تھے جس کی بنیاد پر ان کی گرفتاری کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشن

خاتون برطانیہ سے سیالکوٹ ایئرپورٹ پہنچی تھیں

عدالتی سماعت میں کیا ہوا؟

جمعرات کے روز ہونے والی سماعت میں ڈکیتی کا شکار بننے والی خاتون نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے بھائی نے اس کے ساتھ واردات نہیں کی اور یہ کہ پولیس نے اصل ڈاکوؤں کو پکڑنے کی بجائے مدعی مقدمہ (خاتون کے بھائی) اور اُن کے دو دوستوں کو ناجائز طور پر گرفتار کر لیا ہے۔

عدالت نے اس موقع پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور تفتیشی آفیسر کی سخت سرزنش کی اور پولیس کو حکم دیا کہ وہ اصل ملزمان کو گرفتار کرے۔ عدالت کے حکم پر زیرحراست تینوں ملزمان کی ہتھکڑیاں کمرہ عدالت میں کھولنے کا حکم دیا اور پولیس کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔

ملزمان کے وکلا اور پولیس کے متضاد دعوے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ملزمان کے وکلا نے کمرہ عدالت کے باہر میڈیا کو بتایا کہ تینوں بے گناہ افراد کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، کیونکہ پولیس نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے انھیں حراست میں لیا تھا۔

دوسری طرف ڈسٹرکٹ پولیس جہلم کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری جیوفینسنگ اور کال ڈیٹا کی روشنی میں کی گئی تھی۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم پر تینوں زیرحراست ملزمان کو رہا کر دیا گیا تاہم پولیس کی طرف سے ان تینوں ملزمان کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور اب یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ ملزمان کو مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے بعد رہا کرتی ہے یا سزا سُناتی ہے۔

رہائی کے بعد متاثرہ خاتون کے بھائی (جنھیں گرفتار کیا گیا تھا) نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ تھائے کے ایس ایچ او اور انچارج سی آئی اے سٹاف نے اُن کے ساتھ ظلم کیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اُن کی رہائی کے عوض ساڑھے نو لاکھ روپے نقد اور دو طلائی چوڑیاں بطور رشوت وصول کی گئیں اور بعدازاں اسی رقم اور زیور کو برآمدگی میں ظاہر کیا گیا۔

خاتون کے بھائی کا کہنا تھا کہ اصل ملزمان گرفتار کر کے برآمدگی کرنے کی بجائے ہمیں ڈاکو بنا کر پیش کیا گیا۔ انھوں نے سوال پوچھا کہ اصل ملزمان کہاں ہیں؟ برطانوی پاؤنڈ کس نے کہاں ایکسینج کروائے؟ طلائی زیورات کہاں فروخت ہوئے؟

ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کے اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بھی رٹ دائر کریں گے۔

ان الزامات کے جواب میں جہلم پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان سے دو چوڑیاں برآمد کی گئی تھیں جو کہ کٹی ہوئی تھیں (یعنی انھیں موقع واردات پر خاتون کے ہاتھ سے کاٹ کر اتارا گیا تھا)۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ساڑھے نو لاکھ کی رقم برآمد ہوئی۔

انھوں نے اس الزام کی تردید کی کہ پولیس نے اس مقدمے میں کسی سے رشوت طلب کی۔

’واقعہ کیسے پیش آیا‘

اس واقعے کی درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے تعلق رکھنے والی خاتون 22 جون کو برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ پر اُن کے بھائی اور بھابھی نے خوش آمدید کہا اور اپنے ساتھ کار میں بٹھا کر میرپور کی طرف روانہ ہو گئے۔

اس گاڑی کو خاتون کے بھائی خود ڈرائیو کر رہے تھے اور جب وہ منگلا کے علاقے میں بائی پاس روڈ پر پہنچے تو عقب سے آنے والی ایک کار نے انھیں زبردستی روکا اور کار میں سوار دو افراد نے انھیں اسلحے کی نوک پر لوٹنا شروع کر دیا۔

اس واردات میں ڈاکوؤں نے آٹھ ہزار پاؤنڈ ، طلائی زیورات سمیت انگلینڈ سے لایا جانے والا سامان لوٹ لیا اور اپنی گاڑی میں منتقل کر لیا، متاثرہ خاتون کے مطابق اس میں وہ سامان بھی شامل تھا جو کہ انگلینڈ میں مقیم ان کے چند رشتہ داروں اور دوستوں نے کشمیر میں مقیم اپنے عزیزوں کو دینے کے لیے بھجوایا تھا۔

واردات کے بعد خاتون کے بھائی نے مقامی منگلا کینٹ پولیس سے رابطہ کیا جنھوں نے ان کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

’جیوفینسنگ اور کال ڈیٹا ملزمان کی گرفتاری کا سبب بنا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس واردات کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عامر خان نیازی نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس واقعے کے فوری بعد مقامی پولیس کے علاوہ سی آئی اے کو بھی ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا گیا تھا جنھوں نے جیوفینسنگ آلات کی مدد سے ملزمان کی کالز ٹریس کیں۔

ڈی پی او کے مطابق ان سائنسی آلات کی مدد سے جائے وقوعہ کے اردگرد مخصوص ایریا کے علاقہ کی جو کالیں ریکارڈ میں آئیں، ان میں سے ملزمان کی کالیں بھی شناخت ہو گئیں۔

جب ملزمان کی کالیں ٹریس ہو گئیں تو جن موبائل نمبروں سے یہ کالیں کی گئیں ان افراد کو گرفتار کیا گیا، اور کالوں کی سی ڈی آرز یعنی کال ڈیٹا نکلوایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

مقامی پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے یہ باعث حیرت تھی کہ گرفتار ہونے والے ملزمان واردات سے پہلے اور بعد میں بھی اس کیس کے مدعی یعنی خاتون کے بھائی سے، جنھوں نے انھیں ایئرپورٹ سے لیا تھا اور گاڑی چلے رہے تھے، مکمل رابطے میں تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے تو متاثرہ خاتون کے بھائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا لیکن جب انھیں کال ڈیٹا دکھایا گیا تو انھوں نے اقرار کر لیا جس پر پولیس نے خاتون کے بھائی کو گرفتار کر لیا۔

اس کیس کے تفتیشی افسر کے مطابق متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ انھیں واردات سے زیادہ اس بات کا دکھ ہے کہ ان کے سگے بھائی نے ان کے ساتھ یہ سب کچھ کیا۔

ایس ایچ او تھانہ منگلا کینٹ ساجد بٹ نے بدھ کے روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملزم اور اس کے دو ساتھیوں کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے ان کا ابتدائی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ اس حدود میں پہلے بھی اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ڈکیتی کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں اور اس حوالے سے تفتیش کی جا رہی کہ آیا یہ ملزمان تو ان وارداتوں میں ملوث نہیں تھے۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھ واردات ہونے کے باوجود متاثرہ خاتون اپنے ملزم بھائی کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں لیکن ’ہم قانون کے پابند ہیں اور قانونی کارروائی پوری کریں گے۔‘