مختار مائی نے شادی کر لی

Image caption مختار مائی نے شادی کر لی

اجتماعی زیادتی کا شکار بننے کے بعد انصاف کے لیے جدوجہد کے حصول میں عالمی شہرت حاصل کرنے والی مختار مائی نے گزشتہ اتوار کو ایک پولیس کانسٹیبل سےنکاح کر لیا۔

مظفر گڑھ کے گاؤں میر والا سے ٹیلی فون پر بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختار مائی نے بتایا کہ 'میں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ شادی کی ہے۔۔ میں اگر اس شادی کے لیے رضامند نہ ہوتی تو تین خواتین کو طلاق ہوجاتی اور ان کے گیارہ بچے در بدر ہوجاتے۔‘

سینتیس سالہ مختار مائی نے بتایا کہ ناصر گبول سے ان کی پہلی بار شناسائی اس وقت ہوئی جب سنہ دو ہزار دو میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھائی اور اس پر علاقے کے با اثر افراد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد انہیں تحفظ دینے کی خاطر پولیس چوکی بنی۔

’پولیس چوکی میں آٹھ سپاہی تعینات ہوئے اور ناصر نے مجھ سے فون پر بات چیت کرنی شروع کی۔ جب بھی مجھ سے وہ شادی کی بات کرتا تو میں انہیں ٹوک دیتی اور موضوع بدل دیتی۔ ناصر نے بعد میں میرے بھائی شکور مستوئی سے دوستی کرلی اور یوں دونوں خاندانوں میں میل جول کا سلسلہ شروع ہوگیا۔‘

’ناصر نے چد برس قبل شادی کی پیشکش کی میں نے ٹھکرادیا اور گزشتہ ڈیڑھ برس پہلے انہوں نے میرے والدین کے ذریعے میرا باضابطہ رشتہ مانگ لیا۔ میرے والدین نے جب مجھ سے بات کی تو میں نے شادی سے انکار کیا۔ کیونکہ میں عورت ہوں اور کسی عورت کا گھر خراب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ جس پر ناصر نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی دھمکی دی تو ناصر کے والدین بیوی بچے اور دو بہنیں میرے پاس آئے اور مجھ سے ناصر سے شادی کے لیے منت سماجت کی۔‘

مختار مائی نے بتایا کہ اس دوران ناصر نے خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی اور بہت زیادہ خواب آور گولیاں کھالیں۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا اور وہ بچ گئے۔

مختار مائی نے بتایا کہ ناصر کی پہلی بیگم کا کہنا ہے کہ اگر ناصر انہیں طلاق دے گا تو اس کے بدلے میں وٹہ سٹہ کے تحت بیاہی ہوئی ناصر کی دو بہنوں کو بھی طلاق ہوجائے گی اور تین خاندان اجڑ جائیں گے۔ میں نے سوچا کہ میری وجہ سے تین خواتین کی زندگی برباد ہوجائے یعنی تین خاندان متاثر ہوں گے اور ان کے گیارہ بچے بھی دربدر ہوجائیں گے۔ لہٰذا میں نے شادی کی حامی بھرلی اور بڑی سادگی کے ساتھ اتوار پندرہ مارچ کو نکاح کرلیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ بچوں کی تعلیم اور خواتین کی مدد کے لیے مراکز چلا رہی ہیں ناصر اس میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ ان کے مطابق انہوں نے ناصر سے یہ بھی لکھوایا ہے کہ ان کا جو مکان ہے وہ ان کی پہلی بیوی کے نام ہوگا، انہیں ملنے والی بارہ ہزار روپوں کی ماہانہ تنخواہ میں سے وہ دس ہزار پہلی بیگم کو دیں گے اور خود صرف دو ہزار میں سے گزارہ کریں گے۔

’ناصر گبول اتنا زیادہ خوبصورت نہیں ہے لیکن ٹھیک ہی ہے۔ سانولے رنگ کا ہے پکا گندمی رنگ ہے ان کا۔ جب انہوں نے خود کشی کی کوشش کی اور اپنا خاندان مجھ پر قربان کرنے کی کوشش کی تو میرے دل میں بھی نرمی پیدا ہوئی اور پھر میں نے رضا مندی ظاہر کردی۔‘

مختار مائی نے بتایا کہ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ کبھی شادی نہیں کریں گی اور زندگی بھر غریب خواتین کی مدد اور خدمت میں گزاریں گی لیکن وہ کہتی ہیں کہ حالات نے ان کا ارادہ بدل ڈالا ہے۔

واضح رہے کہ مختار مائی کے ساتھ مقامی پنچائیت کے فیصلے پر چار افراد نے ان پر جنسی تشدد کیا اور انہوں نے اپنے با اثر ملزمان کے خلاف جان کی پروا کیے بنا مقدمہ درج کروایا اور انہیں سزا دلوائی۔ ان کی جرءت پر ’گلیمر‘ میگزین نے انہیں سنہ دو ہزار پانچ میں واشنگٹن میں ’وومن آف دی ایئر کا اعزاز بھی دیا۔‘