وفاقی دارالحکومت قلعے میں تبدیل

Image caption حکومت کو بتایا گیا تھا کہ بڑی تعداد میں حزب اختلاف سے وابستہ طالب علم ہاسٹلوں میں جمع ہیں

اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے حکم پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر میں موجود مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہوسٹل خالی کروا لیے ہیں۔ وکلاء کے لانگ مارچ اور دھرنے کو کوروکنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر ایک سو سے زائد کنٹینر کھڑے کیے گئے ہیں۔

شاہراہ دستور پہلے ہی شاہراہ عام نہیں ہے اور اس شاہراہ سے لے کر ڈپلومیٹک انکلیو تک کے علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔ وہاں پر سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری رینجرز کے حوالے کردی گئی ہے۔ اُدھر راولپنڈی کی انتظامیہ نے بارانی یونیورسٹی سمیت دیگر کالجوں کے ہوسٹل بھی خالی کروا لیے ہیں اور وہاں پر پولیس اہلکار تعینات کر دیئے گئی ہیں۔

سنیچر کے روز اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے وکلاء کے لانگ مارچ کے پیش نظر تین روز تک شہر کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کی وجہ سے ہوسٹلوں میں طالبعلموں کے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

پولیس کی نفری جب قائداعظم یونیورسٹی کے ہوسٹل خالی کروانے کے لیے وہاں پہنچی تو پولیس اہلکاروں اور طالبعلموں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی تاہم یونیورسٹی کے انتظامیہ بیچ میں آگئی اور معاملہ رفع دفع کروادیا۔

بعدازاں اسلام آباد اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد یہ طے پایا گیا کہ جو طلباء دور دراز علاقوں کے رہنے والے ہیں اُن کو ہوسٹل میں رہنے کی اجازت ہے جبکہ قریبی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہوسٹل خالی کردیں۔

پاکستانی خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ دی تھی کہ وکلاء کے لانگ مارچ کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتیں پا کستان مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی کی طلباء تنظیموں کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں ان ہوسٹلوں میں پناہ لے رکھی ہے جو لانگ مارچ کے دوران سڑکوں پر نکل آئیں گے اور انتظامیہ کے لیے امن وامان برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہوسٹل خالی نہیں کروائے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ چونکہ ان ہوسٹلوں میں زیادہ تر غیر ملکی رہائش پذیر ہیں اس لیے ان ہوسٹلوں کو خالی کروانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

وہاں پر سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری رینجرز کے حوالے کردی گئی ہے۔ اُدھر راولپنڈی کی انتظامیہ نے بارانی یونیورسٹی سمیت دیگر کالجوں کے ہوسٹل بھی خالی کروا لیے ہیں اور وہاں پر پولیس اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔

راولپنڈی کی پولیس پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محمد حنیف عباسی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے ۔ راولپنڈی کی پولیس نے اُن کے خلاف لیاقت باغ کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر کی یادگار کو نقصان پہنچانے اور وہاں سے دس ہزار روپے کی رقم چُرانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں