جنوبی پنجاب میں سیلاب: وہ بند جو کسی کے تحفظ اور کسی کی تباہی کا سبب بنے

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راجن پور
سیلاب، تباہی

جس جگہ کچھ عرصے پہلے تک امام بخش کا گھر تھا، اب اس مقام تک وہ کشتی کے بغیر نہیں جا سکتے۔

پنجاب کے ضلع راجن پور میں جب سیلابی ریلے نے ان کی بستی کا رخ کیا تو پانی کی سطح امام بخش کے قد سے بھی اونچی تھی۔

کئی مکان پانی کی پہلی لہر سے ہی زمین بوس ہو گئے۔ جو گھر اس پہلی لہر میں بچ گئے، وہ اگلے چند دنوں میں آہستہ آہستہ پانی میں گم ہوتے گئے۔

بستی سے خواتین اور بچوں کو تو ریسکیو ٹیموں نے نکال لیا لیکن امام بخش اور چند دوسرے مردوں کو کچھ انتظار کرنا پڑا۔ گاؤں کے کچھ نوجوانوں نے ڈرمز کی مدد سے انھیں زیر آب آتی بستی سے نکالا۔

اس بات کو لگ بھگ ایک مہینہ گزر چکا مگر راجن پور شہر کے مضافات میں واقع مرغائی ٹاور کے اس علاقے میں سیلاب کا پانی آج بھی کھڑا ہے۔ کئی ایکڑ زمین زیرِ آب ہے اور امام بخش کے اندازے کے مطابق یہاں پر پانی کی گہرائی اب بھی چھ فٹ سے زیادہ ہے۔

اس سیلاب میں کپاس اور چاول کی فصلیں غرق ہو چکی ہیں۔ چند دیگر لوگوں کے ساتھ امام بخش کا خاندان قریب سے گزرنے والی نہر کے بند پر امداد میں ملنے والے خیمے لگا کر رہ رہا ہے۔ یہیں ان کے بچ جانے والے مویشی بھی بندھے ہیں۔

اس چھوٹی سی خیمہ بستی کے پاس جب بھی کوئی گاڑی آ کر رکتی ہے تو یہاں کے باسی اس کی طرف لپکتے ہیں۔ وہ اس امید کے ساتھ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں کہ آنے والے لوگ ان کو امداد دیں گے۔ مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

امام بخش کہتے ہیں کہ یہاں آنے والے اس تاثر کے ساتھ آتے ہیں کہ ’شاید ہمیں پہلے ہی بہت امداد مل چکی ہے جو ہم نے چھپائی ہوئی ہے اور مزید مانگ رہے ہیں۔ یہ خیمے کھلے پڑے ہیں، آپ دیکھ لو کہاں چھپائی ہے۔‘

لیکن یہاں ایک خیمہ ایسا ہے جس کے باسی کو وقتی امداد سے زیادہ آنے والے دنوں کی فکر ہے۔ اب وہ گھر دوبارہ کیسے بنائیں گے؟ گھر نہیں ہو گا تو ان کے خاندان کے پندرہ افراد کہاں سر چھائیں گے جن میں ان کی بیوہ بیٹی اور ان کے چھ بچے بھی شامل ہیں۔

کیا امام بخش کے خاندان کو خیموں ہی میں سردیاں بھی گزارنا پڑیں گی؟ وہ زمینوں پر محنت مزدوری کرتے تھے۔ اب نہ تو کام کاج بچا ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی جمع پونجی ہے جس سے وہ نیا مکان کھڑا کر سکیں۔

’ابھی تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہو گا۔ اس پانی کو سوکھتے بہت وقت لگے گا۔ اس وقت تک ہم واپس گاؤں میں بھی نہیں جا سکیں گے۔‘

امام بخش کو لگتا ہے کہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ اس کو سوکھتے سوکھتے کم از کم چھ ماہ کا وقت لگے گا۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ اس مرتبہ سیلاب کا پانی آیا ہی بہت زیادہ تھا مگر انھیں یہ سوچ کر جھنجھلاہٹ ہوتی ہے کہ وہ اس تباہی سے بچ سکتے تھے۔

وہ پانی سوکھنے کے انتظار کی اذیت سے بھی بچ سکتے تھے۔ اگر پانی کھڑا نہ ہوتا تو وہ جلدی اپنے گاؤں واپس جاتے اور اب تک بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہوتا۔ فوری طور پر انھیں حکومت سے امداد ملنے کی امید بھی تھی۔

لیکن ایسا مٹی کے اس اونچے بند کی وجہ سے ممکن نہیں ہو پایا جو سیلابی پانی کو روکے کھڑا ہے۔ امام بخش نے نہر کے بند پر کھڑے ہو کر اپنے دائیں جانب واقع اس بند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ مقامی سردار نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے بنا رکھا ہے۔‘

بند کے ساتھ ساتھ ایک کچی سڑک جا رہی ہے۔ اس کے دوسری طرف کی زمین سیلاب سے بالکل متاثر نہیں ہوئی۔ امام بخش کہتے ہیں کہ اس بند نے سیلابی پانی کو آگے جانے سے روک دیا۔

’جتنے آس پاس کے نالوں کا پانی باہر نکلا، اس کے راستے میں ایسے ہی کئی بند آئے وہ ان سے ٹکراتا اور اپنی سمت تبدیل کرتا ہماری طرف آ گیا اور ہم ڈوب گئے۔ اور اب اس پانی کو نکلنے کے لیے بھی کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

’اس نے کہا تم ڈوبتے ہو تو ڈوب جاؤ‘

امام بخش کے مطابق اسی طرح دیگر جاگیرداروں اور علاقے کے با اثر افراد نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے جگہ جگہ بند باندھ رکھے ہیں۔ ’ہم غریب لوگ ہیں، ہماری اتنی استطاعت نہیں ہے کہ ہم بند باندھ سکیں۔ اس لیے جب بھی سیلاب آتا ہے ہم ڈوب جاتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ درخواست لے کر مقامی سردار کے پاس گئے کہ اگر وہ بند میں چھوٹا سا شگاف کر دیں تو سیلاب کا رکا ہوا پانی نکل جائے گا اور وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔

’اس نے کہا کیوں شگاف ڈالوں۔ تم ڈوبتے ہو تو ڈوب جاؤ۔ اس نے ہمیں بھگا دیا وہاں سے۔‘

امام بخش کو مجبوراً مایوس واپس لوٹنا پڑا۔ انھوں نے سردار سے یہ بھی درخواست کی تھی کہ اس طرح کا ایک بند ان کے گاؤں کے گرد بھی بنوا دیں۔ ’ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ہم تباہ ہو جاتے ہیں۔‘

تاہم ان کی اس درخواست کی شنوائی بھی نہ ہوئی۔ اب امام بخش کی ساری امیدیں حکومت سے وابستہ ہیں۔ ورنہ جب بھی سیلاب آئے گا، ان کی بستی اسی طرح ڈوب جائے گی۔

امام بخش اکیلے نہیں ہیں۔ جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں گاؤں اور بستیاں ایسے ہی مٹی کے حفاظتی بندوں کی وجہ سے ڈوب جاتی ہیں اور پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک زیر آب رہتی ہیں۔

اتنا زیادہ پانی کہاں سے آتا ہے؟

کلیم اللہ کا گاؤں لنڈی سیدان ایک بہت بڑے برساتی نالے کے کنارے پر واقع ہے۔ یہ نالہ چند کلو میٹر دور کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں واقع درہ کوہ سلطان سے ضلع راجن پور میں داخل ہوتا ہے۔ کوہ سلیمان پر اس طرح کے کئی درے ہیں۔

حالیہ سیلاب میں راجن پور میں زیادہ نقصان کاہ سلطان اور چھاچھڑ جیسے نالوں سے آنے والے پانی نے کیا۔ کلیم اللہ بتاتے ہیں کہ صرف کاہ سلطان میں 40 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی گزرا ہے۔ وہ خود گذشتہ کئی سالوں سے اس نالے میں گیج ریڈر کا کام کر رہے ہیں، یعنی پانی کی سطح ناپتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کلیم اللہ نے بتایا کہ جب کوہ سلیمان پر زیادہ بارشیں ہوں تو سارا پانی ان نالوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ نالے پہلے ہی کافی پانی صوبہ بلوچستان سے لے کر آتے ہیں۔ اس طرح سیلاب کی شکل بن جاتی ہے۔

میدانی علاقے میں داخل ہو کر یہ نالہ پھیلتا جاتا ہے اور جنوب کی طرف کئی کلومیڑ کا سفر طے کرتے ہوئے دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔ لیکن دریا میں گرنے سے پہلے وہ راستے میں آنے والی آبادیوں میں تباہی مچاتا ہوا گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پانی آبادیوں میں کیسے داخل ہوتا ہے؟

کلیم اللہ کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ پانی اس کی گنجائش سے زیادہ ہوتا ہے۔ سنہ 2013 میں اسی نالے کے سیلاب میں کلیم اللہ کا گھر بھی بہہ گیا تھا۔

’میرے گھر کے 11 کمرے تھے، ایک بھی نہیں بچا۔ ڈبل سٹوری گھر تھا اور میرے باپ دادا نے سنہ 1978 میں تعمیر کیا تھا۔‘

اس کے بعد دوبارہ ایک چھوٹا سا گھر بنانے کے لیے کلیم اللہ کو کراچی جا کر کئی سال تک محنت مزدوری کرنا پڑی۔

وہ بتاتے ہیں کہ تقریباً ہر سال نالے میں طغیانی کی وجہ سے ان کے قصبے میں پانی تباہی مچاتا تھا لیکن گزشتہ چند سالوں سے ان کا علاقہ محفوظ ہو گیا ہے۔ ان کے مقامی سردار نے قصبے کو سیلاب سے بچانے کے لیے سات کلو میٹر طویل مٹی کا حفاظتی بند باندھ دیا ہے۔

’جب سے بند بنا ہے اب ہمارے علاقے لنڈی سیدان میں تمام لوگ محفوظ ہو گئے ہیں۔ ابھی جو سیلاب آیا ہے اس نے بند میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن گاؤں والے اکٹھے ہو گئے اور 500 لوگوں نے مل کر اس شگاف کو بھر دیا۔‘

تاہم امام بخش جیسے کچے گھروں اور بستیوں میں رہنے والے افراد کا شکوہ ہے کہ ایسے حفاظتی بندوں کی وجہ سے وہ ڈوب جاتے ہیں۔

بند کس کی حفاظت کرتے ہیں اور کس کا نقصان؟

امام بخش کہتے ہیں کہ ان کی بستی کے ارد گرد کوئی حفاظتی بند موجود نہیں ہے کیونکہ ان کی اتنی استطاعت نہیں کہ وہ بند پر ہونے والا خرچ برداشت کر سکیں۔

تاہم ان کی بستی کے دونوں اطراف صاحبِ حیثیت افراد، جو زیادہ تر علاقے کے جاگیردار یا سردار ہیں، نے اپنی فصلوں اور املاک کو سیلاب سے بچانے کے لیے مٹی کے اونچے اونچے حفاظتی بند باندھ رکھے ہیں۔

جب چھاچھڑ اور کاہ جیسے نالوں میں طغیانی کی وجہ سے سیلابی پانی باہر نکلتا ہے تو وہ کبھی ان حفاظتی بندوں سے ٹکرا کر وہیں رک جاتا ہے اور کبھی اس کی رفتار تیز ہو تو سمت تبدیل کر لیتا ہے۔

دونوں صورتوں میں یہ پانی ان نشیبی علاقوں کی طرف چلا جاتا ہے جہاں عموماً غریب طبقے یا کچے مکانوں والے افراد بستیوں کی شکل میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ نالوں میں طغیانی ختم بھی ہو جائے تو بندوں کے درمیان پھنسا پانی وہیں رک جاتا ہے۔

یوں ناصرف امام بخش اور ان جیسے سینکڑوں دیگر خاندانوں کے گھر مکمل ڈوب جاتے ہیں بلکہ وہ پانی مہینوں تک خشک نہیں ہوتا۔ ’اس پانی کو خشک ہونے میں کم از کم چھ مہینے کا وقت لگے گا۔ اس کے بعد پتہ لگے گا کہ ہمارے گھروں کا کیا حال بنا اور ہمارا سامان کہاں گیا۔‘

’کچھ غلطی لوگوں کی اپنی بھی ہے‘

لنڈی سیدان میں کلیم اللہ کا خیال ہے کہ سیلاب کی تباہ کاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں نے نالے کے راستے پر گھر بنا رکھے تھے یا فصلیں کاشت کی ہوئی تھیں۔

نالے کے پل پر کھڑے انھوں نے دور پانی کے راستے میں لگی فصلوں کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ’اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان لوگوں نے فصیلیں بالکل درمیان میں یعنی نالے کے راستے میں اگا رکھی ہیں۔ اب ان کا نقصان تو ہونا ہی ہونا ہے۔‘

کلیم اللہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ چند برس سے سیلاب نہیں آیا تھا تو لوگوں نے تصور کر لیا کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے، اس سال بھی سیلاب نہیں آئے گا۔ ’لیکن 40 ہزار کیوسک پانی آیا اور سب کچھ بہا کر لے گیا۔ نالے کا راستہ روکیں گے تو پانی ادھر ادھر تو نکلے گا۔‘

وہ کہتے ہیں اگر ان کے گاؤں کے سردار نے حفاظتی سیلاب بند نہ بنوایا ہوتا تو ان کا قصبہ بھی حالیہ سیلاب میں کافی نقصان اٹھاتا۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ سیلاب جیسے خطرے سے مستقل نجات کا حل یہ تھا حکومت پہاڑی دروں پر ڈیم بنا دے۔

کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ ان دروں پر ڈیم بنانے کے لیے تقسیم سے پہلے کے دور میں ہی سروے مکمل ہو گئے تھے تاہم پاکستان بننے کے بعد ان پر کام نہیں کیا گیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دروں پر قدرتی طور پر بھی ڈیم بنانا آسان ہے۔

امام بخش کا خیال ہے کہ یا تو حکومت انھیں اور ان جیسے دوسرے غریب طبقے کے افراد کو بھی حفاظتی بند بنا کر دے یا پھر نجی طور پر بند بنانے کے رجحان کو ختم کروائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا وہ ہر سال اسی خوف میں مبتلا رہیں گے کہ ان کے سر پر چھت رہے گی یا نہیں۔