مہنگائی اور اخراجات زندگی: بڑھتے تعلیمی اخراجات کی وجہ سے والدین سکول تبدیل کرنے پر مجبور

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو
تعلیمی اخراجات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی کے خلاف کس عدالت میں جا کر اور کس کے خلاف مقدمہ کریں؟ جو حالات ہیں اس میں تو ہمارے بچے سکول تبدیل کرنے پر ہم پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔‘

’سکول والے فیس قانون کے مطابق طے شدہ سٹرکچر کے حساب سے لیں۔ میں نے جب ان باتوں پر اعتراض کیا اور فیس نہیں جمع کروائی تو بچوں کو نکال دیا گیا۔‘

’بڑھتی مہنگائی کے نتیجے میں والدین کو بچوں کو پڑھانے کے اور آپشنز بھی دیکھنے چاہیے۔ ہم برینڈڈ سکولوں کے آگے سرنگوں ہیں، یہ اچھا نہیں۔‘

پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر سے ہر شہری ہی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں لوگ گھر کے ماہانہ اخراجات کا نئے سِرے سے حساب کتاب اور خرچوں میں کٹوتی کر رہے ہیں، وہیں تعلیمی اداروں میں بڑھتی فیسوں نے والدین کو اپنے بچوں کے سکول تبدیل کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔

’برینڈڈ سکولوں کے سامنے سرنگوں ہونا صحیح نہیں‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد احمد نے بتایا کہ ان کے تین بچے لاہور کے ایک مشہور سکول میں پڑھتے تھے اور ہر بچے کی ماہانہ فیس 21 ہزار بنتی تھی اور پھر دو ماہ پہلے اس فیس میں مزید دو ہزار روپے کا اضافہ ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مجھے بتایا گیا کہ اس فیس میں ایئرکنڈیشنر کے چارجز بھی ڈال دیے گئے ہیں۔ کچھ ماہ پہلے کی بات ہے میری بیٹی بتا رہی تھی کہ سکول میں پنکھا صحیح نہیں کر رہے اور بہت گرمی ہوتی ہے لیکن اب اچانک سے کلاس روم میں اے سی آ گیا اور اس کے پندرہ سو سے دو ہزار چارجز لگ گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے گھر میں بات کی کہ خرچہ بہت بڑھ رہا ہے اور کسی نئے سکول کو ڈھونڈنے کی بات کی۔ میرے بچوں نے کافی شور مچایا کہ ہم اچانک سے کیسے کسی اور سکول میں داخلہ لے لیں؟‘

انھوں نے کہا کہ ان کے لیے اپنے بچوں کو سمجھانا مشکل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی ڈیڑھ لاکھ کی تنخواہ میں ان کے سکول کی اضافی فیس نہیں بھر سکتے۔

’ایک تو ان سکول والوں کو کہیں چیلنج نہیں کر سکتے۔ جو اکّا دّکا ادارے ہیں وہ بھی ان کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ہیں۔ بڑھتی مہنگائی کے نتیجے میں والدین کو سکولوں کے اور آپشنز بھی دیکھنے چاہیے۔ یہ جو ہم پرائیوٹ برینڈڈ سکولوں کے سامنے سرنگوں ہیں یہ اچھا نہیں۔‘

احمد نے بتایا کہ انھوں نے ایک ماہ پہلے اپنے بچوں کو سکول سے لاہور کی ایک اکیڈمی میں داخل کروا دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’میری بیٹی نے دس سال اس سکول میں گزارے لیکن کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ آپ کیوں اچانک سے سکول چھڑوا رہے ہیں۔ اب میں نے بچوں کا داخلہ اکیڈمی میں کروا دیا ہے۔ 21000 سے ماہانہ فیس 9000 پر پہنچ گئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کسی نے بہت بھاری بوجھ میرے کندھوں سے اٹھا دیا ہو۔‘

لیکن کیا تعلیمی اخراجات میں کمی سے پڑھائی کا معیار بھی متاثر ہوا؟

احمد نے کہا کہ ’اس میں تو فرق آیا ہے لیکن کیا اور کوئی حل ہے؟ یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں پرائیوٹ سکولوں کے مدمقابل کوئی نہیں۔ ہمارے زمانے میں گورنمنٹ سکول سے پڑھ کر بھی بچے اچھے نمبر لے لیتے تھے۔ اب پرائیوٹ سکول میں پڑھانا لازم ہو گیا ہے کیونکہ سرکاری سکولوں کی حالت صحیح نہیں۔ وہاں کوئی نہیں چاہے گا کہ ان کے بچے پڑھیں اور اس بات کا فائدہ باقی اٹھا لیتے ہیں۔‘

’میں نے جب اعتراض کیا اور فیس نہیں بھری تو بچوں کو نکال دیا گیا‘

اسلام آباد کے رہائشی منصور احمد کے بچے شہر کے ایک نجی سکول میں پڑھتے تھے جہاں ان کے مطابق فیس میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے۔

منصور احمد کے مطابق ’یہاں فیس کے علاوہ بھی اخراجات ہیں۔ سکول میں فنکشن ہیں، بچے سوشلائز کر رہے ہیں۔ پھر انھیں برتھ ڈے پارٹی میں جانا ہے۔ اس سب کے لیے بہت سارے پیسے چاہییں اور یہ اضافی خرچے اور فیس آپ نہیں بھر پاتے ہیں۔‘

منصور نے بتایا کہ سکول کی انتظامیہ نے بات کرنے پر اپنے مسائل گنوائے کہ کیسے ڈالر کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین کا کرایہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

منصور نے بتایا کہ وہ ایک بچے کی 40 ہزار روپے فیس ادا کر رہے تھے۔

’اس کے علاوہ ستم ظریفی یہ کہ وہ ہی ٹیچرز پھر بچوں کو کہتے ہیں کہ شام میں ہم سے ہی ٹیوشن لے لو، جس کے 20 ہزار روپے اضافی بھی دینے پڑتے ہیں۔ بھئی دن میں بھی آپ ہی پڑھاتے ہیں تو کیا کمی رہ جاتی ہے؟‘

انھوں نے بتایا کہ ہر ماہ ایک نیا اضافہ ہو رہا ہے۔ ’پہلے کہا گیا کہ ہر سیشن کے ساتھ نئی کتابیں لینی پڑیں گی۔ ہم نے کہا کہ گھر پر بڑے بچوں کی اسی کورس کی کتابیں موجود ہیں اور باقی دو بچے وہ ہی استعمال کر لیں گے تو کہا کہ نہیں کورس تھوڑا مختلف ہوا ہے۔ پھر کہا گیا کہ جہاں سے کتابیں لے رہے ہیں یونیفارم بھی وہیں سے لیں۔ ان کتابوں اور یونیفارم کا خرچہ الگ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بچوں سے بات کر کے انھیں سمجھانے کی کوشش کی ’لیکن انھوں نے کہا کہ ہم آدھی پڑھائی کر کے اب کہاں داخلہ لیں گے، ہمارے دوست کیا کہیں گے، وغیرہ۔ ان کی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن میں نے اپنا مقدمہ بھی آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔‘

’سکول والے فیس قانون کے مطابق طے شدہ سٹرکچر کے حساب سے لیں۔ میں نے جب ان باتوں پر اعتراض کیا اور فیس نہیں دی تو بچوں کو نکال دیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ اب ان کی ایک بیٹی اے لیول پرائیوٹ کر رہی ہے جبکہ دوسری بیٹی کو انھوں نے ایک ایسے سکول میں داخل کروایا ہے جہاں مذہبی تعلیم بھی دی جاتی ہے لیکن وہ ابھی بھی مطمئن نہیں۔

منصور نے ہمیں بتایا کہ ’اسلامی ٹچ دینے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہاں بھی پڑھائی کا خرچہ اتنا ہی زیادہ ہے۔‘

’آرمی پبلک سکول سے نکال کر گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا‘

حیدر آباد کے رہائشی علی اکبر نے بتایا کہ ان کے پانچ بچوں کے سکول کے ماہانہ اخراجات 21 ہزار روپے بن جاتے تھے۔

’اس میں آپ سکول وین کا بھی خرچہ لگا لیں جو 12 ہزار روپے بنتا ہے۔ میں فوج میں سپاہی تھا اس لیے آرمی پبلک سکول میں داخلہ کروایا تھا تاکہ مدد ہو جائے لیکن اب میں نے پانچوں بچوں کو سرکاری سکول میں داخل کروا دیا ہے۔‘

اس سے پہلے علی اکبر فی بچہ ماہانہ فیس 1700 روپے دے رہے تھے لیکن اب سوائے داخلے کی فیس دینے کے انھیں کوئی اضافی فیس نہیں دینی پڑتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے بتایا کہ ’سکول والے کتابیں خود دے دیتے ہیں۔ یونیفارم کا انتظام بھی کر دیتے ہیں اور سکول میرے گھر سے نزدیک بھی ہے تو میں بچوں کو خود پیدل چھوڑ کر آجاتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ جہاں تک تعلیمی معیار کی بات ہے تو اس میں فرق پڑے گا ’لیکن مجھے اپنی بیٹیوں پر بھروسہ ہے کہ وہ پڑھائی میں اچھے نمبر لے لیں گی۔‘

’مہنگائی کے خلاف کس عدالت میں مقدمہ کریں‘

نارتھ کراچی کے رہائشی محمد سلمان نے کہا کہ ’سکول کے ساتھ سکول کی وین، کتابیں، بچوں کی دیگر سرگرمیوں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ سکولوں میں اضافی فیس ایک طرف مہنگائی کے خلاف کس عدالت میں مقدمہ کریں؟‘

’مجھے کبھی کبھار لگتا ہے میرے بچے سکول بدلنے پر مجھ پر ہی کسی عدالت میں مقدمہ کر دیں گے۔ کیونکہ اب تک خاصی بحث اور رونا دھونا ہو چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے پوری کوشش کرلی ہے کہ کسی طرح ان اخراجات کو پورا کر لوں۔ میری ماہانہ تنخواہ 80 ہزار روپے ہے۔ میرے گھر کا خرچہ 40 ہزار روپے ہے۔ دو بچوں کے سکول کا خرچ 35 ہزار روپے ہے اور اب بتایا گیا ہے کہ ڈالر ریٹ میں اضافے کے بعد اس فیس میں مزید اضافہ ہو گا۔‘

محمد سلمان نے کہا کہ ’سکول بدلنا ایسا ہو گیا ہے جیسے میں خدانخواستہ ملک بدلنے کی بات کر رہا ہوں۔‘

’مجھے خاندان والوں نے کہا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ آپ کے بچے سستے سکول میں پڑھتے ہیں یعنی میں لوگوں کو دکھانے کے لیے خود لُٹ جاؤں یا پھر میں اس مہنگائی میں سکول کی فیس بھرنے کے لیے سڑکوں پر بھیک مانگتا ہوا شاید زیادہ اچھا لگوں گا۔‘

’اکیڈمی میں بچے اتنی تعداد میں نہیں جتنی توقع کی جا رہی تھی‘

ادھر اسلام آباد کی کِپس اکیڈمی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ان کے ہاں ہر قسم کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جس کے لیے وہ دس ہزار روپے تک فیس لیتے ہیں لیکن ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں انھوں نے بچوں کے داخلوں میں واضح کمی دیکھی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’نئی کلاسیں شروع ہوئی ہیں لیکن بچوں کی تعداد میں ابھی سے کمی ہے۔ یعنی اگر پہلے 100 فیصد حاضری تھی اب اس میں بھی پچاس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔‘

’بہت سے والدین اتنی فیس بھی نہیں دے پا رہے، جس سے مہنگائی کا اور اس سے لوگوں کے مسائل میں اضافے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘