رتی گلی: وادی نیلم میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے دو سیاحوں کی لاشیں برآمد، تین کی تلاش جاری

  • ایم اے جرال
  • صحافی
نیلم وادی، سیلاب

،تصویر کا ذریعہDDMA Neelum

،تصویر کا کیپشن

سیلابی ریلے کی اس ویڈیو میں مذکورہ نوجوانوں کو زد میں آتے دیکھا جا سکتا ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق معروف سیاحتی مقام رتی گلی جھیل کے علاقے میں بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) اور نالے میں طغیانی کے بعد لاپتہ ہونے والے دو سیاحوں کی لاشیں دریائے نیلم کے مختلف مقامات سے برآمد ہوئی ہیں جبکہ تین لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔

سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ضلع نیلم کے آفیسر اختر ایوب کا کہنا ہے کہ 16 اگست کو بادل پھٹنے سے نالے میں طغیانی آئی تھی اور ایک سیلابی ریلہ پانچ سیاحوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھا۔

لاپتہ پانچ افراد میں سے طلحہ جاوید اور عمیر سجاد نامی سیاحوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ حکام کے مطابق طلحہ کی میت کو ان کے آبائی علاقے ناروال روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ ضلع نیلم کے ایس پی ساجد عمران کے مطابق دیگر چار لاپتہ افراد میں سے ایک عمیر سجاد کی لاش دریا نیلم سے بگنہ کے مقام سے مل گئی ہے جس کو ناروال ہی سے آئے اُن کے لواحقین نے شناخت کر لیا ہے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو لواحقین کے ہمراہ ناروال روانہ کر دیا جائے گا۔

اختر ایوب کے مطابق اسلام آباد میں زیر تعلیم یہ پانچ سیاح ’13 اگست کی رات پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے وادی نیلم پہنچے اور 16 اگست کو شام پانچ بجے نالہ دواریاں میں آنے والی طغیانی کی نذر ہو گئے۔‘

’سیلابی ریلہ نالے کے ارگرد سب کچھ بہا لے گیا‘

اختر ایوب نے بتایا کہ گذشتہ رات خود نالے کی طغیانی سے متاثر ہونے والے عرفان نامی ایک مقامی شخص نے ضلعی ہیڈکوارٹر رابطہ کر کے بتایا کہ جب یہ افراد رتی گلی سے واپس نالے کے ساتھ دواریاں کی جانب پیدل سفر کر رہے تھے تو اسی وقت نالے میں آنے والی طغیانی کی زد میں آ گئے۔

چلہانہ انٹری پوائنٹ کے ریکارڈ اور دیگر معلومات سے معلوم ہوا کہ ان سیاحوں نے 14 اگست کو یوم آزادی ایل او سی کے قریب واقع علاتوں میں سے ایک اڑنگ کیل میں منائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہFamily Photo

،تصویر کا کیپشن

ہلاک ہونے والے نوجوان طلحہ

عینی شاہدین میں سے ایک رستم لون کے مطابق یہ پانچوں افراد ڈرائیور کی گاڑی سے اُتر کر پیدل چل رہے تھے جب چک کے مقام پر پیچھے سے سیلابی ریلہ آیا۔ ’ہم نے ان کی جان بچانے کی کوشش کی۔ میں تو ایک درخت کے ساتھ لٹک گیا مگر ہم ان کی جان نہ بچا سکے۔‘

ڈرائیور امجد نے بتایا ہے کہ وہ بیس کیمپ سے واپس آ رہے تھے جب ان پانچ افراد نے انھیں کہا کہ انھیں نیچے جانا ہے۔

’مقام پر پہنچ کر میں نے گاڑی وہیں روکی کیونکہ بارش بہت تھی اور میں نے ان کو وہاں ہی ایک گھر میں رُک جانے کا مشورہ دیا مگر سیاحوں نے یہ کہہ کر سفر جاری رکھا کہ ہم نے صبح یونیورسٹی پہنچنا ہے جس پر میں نے ان کو منع کیا کہ نالے کے ساتھ سڑک پر سفر کرنے کے بجائے سڑک سے اوپر الگ راستے پر سفر کریں۔

’مگر جلدی کے باعث انھوں نے میری بات ماننے کے بجائے سڑک سے ہی جانے پر اتفاق کیا اور کہا کہ ’بھائی جوان لوگ ہیں ابھی کچھ منٹ سڑک سے دوڑ کر سفر مکمل کرتے ہیں۔‘

اختر ایوب نے بتایا کہ ڈرائیور امجد کے جانے کے کچھ دیر بعد نالے میں ایک خوفناک طوفانی ریلہ آیا جو نالے کے ارگرد سب کچھ بہا کے ساتھ لے گیا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشن

ایک مقامی سکول ٹیچر سیاحوں کے بچوں کو ریسکیو کر رہے ہیں

’سوچا کہ سگنل نہیں ہوں گے اس لیے رابطہ نہیں ہو رہا‘

ہلاک ہونے والے نوجوان طلحہ کے خالہ زاد بھائی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ دوستوں کا یہ گروپ 13 اگست کو گیا تھا اور وہ 16 اگست کو گم ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ اُن سے آخری مرتبہ رابطہ 14 تاریخ کو ہوا تھا۔

عمر نے بتایا کہ ’اُنھوں نے کہا تھا کہ ان علاقوں میں سگنل نہیں آتے، سو مظفرآباد واپس آنے کے بعد ہی رابطہ کریں گے۔‘

’ہم نے سوچا کہ 16 تک تو سگنل نہ ہونے کی وجہ سے بات نہیں ہو پائے گی اور کہیں رک گئے ہوں گے لیکن جب اس کے بعد بھی رابطہ نہیں ہوا تو سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔‘

جس وقت عمر نے ہم سے بات کی اس وقت وہ نارووال سے کشمیر کے لیے سفر کر رہے تھے۔ ان میں سے عمیر اور زبیر دونوں آپس میں بھائی ہیں اور عمر کے ماموں زاد بھائی ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ تیسرے دن تک بھی اطلاع نہ ملنے اور وہاں ہنگامی حالت کی خبریں سننے کے بعد اُنھوں نے سوشل میڈیا گروپس پر پوسٹس کیں اور وادی نیلم میں کچھ ذرائع کو کالز کیں تو اُنھیں یہ اطلاع موصول ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media

اُنھوں نے بتایا کہ طلحہ 17 برس کے تھے اور ایف ایس سی کی ہوئی تھی، جبکہ اکمل اور زبیر نے بھی ایف ایس سی کر رکھی تھی۔ اس گروپ میں سب سے بڑے عمیر اور حسنات تھے جو ان کے مطابق کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ تھے۔

مقامی لوگ نے اس واقعے کے بعد رتی گلی بیس کیمپ سے واپس آنے والے سیاحوں کو رات کی تاریکی میں دواریاں زیرو پوانٹ تک پہنچایا اور بہت سے سیاحوں کو مقامی لوگوں نے رضاکارانہ طور پر گھروں میں قیام کروایا۔

مقامی لوگوں نے نالے میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے میں ضلعی انتظامیہ کی مدد بھی کی۔

سوشل میڈیا پر ایک سکول ٹیچر کی تصویر وائرل ہے جس میں وہ سیاحوں کے بچوں کو کندھوں پر اٹھا کر نالے کے قریب پہاڑیوں سے نیچے اتر رہے ہیں۔