چائلڈ پورنوگرافی: راولپنڈی میں مجرم کی سزا کے خلاف اپیل، عدالت نے قید اور جرمانے میں اضافہ کر دیا

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چائلڈ پورنوگرافی

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے چائلڈ پورنوگرافی کے کیس میں سزا پانے والے مجرم کی جانب سے اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے قید اور جرمانے دونوں میں ہی اضافہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ’ایسے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔‘

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد تنویر اکبر نے چائلڈ پورنوگرافی کے مقدمے میں فیصلے پر نظرثانی اور دوبارہ ٹرائل کے بعد مجرم کی قید میں مزید ایک سال اور جرمانے میں 11 لاکھ روپے کا اضافہ کیا جبکہ مختلف دفعات کے تحت مجرم کو مجموعی طور پر 22 سال قید اور 22 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے نابالغ بچے سے ریپ کے دوران اس کی ویڈیو بنانے اور بعدازاں بلیک میل کر کے رقوم ہتھیانے اور قتل کی دھمکیاں دینے کو ’گھناؤنا فعل‘ قرار دیا اور ریمارکس دیے کہ ’معصوم بچوں کے ساتھ اس قسم کی زیادتی کے مرتکب افراد معاشرے کا ناسور ہیں جو کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔‘

دوبارہ ٹرائل کے دوران عدالت میں مجرم کو اس کی بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائی گئیں۔

فیصلے پر نظر ثانی اور دوبارہ ٹرائل کے بعد ملزم کی قید میں مزید ایک سال اور جرمانے میں 11 لاکھ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

’ملزم نے بچے سے ریپ کیا، ویڈیو بنائی اور پھر بلیک میل کیا‘

یہ کیس گذشتہ سال 29 جولائی کو بچے کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ کلر سیداں میں درج ہوا تھا جس میں الزام تھا کہ 21 سالہ ملزم نے ان کے بچے سے ریپ کیا اور اس کی ویڈیو بنائی جس کے بعد ملزم بچے کو بلیک میل کرتا رہا، قتل کی دھمکیاں دیتا رہا اور رقم بھی وصول کرتا رہا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی سید محمد الیاس نے رواں سال 30 مئی کو اس مقدمہ میں ملزم کو 292-A کے تحت سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے جبکہ 292-C کے تحت 14سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

تاہم عدالت نے شریک ملزم کو بری کر دیا تھا۔

سزا یافتہ ملزم نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر راولپنڈی بنچ کے جسٹس سہیل ناصر نے اس مقدمہ کو ریمانڈ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود اس مقدمے کی سماعت کریں۔

گذشتہ روز ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے ملزم عثمان کو 292-A کے تحت سات سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ عدالت نے ملزم کو 292-C کے تحت 15سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کی دونوں سزاؤں پر بیک وقت عملدرآمد ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

’ایسے مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھیجا جائے‘

سائبر کرائم حکام کے مطابق یہ ایسا پہلا کیس ہے جس میں کیس کے ری ٹرائل میں سزا میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے اس طرز کے کیسز میں سیشن کورٹ میں سزا کے بعد ہائی کورٹ میں ہی اپیل کی جاتی رہی ہے۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل وحید انجم کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ایسے مقدمات جن میں کمسن بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو، اور ان کو بلیک میل بھی کیا جاتا ہو، کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسے مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھیج دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ اس سے معاشرے میں ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔‘

ان کا موقف تھا کہ زینب بل پر نظر ثانی یا ترمیم کے ذریعے ایسے کیسز انسداد دہشت گردی عدالت میں بھجوائے جا سکتے ہیں۔

چائلڈ پورنو گرافی سے کیا مراد ہے اور اس کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

انسدادِ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2015 کی چائلڈ پورنو گرافی کی شق کے مطابق اگر کوئی شخص کسی بچے کی فحش تصویر یا ویڈیو بناتا ہے یا جنسی استحصال کے دوران ایسا کرتا ہے تو یہ تصاویر بنانے والا، اسے فروخت کرنے والا یا اسے منتقل کرنے والا جرم کا مرتکب ہو گا۔

اس کی سزا زیادہ سے زیادہ سات سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دنوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

متاثرہ بچے کے والدین یا کفیل حکام کو متعلقہ مواد انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے بھی درخواست کرسکتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی کسی بالغ شخص کی عریاں تصاویر یا ویڈیوز بناتا ہے، شیئر کرتا ہے یا فروخت کرتا ہے تو وہ بھی جرم کا مرتکب ہے جس کی سزا تین سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

سائبر کرائم کے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر کسی کو ہراساں کرتا ہے، ناشائستہ گفتگو کرتا ہے، یا ایسا عمل کرتا ہے جس سے ذہنی دباؤ ہو تو یہ بھی جرم ہے جس کی سزا تین سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔