خیبرپختونخوا: یوم آزادی پر پارک میں جھولوں پر بیٹھنے پر خواتین کو کیوں ہراساں کیا گیا؟

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پارک

،تصویر کا ذریعہGhulam Akbar

یہ خواتین یہاں کیوں آئی ہیں، شرم نہیں آتی انھیں کہ یہ یہاں مردوں کے سامنے جھولے پر بیٹھیں گی، اور لوگ انھیں دیکھیں گے، کچھ شرم نہیں ہے انھیں۔

یہ الفاظ ایک ویڈیو میں درجنوں افراد کی جانب سے کہے جا رہے تھے جنھیں سفید برقعوں میں آئی چند خواتین کے جھولوں پر بیٹھنے پر اعتراض تھا۔

ملک بھر میں جہاں لوگ جشن آزادی کی خوشی میں بازاروں اور پارکوں میں پہنچے تھے وہیں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے واحد پارک میں بھی لوگ پہنچے۔ اس خوشی میں کچھ خواتین جو سفید برقعے پہنے اپنے بچوں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمرا آئیں اور جھولوں میں بیٹھ گئیں۔

اس پارک میں موجود کچھ لوگوں کو یہ ناگوار گزرا اور اسے اپنی انا، غیرت کے خلاف سمجھا۔ ان کے نزدیک خواتین کا برقعے پہن کر بھی جھولوں میں بیٹھنا بے حیائی ہے اور انھیں ایسا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ جھولوں میں اپنے بچوں یا چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ سکیں۔

ویڈیو میں سب لوگ خواتین کے پارک میں آنے کے عمل پر جب تنقید کر رہے تھے اتنے میں ایک نوجوان نے کہا کہ کیا ہم کسی کا انتظار کریں گے اور وہ خود دیگر کچھ لوگوں کے ساتھ ان سیڑھیوں پر چڑھ جاتا ہے، جو جھولے کی طرف جاتی ہیں۔ نوجوان ویڈیو بھی بناتا رہا اور خواتین کو بُرا بھلا کہتا رہا یہاں تک کہ وہ گالم گلوچ بھی کرتا رہا۔

خواتین اور ان کے ساتھ آنے والے بچے گھبرا کر نیچے اترتے ہیں اور یہ نوجوان انھیں مسلسل بُرا بھلا کہتا رہا۔ اس موقع پر موجود لوگ اس نوجوان کے عمل کو سراہتے رہے اور کہتے رہے کہ یہ کیا بے شرمی ہے کہ اب خواتین جھولوں پر بیٹھیں گی۔

یہ تو بے حیائی ہے اور اسے وہ کسی طور پر برداشت نہیں کریں گے۔ وہاں پولیس اہلکار بھی موجود تھا لیکن کسی نے اس نوجوان کو روکا نہیں کہ وہ کیوں خواتین کو برا بھلا کہہ رہا ہے اورانھیں گالیاں دے رہا ہے۔

ویڈیو پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

عام طور پر لکی مروت میں خواتین کم ہی باہر نکلتی ہیں یہاں تک کہ کسی تہوار پر بھی ان خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یوم آزادی کے موقع پر کچھ خواتین باہر نکلیں تو اس عمل کو مقامی لوگوں نے قبول نہیں کیا۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ایسی وائرل ہوئی کہ ہر طرف اس پر بحث ہونے لگی۔

اس ویڈیو میں لوگوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس نوجوان کے عمل کو سراہا لیکن گالم گلوچ کی مذمت کی ہے لیکن ایک بڑی تعداد نے اس عمل کی سخت مخالفت کی ہے۔

انعام دانش نے لکھا ہے کہ ہماری مائیں بہنیں بھی دل رکھتی ہیں، مروت قوم کے رہنماؤں سے درخواست ہے لکی مروت میں ایک فیملی پارک بنایا جائے جو خواتین اور بچوں کے لیے ہو تاکہ خواتین محفوظ ماحول میں پارک آ سکیں۔

طارق ایوب نے لکھا ہے کہ قوم کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے، سلام پیش کرتا ہوں۔

لکی مروت کے علاقے شاہ حسن خال کے سابق ناظم عبدالمالک نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر تعلیم یافتہ لوگوں نے خواتین کے ساتھ مقامی لوگوں کے سلوک کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ اس علاقے میں نوجوان جو بھی حرکتیں کریں ان کو کوئی نہیں پوچھتا اور نا ہی ان کے بارے میں کوئی بات کرتا ہے لیکن اگر خواتین کہیں باپردہ بھی باہر آجائیں تو ان کی غیرت جاگ جاتی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGhulam Akbar

گرفتاری کے بعد معافی

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس حرکت میں آئی اور نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس نوجوان نے گرفتاری کے بعد اپنے عمل پر شرمندگی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ اپنی تمام قوم سے معافی مانگتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ جن خواتین کی انھوں نے بے عزتی کی ہے ان سے معافی مانگتا ہوں اور لوگوں کو چاہیے کہ اس طرح کی ویڈیوز نہ بنائیں۔

اس بارے میں ضلعی پولیس افسر سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان کے عملے نے ان سے بات نہیں کرائی تاہم کچھ دیر بعد انھوں نے اپنا ایک مختصر بیان جاری کر دیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی او نے اس واقعہ کا نوٹس لے کر اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

ڈی پی او نے کہا ہے کہ اس طرح کے رویے ناقابل برداشت ہیں اور یہ کہ کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ خواتین سے بدتمیزی کریں اور اگر کوئی اس کا مرتکب ہوگا تا کہ خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟

لکی مروت میں یہ پہلا پارک ہے جو نجی سطح پر قائم کیا گیا ہے۔ وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے اس ضلع میں ایک بھی پارک نہیں بنایا گیا ہے۔

نجی سطح پر اس پارک میں اکثر نوجوان آتے ہیں۔

لکی مروت کے تحصیل چیئر مین شفقت اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اس واقعہ کو نوٹس لیتے ہوئے پارک انتظامیہ کو طلب کیا ہے اور ان سے کہا جائے گا کہ ہفتے میں دو دن خواتین اور بچوں کے لیے مختص ہوں گے۔

ان دو دنوں میں مرد اس پارک میں نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کا پیش آنا علاقے کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

شفقت اللہ نے کہا کہ ان کے پاس 44 کنال سرکاری زمین موجود ہے، جس پر وہ خواتین اور بچوں کے لیے پارک بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے انھیں فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی یا صوبائی حکومت نے اس بارے میں فنڈز جاری نہ کیے تو وہ اپنے طور پر فنڈز حاصل کرکے پارک پر کام شروع کر دیں گے۔

نجی سطح پر گذشتہ سال لکی مروت میں گمبیلا پُل کے قریب ایک پارک بنایا گیا ہے، جہاں جُھولے نصب ہیں اور اس پارک کی داخلہ فیس مقرر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGhulam Akbar

اس سے پہلے اس شہر میں کوئی پارک نہیں تھا، مرد اور نوجوان یا کسی ہوٹل پر یا سڑک کے کنارے اور یا دریائے گمبیلا کے کنارے بیٹھ جاتے تھے۔

خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہے اس لیے ان کے لیے ایسے کوئی مقام یا پارک نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لکی مروت پسماندہ ہے

اگرچہ لکی مروت کو سنہ 1992 میں ضلع کا درجہ دیا گیا تھا لیکن اس شہر کی ترقی کے لیے اقدامات کم ہی نظر آئے ہیں۔

اس شہر میں پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت میں ایک یونیورسٹی قائم کی گئی تھی لیکن اس یونیورسٹی کے لیے فنڈز کی کمی ہے۔

اس کے علاوہ یہاں ہسپتال تو ہے لیکن اس میں مکمل علاج معالجے کی سہولیات نہیں ہیں۔ اس لیے اکثر مریضوں کو پشاور یا اسلام آباد لے جانا پڑتا ہے۔

شہر میں تعلیمی ادارے کم ہیں۔

خواتین کو تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر قریبی دیہاتوں کی خواتین تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر نہیں آ سکتیں۔

اس لیے اکثر بچیاں پرائمری یا مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد آگے تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں۔