سو یونٹ تک خرچ کرنے پر مفت بجلی: پنجاب حکومت کا پروگرام صرف سیاسی چال یا حقیقی فائدہ؟

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو، لاہور
بجلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے سب سے گنجان آباد صوبے پنجاب کی حکومت نے نوے لاکھ کے قریب ایسے صارفین کو مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جو ماہانہ سو یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِاعلٰی حمزہ شہباز نے حال ہی میں یہ اعلان کیا کہ پنجاب حکومت اگلے ایک برس تک ان تمام گھریلو صارفین کو مفت بجلی دے گی جو سو یونٹ یا اس سے کم ماہانہ بجلی خرچ کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ایسے صارفین جو اس ریلیف پروگرام سے مستفید ہوں گے ان کی سالانہ شرح 44 سے 90 لاکھ کے لگ بھگ خاندان بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس پروگرام کے لیے سو ارب روپے رکھے ہیں۔

حمزہ شہباز کے مطابق ’حکومت کی طرف سے یہ ایک ٹارگٹڈ سبسڈی ہے جس سے صوبے کا غریب ترین طبقہ مستفید ہو گا۔‘

وزیرِاعلٰی پنجاب کی جانب سے کیے گئے اس اعلان کے بعد انھیں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اسے محض ایک ’سیاسی چال‘ اور رواں ماہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات پر ’اثرانداز ہونے کی کوشش‘ قرار دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعتاً آج کے دور میں ایسے خاندان موجود ہوں گے جو شدید گرمی کے موسم میں صرف سو یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں؟

تو سوال یہ ہے کہ کیا صارفین کی تعداد کے حوالے سے پنجاب حکومت کا تخمینہ درست ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو ماہانہ سو یونٹ بجلی خرچ کرنے والے افراد کو مفت بجلی دے کر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے کس حد تک بچایا جا سکتا ہے؟

ساتھ ہی ضمنی انتخانات کے قریب، جس موقعے پر یہ اعلان کیا گیا ہے، کیا یہ ایک سیاسی چال ہے یا واقعتاً اس سے عام آدمی فائدہ اٹھا پائے گا؟

ان تمام سوالات پر ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی آرا مختلف ہیں تاہم زیادہ تر یہ سمجھتے ہیں کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود پنجاب حکومت کے لیے اس نوعیت کی ٹارگٹڈ سبسڈی دینا زیادہ مشکل نہیں۔

کیا ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف سو یونٹ استعمال کرتے ہیں؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) سے منسلک ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ساجد امین کے خیال میں ایسے لوگ موجود ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس سبسڈی کے ذریعے غریب طبقے کے جن گھرانوں کو ٹارگٹ کرنا چاہ رہی ہے ’یہ غالباً وہ لوگ ہیں جو ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں اور ایک بلب یا ایک پنکھا استعمال کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر ساجد امین کے مطابق پاکستان میں شماریات کے ادارے کے سنہ 2017 کے سروے کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ 25 فیصد گھر ایسے ہیں جو ایک کمرے پر مشتمل ہیں یا جنھیں ایک کمرے کے مکان کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر انجینیئر طاہر بشارت چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’موسم کے حساب سے ایسے صارفین کی تعداد میں کمی اور اضافہ ہوتا رہتا ہے جو سو یا اس سے کم یونٹ ماہانہ استعمال کرتے ہیں۔‘

انجینیئر طاہر بشارت چیمہ کے خیال میں صوبہ پنجاب میں ایسے صارفین کی تعداد اوسطاً 76 لاکھ کے لگھ بھگ ہو گی جو موسمِ سرما میں بڑھ جاتی ہے ’تاہم پنجاب حکومت نے اگر 90 لاکھ تک کا تخمینہ لگایا ہے تو انھوں نے اس حوالے سے سروے بھی کیا ہو گا۔‘

ان کے خیال میں صوبائی حکومت نے ’اس سبسڈی کے لیے سو ارب روپے کا جو تخمینہ لگایا ہے وہ موزوں نظر آتا ہے بشرطیکہ حکومت صارفین کی طرف سے سبسڈی کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے میں کامیاب ہو جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Punjab Govt

’یہ ایک سیاسی اقدام نظر آتا ہے‘

تاہم دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کو لکھے ایک خط میں درخواست کی ہے کہ پنجاب حکومت کے اس منصوبے پر عملدرآمد سے روکا جائے۔

درخواست میں ان کا کہنا ہے کہ ’یہ منصوبہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور اس کا اعلان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

فواد چوہدری کا مؤقف ہے کہ وزیرِاعلٰی پنجاب اس وقت صرف ریگولیٹری انتظامات کو دیکھ سکتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واپڈا انجینیئرز ایسوسی ایشن کے صدر انجینیئر عبدالوہاب گجر کا کہنا تھا کہ وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ’یہ محض ایک سیاسی اقدام ہے۔‘

ان کے خیال میں آج کے دور میں بجلی سے چلنے والے اتنے آلات موجود ہیں کہ کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک ماہ میں سو یا اس سے کم یونٹ استعمال کرے۔

’اگر کسی کے ایک کمرے کے گھر میں بھی دو پنکھے اور دو بلب چلتے ہوں تو بہت مشکل ہے کہ اس کا بل سو یونٹ سے کم ہو۔‘

انجینیئر عبدالوہاب گجر کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق ایسے صارفین کی تعداد بہت ہی کم ہو گی جو ماہانہ سو یونٹ سے کم بجلی خرچ کرتے ہوں۔

’اس لیے اس سکیم کا کچھ زیادہ فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مفت بجلی کا غریب طبقے کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟

ایس ڈی پی آئی سے منسلک ڈاکٹر ساجد امین کی نظر میں حکومتِ پنجاب کی طرف سے مفت بجلی کی یہ سکیم ایک براہِ راست سبسڈی ہے جس کا فائدہ صرف انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہو گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انتہائی غریب طبقے کے افراد کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دے۔

’میرے خیال میں یہ سکیم ٹارگٹڈ سبسڈی کی ایک بہترین مثال ہے۔‘

وہ اس کی وضاحت اعدادوشمار اور ماضی کی سبسڈیز کی مثال سے کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ساجد امین کے مطابق گزشہ حکومت کی طرف سے تیل کی مصنوعات پر جو سبسڈی دی گئی وہ ٹارگٹڈ سبسڈی نہیں تھی اس لیے اس کا زیادہ فائدہ امیر لوگوں کو ہوا۔

’جو 250 ارب روپے کی سبسڈی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں منجمد کرنے کی مد میں دی گئی اس کا سب سے زیادہ فائدہ اس امیر طبقے کے افراد کو ہوا جن کے پاس بڑی گاڑیاں ہیں اور انھیں اس سبسڈی کی خاص ضرورت نہیں تھی۔‘

ڈاکٹر ساجد امین کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس ٹارگٹڈ سبسڈی کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ اس سے وہی طبقہ مستفید ہوتا ہے جس کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے خیال میں سو یونٹ خرچ کرنے پر مفت بجلی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو ایسا کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صرف سو یونٹ بجلی خرچ کرنے والوں کو ماہانہ کتنی بچت ہو گی؟

ایس ڈی پی آئی سے منسلک ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر ساجد امین کا کہنا تھا کہ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اگر سو یونٹ تک خرچ کرنے والے صارفین کو فی یونٹ بجلی 12 سے 13 روپے کی ملتی ہے تو ان کا ماہانہ بجلی کا بل 1200 سے 1300 روپے تک آتا ہے۔

ان کے خیال میں اگر دیکھا جائے تو یہ وہ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان ہیں جن کو حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی سکیموں کے ذریعے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے خاندانوں کی تعداد بی آئی ایس پی کا لگ بھگ 40 فیصد بنتا ہے۔

’اگر حکومت ان خاندانوں کا ماہانہ 1300 روپے کے قریب بجلی کا بل خود ادا کر دیتی ہے تو یہ ان انتہائی کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ہو گا۔ یہ رقم جو وہ بجلی کے بل سے بچائیں گے اس کو وہ خوراک، ادویات یا دیگر اشیا ضروریہ خریدنے کے لیے استعمال کر پائیں گے۔'

ڈاکٹر ساجد امین کے خیال میں اس ایک طریقے سے حکومت ان خاندانوں کو بی آئی ایس پی کے دو ہزار روپے کے ساتھ اضافی 1300 روپے بھی دے رہی ہے جو ان کے لیے ایک بہت بڑا مالی فائدہ ہے۔

کیا مشکل مالی حالات میں حکومت سبسڈی برداشت کر سکتی ہے؟

پیپکو کے سابق مینیجنگ ڈائیریکٹر انجینیئر طاہر بشیر چیمہ کے خیال میں حکومتِ پنجاب نے اس سبسڈی کے لیے جو ایک سو ارب روپے کی رقم مختص کی ہے 96 لاکھ خاندانوں کے لیے کافی ہونی چاہیے۔

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس کے لیے حکومت کو صارفین کی طرف سے سبسڈی کے ممکنہ غلط استعمال کر روکنا یقینی بنانا ہو گا۔

’اس کے لیے حکومت کو یقینی بنانا ہو گا کہ بجلی چوری نہ ہو اور سو یونٹ کا حدف حاصل کرنے کے لیے صارفین دیگر غیر قانونی طریقے استعمال نہ کریں۔‘

انجینیئر طاہر بشیر چیمہ کے مطابق حکومت کی طرف سے ’ٹارگٹڈ سبسڈی‘ دینا ایک اچھا اقدام تھا اور ہمسایہ ملک انڈیا کے شہر نئی دہلی میں مقامی حکومت کی طرف آج بھی انتہائی غریب طبقے کو اسی نوعیت کے پروگرام کے ذریعے مفت بجلی دی جاتی ہے جو کامیابی سے چل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے بظاہر چیک اینڈ بیلنس کا نظام رکھا ہے، جس میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کون سے ایسے صارفین ہیں جو سو یونٹ یا اس سے کم خرچ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’بہتر ہوتا اگر اس پروگرام کو بجٹ کا حصہ بنایا جاتا‘

ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر ساجد امین کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب کے لیے مشکل مالی حالات کے باوجود سو ارب روپے اس پروگرام پر خرچ کرنا کوئی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ’یہ کوئی بہت زیادہ بڑی رقم نہیں۔‘

تاہم ان کے خیال میں بہتر ہوتا اگر پنجاب حکومت اس قسم کی سکیم کو باقاعدہ طور پر بجٹ کا حصہ بناتی اور ایک منظم طریقے سے اس کو چلایا جاتا۔

’اگر ایک نظام کے ذریعے باقاعدہ طور پر یہ سبسڈی دی جاتی تو حکومت کو اس تنقید کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا کہ یہ کام وہ سیاسی فائدے کے لیے کر رہی ہے اور اس مالی فائدے کو نچلے طبقے تک منتقل کرنے میں بھی آسانی ہوتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر ساجد امین کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے اس پروگرام کا اعلان تو کر دیا ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اس کا آغاز کتنی جلدی اور کب کرتی ہے۔‘

ان کے خیال میں ’اس نوعیت کے پروگرامز میں ہر سیاسی جماعت اپنا کچھ نہ کچھ سیاسی فائدہ بھی ضرور دیکھتی ہے تاہم اگر اس پروگرام سے انتہائی غریب طبقے کا فائدہ ہوتا ہے تو اس سیاسی فائدے میں کوئی خاص حرج نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا مفت سولر پینل مسئلے کا مستقل حل ہو پائیں گے؟

پنجاب کے وزیرِاعلٰی حمزہ شہباز نے مفت بجلی کے اس پروگرام کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگلے مرحلے میں وہ ایسے غریب خاندانوں کو سولر پینل بھی فراہم کریں گے تاکہ وہ بجلی پر انحصار سے مستقل چھٹکارا حاصل کر پائیں۔

تاہم ماہرین کے خیال میں سولر پینل دینے کا پروگرام پیچیدہ ہو گا اور اس کے ذریعے بجلی پر مکمل انحصار سے نجات حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔

پیپکو کے سابق مینیجبگ ڈائیریکٹر انجینیئر طاہر بشیر چیمہ کے خیال میں سولر پینل کوئی زیادہ کارآمد حل نہیں۔

’ہمارے ہاں صارفین میں اس کو استعمال کرنے کی سمجھ بوجھ کی بھی کمی ہے اور اس کے ساتھ بہت سے اضافی خرچ جڑے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اس کا استعمال ترک کر دیتے ہیں۔‘

ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر ساجد امین کے خیال میں اکیلے حکومت کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر مفت سولر پینل دینا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وہ صحیح طریقے سے استعمال ہوتے رہیں، بہت مشکل ہو گا۔

ان کے خیال میں اس نوعیت کی سکیم اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے اگر اس میں حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور خود صارفین کا اشتراک بھی ہو۔