مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: ’دیکھیے بازار خالی پڑا ہے، گاہک قیمت سن کر پلٹ جاتے ہیں‘

  • حمیرا کنول
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
bazazr

’ارے بھائی یہ دو سو کا تو نہیں ہے کم کرو۔۔۔ باجی اچھا پلاسٹک ہے لے لیں میں تو اس لیے دے رہا ہوں کہ آج کل کام نہیں ہے۔۔۔۔ ارے بھائی یہ شیشہ مجھے تین سو نہیں دو سو ستر کا چاہیے گھر واپسی کا کرایہ بھی تو دینا ہے۔۔۔‘

وہ بازار جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور جہاں آپ کو لگتا تھا کہ آپ بھیڑ میں گم ہو جائیں گے یا کوئی دوسرا گاہک آپ کی پسند کی ہوئی چیز نہ اٹھا لے وہاں اس بار جانے پر مجھے غیر معمولی خاموشی نظر آئی۔

سبز نیٹ سے بازار کے سٹالز کے درمیان بنی چھوٹی چھوٹی راہداریاں سنسان پڑی ہیں، یوں کہیے کہ گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ پشاور موڑ پر اسلام آباد کا سب سے بڑا ہفتہ وار بازار ہے جہاں ہفتے میں تین بار بازار لگتا ہے اور جو جڑواں شہروں میں اس بات کے لیے مشہور ہے کہ یہاں آپ کو سبزی فروٹ کے علاوہ امپورٹڈ سامان بہت اچھی حالت میں مل جاتا ہے، کسی بھی دوسرے بازار سے بہت اچھا۔

دوپہر کے سوا تین بج رہے ہیں اور عبدالستار دیگچے میں بچے چاولوں کی آخری پلیٹ نکال رہے ہیں۔

وہ کہنے لگے پہلے بہت گاہک آتے تھے میں 23 کلو چاول بناتا تھا لیکن اب کچھ مہینوں سے میں 12 سے 13 کلو ہی بناتا ہوں۔ پاس کھڑے دکاندار نے مایوسی سے کہا ’کام تو نہیں ہے لیکن کھانا تو ہم نے کھانا ہوتا ہے ناں کام ہو نہ ہوں۔‘

وہیں پاس سے گزرتے شخص کو منیاری کے سٹال والے دکاندار نے واپس بلایا اور کہا تین سو سے کم نہیں دوں گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں نے گھر بھی جانا ہے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔‘

منیاری کا سامان بیچتے گل شیر نے کہا ’باجی ہم ہر بار بازار کا ایک دن کا کرایہ 1500 دیتے ہیں اور دن آدھا گزر گیا میں نے ابھی تک ہزار کی سیل بھی نہیں کی تو بتائیں کیا کریں کرایہ تک نکل نہیں رہا ہمارا۔ ‘

ایسا ہی کچھ حال خواتین تاجروں کا بھی تھا۔ انڈر گارمنٹس بیچتی یاسمین نے بتایا کہ میں گذشتہ 18 برس سے یہ سٹال لگا رہی ہوں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

`ہمارے تین بازار لگتے ہیں ہم ہر بازار میں ایک دن میں 25 ہزار سیل کرتے تھے اور اب نوبت یہ آ گئی ہے کہ 6 ہزار کمائی ہوتی ہے، جیسے دودھ سبزی اور پٹرول مہنگا ہوتا ہے ہر دن کے حساب سے جو ہم بیچ رہے ہیں اس کی قیمت بھی بڑھتی ہے۔‘

سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کو بیچنے والے یاسین نے مجھے بتایا کہ `اب مال بہت ہی زیادہ مہنگا ہو گیا ہے اور کسٹمر بھی بہت بھاؤ تاؤ کرتے ہیں۔ لیتے اچھی چیز ہیں لیکن پیسے نہیں دیتے۔ برانڈ میں جا کر لوگ بحث تو نہیں کرتے۔ ‘

یاسین جو بیرون ملک سے آئے مال کو کراچی جا کر خریدتے ہیں انھوں نے بتایا گاہک کم ہو گئے ہیں، ہاں جس نے لینا ہے وہ لے گا لیکن پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک لینا ہوتا تھا تو لوگ دو لے لیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے اب ایسا ہے جس کو جو ضرورت ہوتی ہے وہی لیتا ہے۔

قالین اور رگ کی دکان کے باہر کرسی پر بیٹھے شیر محمد نے مجھے بتایا کہ پانچ ہزار کا رگ ہمیں اب نو ہزار میں پڑ رہا ہے جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور گاہک کم ہو گئے ہیں۔

خریداری کرنے کے لیے خواتین اس بازار میں دکھائی تو دے رہی ہیں لیکن حالات اب پہلے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

آمنہ جو گھر کا سودا سلف لینے کے لیے وہاں موجود تھیں نے مجھے بتایا مہنگائی اتنی ہو گئی ہے کہ اب جو بھی لیتے ہیں ہم سوچ سمجھ کر لیتے ہیں۔

سفیہ اپنے بیٹے اور بہو کے ہمراہ شاید شاپر میں کچھ سبزی اٹھائے ہوئے تھیں وہ کہنے لگیں اب ایک ہانڈی پانچ سے چھ سو روپے میں پڑتی ہے اور جو گھر میں کوئی تیسرا بندہ آ جائے تو پھر سارا بجٹ ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دکاندار پہلے تو کبھی ریٹ اوپر نیچے کر لیتے تھے لیکن اب تو فکس ریٹ ہیں۔

سیکنڈ ہینڈ امپورٹڈ سامان کی دکان کے مالک جنھیں سب حاجی کہہ کر پکارتے ہیں نے مجھے بتایا یہ مال تو سارا سٹاک کا پڑا ہے اب مال لانے پر تو پابندی لگی ہوئی ہے اور مہنگائی سے خریدار کم ہو گئے ہیں۔

کپڑے کی دکان پر بیٹھے جہانگیر نے مجھے بتایا کہ جو چھ سو کا سوٹ تھا وہ آٹھ سو میں مل رہا ہے پہلے اگر 50 گاہک آتے تھے تو اب اس میں سے دس فیصد بھی نہیں رہے۔

فروٹ بیچنے والے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

کیلے کے سٹال کے مالک نے مجھے بتایا کہ آپ دیکھیں ناں بازار خالی پڑا ہے اس بازار میں تو بہت رش ہوتا تھا، ہم پہلے سندھ سے کیلا لاتے تھے 85000 کا ٹرک آتا تھا اب وہی ٹرک کا کرایہ ایک لاکھ 40 ہزار تک ہو گیا ہے۔

فروٹس کا سٹال لگائے اظہر نے کہا کہ پہلے ہم فروٹ لاتے تھے تو وہ شام تک بک جاتا تھا لیکن اب آدھا سودا ویسے ہی پڑا ہوتا ہے، بازار میں آپ دیکھ رہی ہیں گاہک ہی بہت کم ہے۔

ایسا نہیں کہ ہر چیز کا ریٹ زیادہ ہے جیسے بینگن جو اتوار کو 200 روپے کلو بک رہے تھے اب 120 میں مل رہے ہیں لیکن سٹال کے مالک فرہاد خان نے بتایا کہ ہمارے گاہک بہت کم ہو چکے ہیں بمشکل ہم اپنا کرایہ نکال پا رہے ہیں۔

وہیں کھڑے ایک خریدار اشفاق احمد نے کہا کہ یہ تو دس پندرہ روپے مہنگی خرید رہے ہیں کوئی چارہ نہیں لیکن بجلی کے اس بِل کا کیا کریں جو 500 یونٹ پچھلے ماہ 12000 کی تھی اب وہ 24000 میں پڑ رہی ہے اب بتائیے ہم وہ بِل کیسے ادا کریں۔ سبزی تو جیسے تیسے خرید رہے ہیں بجلی کے بِل کا کیا کریں؟

دکاندار کہتے ہیں گاہک چیزوں کی قیمت پر کہتے ہیں اتنا مہنگا اور زیادہ تر ریٹ سن کر لوٹ جاتے ہیں۔

ایک دکاندار نے کہا کہ پہلے تو یہ عالم ہوتا تھا کہ ہم پانچ منٹ بعد دوسرے گاہک کو چیز دے رہے ہوتے اور اب دیکھیے ہم دکان چھوڑ کر دوسری دکان پر چکر لگا لیتے ہیں کیونکہ گاہک ہی نہیں ہے۔

یہ تو تھی دکاندار اور خریداروں کی بات لیکن ریڑھی پر سامان لاد کر اپنی دیہاڑی لگانے والے نو عمر لڑکے اور بہت سے عمر رسیدہ لوگ بھی بہت پریشان حال دکھائی دے رہے تھے۔

مزید پڑھیے

بازار میں ڈھائی گھنٹے گزارنے کے دوران مجھے ایک بھی گاہک ایسا دکھائی نہیں دیا جس نے اتنا سامان خریدا ہو کہ اسے ریڑھی والے کی خدمات لینی پڑی ہوں۔

ایک عمر رسیدہ مزدور نے مجھے بازار کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ کچھ کام نہیں ہے لوگ ہی نہیں ہیں دیکھیے، گیٹ کے قریب ریڑھیاں لگائے بچوں میں سے ایک نے کہا صبح سے ابھی تک صرف سو روپے کی دیہاڑی لگی ہے پچھلا اتوار اس سے بھی بدتر تھا کام ہی نہیں ہے۔

پردے خریدتی خواتین کو دکاندار عجلت میں بار بار یہی کہتا رہا ’دیکھ لیں دیکھ لیں لیکن ریٹ کم نہیں ہوں گے۔‘

ڈیکوریشن کا سامان بیچتے ایک دکاندار نے مجھے کہا ان دونوں حکومتوں نے ہمارا کاروبار ڈاؤن ہی کیا ہے ٹیکس پر ٹیکس ہے اور ہمارے گاہک جو ہم سے چیزیں لینے آتے تھے اب نہیں آتے۔

گیٹ نمبر دس سے باہر نکلی تو سامنے میٹرو سٹیشن کا بورڈ دکھائی دیتا ہے لیکن میٹرو اور ٹیکسی کا کرایہ بھر کے ہفتہ وار بازار کا رخ کرنے کون آئے گا بقول ایک خریدار خاتون گھر کے پاس سے سبزی تو مہنگی ملتی ہے سستی سبزی کے لیے یہاں آئیں تو جو بچت ہوتی ہے اس سے زیادہ تو کرائے میں لگ جاتا ہے۔