سنگین غداری کا مقدمہ: اٹک، چکوال کے بعد عمران ریاض خان لاہور پولیس کی تحویل میں

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عمران ریاض خان

،تصویر کا ذریعہ@imranriazkhan

اینکر عمران ریاض خان کو چکوال کی ایک مقامی عدالت میں پیشی کے بعد راہداری ریمانڈ پر لاہور پولیس لے کر روانہ ہوگئی ہے جہاں کل 9 جولائی کو انھیں لاہور کی ایک عدالت میں سنگین غداری کے مقدمے میں پیش کیا جائے گا۔

آج صبح چکوال کی مقامی عدالت نے پولیس کے پانچ روز کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمران ریاض کو ’ٹرانزٹ ریمانڈ‘ پر لاہور پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

ایک روز قبل عمران ریاض کے وکیل عبدالقدیر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ لاہور کے سیشن جج نے اس حوالے سے ایک مراسلہ چکوال کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھی لکھا تھا۔

اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عمران ریاض کو تھانہ سول لائن کے انویسٹیگیشن آفیسر کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کے خلاف تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے۔

یاد رہے کہ عمران ریاض خان کو اس سے قبل اٹک سے چکوال کی پولیس حراست میں لے کر آئی تھی۔

گذشتہ روز عدالتی سماعت کے دوران عمران ریاض کے وکیل میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف 18 سے زائد مقدمات درج ہیں اور قانون کے مطابق 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے مگر 26 گھنٹے گزر چکے ہیں مگر عمران ریاض کو چکوال عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

وکیل نے استدعا کی تھی کہ عدالت قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے عمران ریاض کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کو پیش نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ راولپندی کی عدالت پہلے ہی پیکا آرڈینس کے تحت دفعات کو ایف آئی آر سے خارج کر چکی ہے جس کے بعد دوبارہ عمران ریاض کو اٹک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

انھوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی تھی کہ عمران ریاض کے کیس کو انسانی بنیادوں پر عدالت دیکھے کیونکہ عمران ریاض نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لائیو رپورٹنگ کی اور کالعدم تنظیموں سے عمران ریاض کو خطرہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@ImranRiazKhan

اس پر سول جج نے مقامی تھانہ سے ریکارڈ طلب کرنے سمیت عمران ریاض کو پیش نہ کیے جانے سے متعلق تفصیلات طلب کرنے کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے دوران متعلقہ تفتیشی افسران نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ قانون کے مطابق چکوال پولیس ابھی عمران ریاض کو مزید اپنی حراست میں رکھ سکتی ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض کو کل (جمعہ) عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر سول جج یاسر بلال نے متعلقہ حکام کو عمران ریاض کی گرفتاری سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے۔

اٹک سے رہائی چکوال میں گرفتاری

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس سے قبل اینکر پرسن عمران ریاض خان اٹک کی مقامی عدالت سے رہائی پاتے ہی ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیے گئے تھے۔ جمرات کی صبح اٹک کی مقامی عدالت نے اینکر عمران ریاض خان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر عمران ریاض کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں، تو انھیں رہا کیا جاتا ہے۔

تاہم عمران ریاض خان کے خلاف ضلع چکوال میں بھی ایک مقدمہ درج ہے جس کی بنا پر چکوال پولیس نے انھیں اٹک کی مقامی عدالت سے رہائی ملنے کے فوراً بعد ہی گرفتار کر لیا اور اپنے ساتھ چکوال لے گئی تھی۔

اینکر عمران ریاض خان کے خلاف اٹک کے سٹی تھانہ میں یوٹیوب چینل کے پروگرام کے ذریعے پاکستان کی فوج پر الزامات عائد کرنے اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کے پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز راولپنڈی میں ایف آئی اے عدالت کے سپیشل مجسٹریٹ نے اینکر عمران ریاض خان کے خلاف ضلع اٹک میں درج ایف آئی آر سے پیکا ایکٹ کے تحت درج دفعات ختم کرنے کے احکامات صادر کرتے ہوئے انھیں اٹک سول جج کے سامنے دوبارہ پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

واضح رہے کہ بدھ کی صبح اینکر عمران ریاض خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اٹک کی مقامی عدالتوں کے روبرو پیش کیا گیا تھا تاہم دونوں عدالتوں کے ججوں نے اس کیس کو اپنے اپنے ’دائرہ اختیار سے باہر‘ قرار دیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینکر کے وکلا کو لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے جبکہ اٹک کی عدالت نے انھیں راولپنڈی ایف آئی اے کی عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اٹک کی عدالت سے احکامات موصول ہونے کے بعد اینکر عمران خان کو راولپنڈی میں ایف آئی اے عدالت کے سپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کے سامنے بدھ کی شام پیش کیا گیا۔

مختصر سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سُنا دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق عمران ریاض خان کے خلاف پیکا کی تمام دفعات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں دیگر فوجداری دفعات پر ضمانت کے لیے اٹک سول جج کے سامنے دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

راولپنڈی ایف آئی اے کی عدالت نے پولیس کو انھیں بدھ کی رات 12 بجے سے قبل اٹک کی عدالت میں دوبارہ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter@ImranRiazKhan

،تصویر کا کیپشن

اٹک میں درج ایف آئی آر کا عکس

اس موقع پر سپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ان کے ’دائرہ اختیار‘ میں نہیں اسی لیے ملزم کو اٹک عدالت میں پیش کیا جائے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اس ایف آئی آر کی بنیاد پر ملزم کو ان کے سامنے پیش ہی نہیں کیا جا سکتا تو وہ کیس کیسے سنیں؟

اس موقع پر عمران ریاض خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اٹک کی عدالت نے یہاں بھیجا کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کی عدالت کا دائرہ اختیار میں ہے۔

وکیل کا عدالت کے روبرو مزید کہنا تھا کہ 'کیا کوئی ہے جو اس کیس کو آگے لے کر جانا چاہتا ہے۔ ہماری استدعا ہے کہ عمران ریاض خان پر دائر اس مقدمے کو خارج کیا جائے۔'

اٹک کی عدالت میں دورانِ سماعت کیا ہوا تھا؟

گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے بعد ضلع اٹک کی ایک مقامی عدالت نے بھی اینکر عمران ریاض خان کیس کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے انھیں ایف آئی اے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سول مجسٹریٹ اٹک نے کیس پر مختصر کارروائی کے بعد فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کیس ان کی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں، جس کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے عمران ریاض کا کیس ایف آئی اے کورٹ میں بھیج دیا گیا۔

انھی احکامات کی روشنی میں بدھ کی شام عمران ریاض کو راولپنڈی ایف آئی اے عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزم کے وکیل عامر حسنین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اٹک عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے چنانچہ یہ ان کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا۔

وکیل عامر حسنین کے مطابق بدھ کے روز ضلع چکوال کی پولیس بھی عمران ریاض کو گرفتار کرنے اٹک آئی تھی جس کا مطلب ہے کہ اُن کے موکل کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اینکر عمران ریاض کو منگل کی شب ضلع اٹک کی پولیس نے گرفتار کیا تھا جس فوراً بعد ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی۔ وکلا کا موقف تھا کہ عمران ریاض نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی تھی تاہم اس کے باوجود انھیں اسلام آباد کی حدود سے گرفتار کر لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/Imran Riaz Fans

توہین عدالت کی اس درخواست پر سماعت بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کی۔ چیف جسٹس کی جانب سے اس درخواست کو نمٹاتے ہوئے قرار دیا گیا تھا کہ چونکہ عمران ریاض کی گرفتاری صوبہ پنجاب کی حدود میں ہوئی ہے لہذا لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ ہر عدالت کا اپنا دائرہ اختیار ہے اور لاہور ہائی کورٹ اس معاملے کو دیکھ سکتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کا احوال

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ رات کو رپورٹ آئی تھی کہ عمران ریاض کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے، جس پر عمران ریاض کے وکیل نے کہا کہ ’عمران ریاض نے مجھے فون پر بتایا کہ وہ اسلام آباد ٹول پلازہ پر ہیں۔ لہذا ان کی گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے ہوئی۔‘

سماعت کے دوران اینکر و صحافی عمران خان ریاض کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے واضح احکامات دیے تھے، جن کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے عمران ریاض خان کی گرفتاری نہیں کی بلکہ پنجاب پولیس نے انھیں گرفتار کیا۔

جس پر اینکر عمران ریاض خان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اسلام آباد پولیس کہہ رہی ہے گرفتاری پنجاب سے ہوئی، ہم کہہ رہے ہیں اسلام آباد سے ہوئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کہے کہ اسلام آباد سے گرفتاری ہوئی تو وہ آرڈر اس عدالت کے سامنے لے آئیے گا، ہم اس کیس میں کوئی آبزرویشن نہیں دے رہے۔

صحافی و اینکر عمران ریاض خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں الگ سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

انھوں نے عدالت میں کہا کہ ’لاہور ہائی کورٹ کو رات کی ایف آئی آر سے متعلق نہیں بتایا گیا تھا اور وہ چھپائی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ میں پولیس نے 17 مقدمات درج ہونے کی رپورٹ دی تھی۔‘

واضح رہے کہ وزیرِ قانون پنجاب ملک احمد خان نے عمران ریاض کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں پنجاب میں درج متعدد مقدمات کی بنیاد پر پنجاب کی حدود سے گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ عمران ریاض خان نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عمران ریاض خان جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے آئے تھے تو انھوں نے اٹک میں درج مقدمات کا ذکر کیا تھا جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ ’اٹک اس عدالت (اسلام آباد ہائیکورٹ) کے دائرہ سماعت میں نہیں اس لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے۔‘

نامہ نگار کے مطابق منگل کی شب عمران ریاض کی گرفتاری کے بعد بھی ان کے وکلا کی جانب سے رات گئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا اور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی جس میں پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے سربراہوں کو فریق بنایا گیا ہے۔

’کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ مجھے اندر بند کر دیں، جان سے مار دیں‘

عمران ریاض نے گرفتاری دینے سے قبل گاڑی میں بیٹھ کر ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی ضمانت کے لیے اسلام آباد آ رہا تھا اور یہ بالکل اسلام آباد کی حدود ہیں جہاں سے مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘

اس ویڈیو میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’(چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اطہر من اللہ نے مجھے ضمانت دے رکھی ہے اور ایسی صورتحال میں مجھے گرفتار کرنا غلط ہے۔ کل صبح مجھے اُن ہی کی عدالت میں پیش ہونا تھا اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی ضمانت میں توسیع حاصل کرنی تھی۔‘

عمران ریاض کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ مجھے اندر بند کر دیں، جان سے مار دیں، یہ کچھ بھی کر دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میرے خیال میں ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے۔‘