پاکستان کے75 برس: یادگاری نوٹ کے ڈیزائن کا مطلب کیا ہے اور اس پر سرسیّد احمد خان اور مارخور کیوں ہیں؟

  • تنویر ملک
  • صحافی، کراچی
نوٹ

،تصویر کا ذریعہSBP

پاکستان کے 75 برس مکمل ہونے پر سٹیٹ بینک نے 75 روپے کا جو یادگاری نوٹ ڈیزائن کیا تھا اسے اب بطور کرنسی نوٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے یعنی اب اس سبز رنگ کے نوٹ کو آپ خریداری کے لیے بازار بھی لے کر جا سکتے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے ایک مراسلے کے مطابق یہ نوٹ جس کی ملک کے قیام کے 75 برس پورے ہونے پر یادگاری نوٹ کے طور پر رونمائی کی گئی تھی اب کرنسی نوٹ کے طور پر کمرشل بینکوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق اب اس نوٹ سے ہر کوئی خرید و فروخت کر سکتا ہے۔

آئیے اس 75 روپے کے نوٹ کے ڈیزائن پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

75 روپے کے اس نوٹ کے ڈیزائن کا کیا مطلب ہے؟

سبز رنگ کے اس نوٹ کے ایک طرف بانیِ پاکستان محمد علی جناح، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور سر سید احمد خان کی تصاویر موجود ہیں تو نوٹ کی دوسری جانب مارخور اور دیودار کے درختوں کی تصاویر موجود ہیں۔

رونمائی ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر اس نوٹ پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ایک طرف تو ستائش کی گئی تو اس کے ساتھ اس نوٹ کی مالیت، اس کے ڈیزائن، اس پر موجود تصاویر خاص کر سر سید احمد خان اور مارخور کی تصاویر پر تبصروں کی بھرمار ہے۔

ان تبصروں میں مزاحیہ انداز میں کیے جانے والے تبصروں کے ساتھ کچھ سوالات بھی پوچھے گئے ہیں جو یادگاری نوٹ سے متعلق ہیں۔ پہلے کچھ سوالوں کا جواب دے لیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے یہ ڈیزائن کیوں چنا؟

یادگاری نوٹ پر اہم شخصایت کے علاوہ مارخور کی تصاویر کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تحریری طور پر موقف وضاحت کی ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سٹیٹ بینک کے مطابق اہم دنوں پر سکّے اور ڈاک ٹکٹوں جاری ہوتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کوئی یادگاری بینک نوٹ جاری کرے۔ یہ اب تک جاری ہونے والا دوسرا بینک نوٹ ہے اس سے قبل، سٹیٹ بینک نے پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر 1997میں پہلا ایسا نوٹ جاری کیا۔‘

اپنے تحریری موقف میں سٹیٹ بینک نے کہا ’نوٹ بنیادی طور پر سبز ہے، اسے پُر کشش بنانے کے لیے اس میں سفید شیڈز اور کسی قدر زرد رنگ کی آمیزش کی گئی ہے۔ سبز رنگ ترقی اور نمو کو ظاہر کرتا ہے اور ملک کی اسلامی شناخت کی علامت ہے، جبکہ سفید رنگ آبادی کے مذہبی تنوع پر زور دیتا ہے۔‘

نوٹ پر جس طرف مارخور کی تصویر ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ ’بینک نوٹ کی پشت پر مارخور اور دیودار کے درختوں کی تصویریں موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمارے قومی عزم کو اجاگر کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مارخور اور دیودار درخت دونوں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ماحولیاتی انحطاط کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔‘

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس یادگاری نوٹ کے سلسلے میں جاری کردہ سرکلر کے مطابق سر سید احمد خان نے آزادی کی بنیاد علی گڑھ تحریک کے ذریعے رکھی اور انہیں دو قومی نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

فاطمہ جناح کی تصویر کے بارے میں سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ انھوں نے اپنے بھائی محمد علی جناح کی تحریک پاکستان میں بھرپور مدد کی اور اس کے ساتھ ان کی اس نوٹ پر تصویر کی صورت میں موجودگی تحریک پاکستان میں خواتین کے کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب نوٹ کے ڈیزائن کے بارے میں سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ مارخور اور دیودار والی سائیڈ آرٹسٹ سارہ خان کی جانب فراہم کردہ ایک ڈیزائن پر تیار کیا گیا ہے۔

اس نوٹ کے ڈیزائن اور کلر سکیم پر مرکزی بینک کی داخلی نوٹ کمیٹی نے کام کیا اور اس کی باقاعدہ منظوری وفاقی حکومت نے دی۔

یادگاری نوٹ کہاں سے ملے گا اور اس کو کیا استعمال کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی یوم آزادی پر سٹیٹ بینک کی جانب سے 75 روپے کے یادگاری نوٹ کی رونمائی تو کر دی گئی تاہم یہ نوٹ 30 ستمبر 2022 کو جاری کیا جائے گا اور سٹیٹ بینک کے کاؤنٹر پر دستیاب ہوگا۔

یادگاری نوٹ ایک باقاعدہ قانونی نوٹ ہے اور اس کی 75 روپے کی مالیت کا ضامن سٹیٹ بینک آف پاکستان ہوتا ہے۔

سٹیٹ بینک کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق اگرچہ یادگاری نوٹ کو لین دین کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم عموماً ایسا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ یادگاری نوٹ اور سکے اپنے پاس یادگار کے طور پر جمع کر لیتے ہیں۔

اسی طرح دکانداروں کو بھی یادگاری نوٹ کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہوتی اس لیے وہ بھی اس کو لینے سے کتراتے ہیں تاہم یہ باقاعدہ ایک نوٹ ہوتا ہے اور اسے لین دین میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔