’سیاستدان نہ ہوتے تو آرکیٹیکٹ ہوتے‘

Image caption زرداری نے جب گیلانی کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا اس وقت یہی خیال تھا کہ شاید انہیں عارضی طور پر وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے

کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر معین الدین چشتی، بابا فرید گنج شکر یا شاہ رکنِ عالم کسی بادشاہ کے درباری یا وزیر یا سپہ سالار یا قصیدہ گو ہوتے تو کیا ہوتا۔ غالباً یہ بھی ان بادشاہوں، درباریوں، وزیروں، قصیدہ گوؤں میں شامل ہو جاتے جن سے دنیا بھر کے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ ہم میں سے کسی کو بھی ان میں سے کتنوں کے نام یا کام یاد ہیں۔

لیکن اکثر اولیائے کرام کی آل اولاد نے اپنے اجداد کی فقیری وراثت کے عوض دنیا خرید لی اور ان کا اپنے روحانی ماضی سے صرف اتنا تعلق رہ گیا کہ ہر سال عرس کے موقع پر دستار بند ہو کر مریدوں کو زیارت کروا دی جائے۔اور اپنے ہاتھ عقیدت مندوں سے چموانے کے لیے آگے کردیے جائیں۔

جس طرح ٹھوس سے مائع بنتا ہے اسی طرح ان وارثوں نے خادم کو مخدوم میں ، عملیات کو جاگیریات میں اور روحانیت کو سیاست میں بدل دیا۔

خوش شکل و خوش لباس و خوش ذوق جواں سال یوسف رضا گیلانی پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم ہیں جن کا تعلق براہ راست ایک روحانی سیاسی خانوادے سے ہے جس کا سلسلہ گیارہویں صدی کے اوچ اور ملتان کے ولی عبدالحسن جمال الدین جیلانی المعروف موسی پاک شہید کے توسط سے شیخ عبدالقادر جیلانی سے جاملتا ہے۔

اگر ملتان کے دیگر اولیائے کرام کی طرح موسی پاک شہید کا تعارف ان کے روحانی کمالات ہیں تو ان کے وارث سیاسی کمالات کے سبب زیادہ جانے گئے۔ روحانیت منتقل ہوئی یا نہیں لیکن سیاسی وراثت ہر نسل میں گزشتہ نسل سے زیادہ بہتر انداز میں منتقل ہوئی۔اس ناطے پاکستان کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنے والے چاروں صوبوں کے بیشتر خانوادوں کی طرح ملتان کے گردیزی ، قریشی اورگیلانی بھی کم ازکم پانچ نسلوں سے مسلسل اہم ہیں۔

مثلاً یوسف رضا گیلانی کے پردادا مخدوم راجہ بخش گیلانی نہ صرف ملتان کے میئر تھے بلکہ اپنے بھائی صدر الدین گیلانی کے ہمراہ انیس سو اکیس میں ہندوستان کی مرکزی مجلسِ قانون ساز کے رکن بھی تھے۔وہ اپنی وفات تک پندرہ برس اس اسمبلی میں رونق افروز رہے۔ یہ زمانہ جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کے بعد تحریکِ خلافت،گاندھی جی کی ستیہ گرہ اور ہندوستان کی خودمختاری کے لیے لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنسوں کے سبب معروف ہے۔

سن چالیس کے عشرے میں گیلانی خاندان نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ کہا جاتا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے والد مخدوم علمدار گیلانی نے تئیس مارچ انیس سو چالیس کو لاہور میں مسلم لیگ کے جلسے میں شرکت کی۔ جبکہ مخدوم علمدار کے چچا زاد بھائی محمد رضا شاہ گیلانی نے انیس سو چھیالیس کے انتخابات میں موجودہ وزیرِ خارجہ اور حضرت شاہ رکنِ عالم کے گدی نشین شاہ محمود قریشی کے دادا مخدوم مرید حسین قریشی کو شکست دی۔ مرید حسین قریشی یونینسٹ پارٹی کے امیدوار تھے۔یہ وہی رضا شاہ گیلانی ہیں جن کے بیٹے مخدوم حامد رضا گیلانی ایوب خان کی حکومت میں پارلیمانی سیکریٹری اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر اور پھر سفیر رہے۔ اور پھرجنرل ضیا الحق کے حامی ہو گئے۔

Image caption سپیکر شپ کے دوران یوسف رضا گیلانی اور بے نظیر بھٹو کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی لیکن اس نے کوئی سنجیدہ شکل اختیار نہیں کی۔

پاکستان بننے کے بعد یوسف رضا گیلانی کے والد مخدوم علمدار گیلانی اپنے بھائی ولایت حسین شاہ کے ہمراہ انیس سو اکیاون میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور پھر صوبائی وزیرِ صحت بنا دیئے گئے۔لیکن جب ون یونٹ تشکیل پایا اور سکندر مرزا کے اشارے پر راتوں رات مسلم لیگ کے بطن سے ریپبلیکن پارٹی نے جنم لیا تو اس میں شمولیت کرنے والوں میں مخدوم عملدار گیلانی بھی شامل تھے۔

جب ایوب خان نے سکندر مرزا کا تختہ الٹا تو علمدار گیلانی کو بھی دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ ایبڈو قوانین کے تحت سیاست کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔لیکن گیلانی خاندان پر اس پابندی سے اس لیے کوئی فرق نہ پڑا کہ علمدار گیلانی کے بھائی اور یوسف رضا گیلانی کے ایک چچا رحمت شاہ گیلانی نے ایوب خان کی کنوینشن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنے کزن حامد رضا گیلانی کی طرح مغربی پاکستان اسمبلی کے لیے منتخب ہوگئے۔

مخدوم یوسف رضا گیلانی انیس سو اٹہتر میں اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے سیاسی وارث بنے۔انہوں نے جنرل ضیا الحق کے بلدیاتی انتخابات سے سیاسی سفر شروع کیا اور انیس سو تراسی میں وزیرِ بلدیات فخر امام کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوگئے۔اس شکست کے بعد فخر امام نے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت ہی چھوڑ دی۔

اس کے بعد یوسف رضا گیلانی نے انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور نئی پارلیمنٹ میں جنم لینے والی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن بن گئے۔ان کی اہلیہ اور وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی صاحبزادی فضہ ہم جماعت بھی رہ چکی تھیں۔ جونیجو صاحب نے جواں سال یوسف رضا کو یکے بعد دیگرے ہاؤسنگ اور ریلوے کے قلمدان سونپے۔ لیکن انیس سو اٹھاسی میں جونیجو حکومت کی برطرفی سے کچھ عرصہ قبل ان کی وزیرِ اعظم سے ان بن ہوگئی اور انہیں سائیڈ لائن پر کردیا گیا۔

بقول یوسف رضا گیلانی ’میں غصے اور بے بسی کی کیفیت سے گزرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا کہ اس طرح زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ چنانچہ میں نے کراچی میں بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ تم انہیں چھوڑ کر کیوں آرہے ہو۔ میرے پاس سے تمہیں کیا ملے گا۔ میں نے اُن سے کہا کہ بی بی دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ عزت کے طالب، دانشمندی کے طالب اور دولت کے طالب۔ میں تو صرف عزت کا طالب ہوں۔‘

اگرچہ اس وقت ضیا الحق زندہ تھے اور پیپلز پارٹی کو اقتدار ملنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا۔ لیکن بے نظیر بھٹو کو یہ ملاقات یاد رہی۔ جنرل ضیا کی وفات کے بعد جو پہلے جماعتی انتخابات ہوئے اس میں یوسف رضا گیلانی آئی جے آئی کے سربراہ میاں نواز شریف کو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ملتان سے ہرا کر رکنِ قومی اسمبلی بن گئے۔ جب بے نظیر بھٹو نے انہیں وزیرِ سیاحت بنایا تو وہ اردن میں تھے اور وہیں انہیں یہ خبر ملی تھی۔

کچھ عرصے بعد ان کا قلمدان تبدیل کر کے انہیں وزیرِ ہاؤسنگ بنا دیا گیا۔ انیس سو نوے کے انتخابات میں یوسف رضا نے اپنے چچا حامد رضا گیلانی کو اور انیس سو ترانوے کے عام انتخابات میں مقامی حریف سکندر بوسن کو ہرایا۔ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں وہ قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے اور انہوں نے ایوان کو پیپلز پارٹی کا وائس چیئرمین ہونے کے باوجود غیر جانبداری سے چلانے کی کوشش کی۔

Image caption ضیاالحق کو چھوڑ کر جب یوسف رضا گیلانی بینظیر سے ملنے آئے تو بینظیر بھٹو نے ان سے پوچھا کہ میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کیا ہے

اپنی سپیکر شپ کے دوران ایک گرفتار رکنِ اسمبلی کو ایوان میں پیش کرنے کی رولنگ کی عدم تعمیل پر وزارتِ داخلہ کو بھرے ایوان میں لتاڑا۔ اس کے سبب سپیکر اور وزیرِ اعظم میں تھوڑی سی کشیدگی بھی پیدا ہوئی لیکن اس نے کوئی سنجیدہ رخ اختیار نہیں کیا۔ بے نظیر بھٹو کی دوسری بار برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب سے قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ لے سکی اور ہارنے والوں میں یوسف رضا گیلانی بھی شامل تھے۔

یوسف رضا گیلانی کے وزیرِ اعظم بننے کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ اپنے خانوادے کے سیاسی ماضی کے برعکس انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد ہر اچھے برے وقت میں اس کا ساتھ دیا۔ بقول ان کے جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے جن لوگوں کو توڑنے کی کوشش کی ان میں وہ بھی شامل تھے۔ اور جب وہ ناکام ہوگئے تو انہیں نیب کے ذریعے اس الزام میں دو ہزار ایک میں سزائے قید دے دی گئی کہ انہوں نے اپنی سپیکر شپ کے دوران اپنے حلقے کے چھ سو افراد کو غیر قانونی طریقے سے ملازمت دے کر قومی خزانے کو سالانہ تیس ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔

یوسف رضا گیلانی پانچ برس سے زائد عرصے تک اڈیالہ جیل میں رہے۔ جہاں وہ بارش میں نہا کر، ریڈیو کان سے لگا کر، اپنی کتاب ’چاہِ یوسف سے صدا‘ لکھ کر، رفیع، لتا اور نیرہ نور کے گیت سن کر جولیا رابرٹس کے ساتھ ساتھ شاہ رخ خان اور ایشوریہ رائے کی فلمیں دیکھ دیکھ کر یہ قید کاٹتے رہے۔ پھر ایک روز جب وہ اپنے جیلر پرویز مشرف کے ہاتھوں این آر او کی محتاجی کا احسان کی بجائے حلف کا بار اٹھا کر وزیرِ اعظم بنے تو من موہن سنگھ نے ہدیہ محبت کے طور پر انہیں ایشوریہ رائے کی فلموں کا ایک سیٹ بھی بھیجا تھا۔

یوسف رضا گیلانی کو بہت سے اچھے شعر اور وہ بھی وزن میں ازبر ہیں۔ خود کم گو ہیں اور دل کے حال کی زیادہ پکڑائی نہیں دیتے۔ کبھی ڈپریشن محسوس ہو تو اس کا علاج سو کر کرتے ہیں۔ نیند نہ آرہی ہو تو ویلیم بھی استعمال کرلیتے ہیں۔وزیرِ اعظم بننے کے بعد نیند کا اوسط چار سے پانچ گھنٹے رہ گیا ہے۔

جب وہ وزیرِ اعظم بنے تو ایک تاثر یہ بھی تھا کہ یوسف رضا گیلانی اس وقت تک اس کرسی کی حفاظت کے لیے لائے گئے ہیں جب تک آصف زرداری رکنِ پارلیمان نہیں بن جاتے۔لیکن یہ تاثر بھی زرداری کے صدر بننے کے بعد جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔

یوسف رضا گیلانی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں آصف زرداری کی جو خوبی سب سے بھلی لگتی ہے وہ بقول ان کے آصف زرداری کی حسِ مزاح ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کسی کام کی تکمیل نہ کرلیں بے چین رہتے ہیں۔اور ہر دن کا آغاز یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ شاید کل نہ آئے۔ انہیں اکثر شدت سے احساس رہتا ہے کہ وقت کم ہے اور کرنے کے لئے کام بہت زیادہ۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ سیاست میں نہ ہوتے تو آرکیٹیکٹ ہوتے۔ حالانکہ انہوں نے صحافت میں ایم اے کر رکھا ہے۔

بہت سے لوگ اب اس انتظار میں ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کب تک آصف زرداری کی حسِ مزاح سے متاثر رہتے ہیں یا اس حسِ مزاح کی وجہ سے خود متاثر ہوجاتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ آرکیٹیکٹ بننے کی آرزو دبانے والے یوسف رضا گیلانی کو آج بھی بے نظیر بھٹو سے پہلی ملاقات کے دوران کہی گئی یہ بات یاد آتی ہو کہ ’بی بی دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔عزت کے طالب، دانشمندی کے طالب اور دولت کے طالب۔میں تو صرف عزت کا طالب ہوں۔‘