جسٹس ڈوگر کا آخری دن

Image caption جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے ایک بار پھر نظریہ ضرورت کو زندہ کیا

جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جمعہ کے روز آخری مرتبہ اپنے فرائض انجام دیئے اور اس دوران انہوں نے اپنے ساتھی ججوں کے ساتھ ملاقات کے علاوہ سپریم کورٹ کے ملازمین سے خطاب کیا۔

جسٹس عبد الحمید ڈوگر اپنے دور میں متنازعہ چیف جسٹس رہے ۔ وکلاء کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور کئی دیگر سیاسی جماعتیں اُن کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتی تھیں۔

پاکستا ن کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے عبدالحمید ڈوگر کو اُس وقت چیف جسٹس بنایا گیا جب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ملک میں تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ایمرجنسی لگا کر اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کر دیا تھا۔

جس وقت ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا اُس وقت عبدالحمید ڈوگر سپریم کورٹ میں سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر تھے۔ عبدالحمید ڈوگر قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔

عبدالحمید ڈوگر ایک سال چار ماہ اور پندرہ دن تک ملک کے چیف جسٹس رہے۔ پہلے اُنہوں نے عبوری حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا اس کے بعد ملک میں آئین بحال ہونے کے بعد اُن سمیت پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے دیگر ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھایا تھا۔

عبدالحمید ڈوگر کے کریڈٹ میں زیادہ تر اہم فیصلے وہ ہیں جو حاکم وقت کو پسند تھے۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے علاوہ جو اقدام تھے اُن کو عبدالحمید ڈوگر نے نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا۔

جسٹس ڈوگر نےجنرل پرویز مشرف کے بطور صدر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے احکامات بھی دیئے۔

واضح رہے کہ بحال ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نےاگرچہ پرویز مشرف کو بطور آرمی چیف صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تو دے دی تھی تاہم انہوں نے الیکشن کمشن کو حکم دیا تھا کہ وہ اُس وقت تک اُن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے جب تک سپریم کورٹ ان درخواستوں کا فیصلہ نہیں کر لیتی۔

جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس پر عملدرامد کے لیے تمام عدالتوں کو ہدایات جاری کیں تھیں کہ اس آرڈیننس کے تحت جتنے بھی مقدمات ہیں ان کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

اس آرڈیننس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی اور حکمراں اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو ہوا جن کے لیڈر اور ہزاروں کے تعداد میں کارکن اس سے مستفید ہوئے۔

اس کے علاوہ انتخاب میں حصہ لینے کےلیے اُمیدواروں کے لیے بی اے پاس ہونے کی شرط بھی ختم کردی حالانکہ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات بھی یہ شرط لاگو تھی۔حکومت مخالف سیاسی جماعتیں الزام لگاتی رہی ہیں کہ بی اے پاس ہونے کی شرط آصف علی زرداری کو فاہدہ پہنچانے کے لیے ختم کی گئی کیونکہ بقول سیاسی جماعتوں کے آصف علی زرداری بی اے پاس نہیں ہیں۔

لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کا معاملہ عبدالحمید ڈوگر کے دور میں نہ ہونے کے برابر اُٹھایا گیا اس عرصے کے دوران اُن افراد کی بازیابی نہیں ہوسکی جن کی فہرست ہومین رائٹس آف پاکستان اور دوسری غیر سرکاری تنظیموں نے سپریم کورٹ میں جمع کروا رکھی ہے۔

عبدالحمید ڈوگر سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں بھی شامل تھے جس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کے بارے میں درخواستوں کی سماعت کی تھی اور اس بینچ نے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کارروائی کرنے کے بارے میں احکامات بھی جاری کیے تھے جن پر عملدرامد نہیں ہوسکا تھا۔

عبدالحمید ڈوگر ایک سال چار ماہ اور پندرہ دن تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے اور وہ اس عرصے میں چیف جسٹس ہاؤس میں نہ رہ سکے جو کہ پاک پی ڈبلیو ڈی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے تیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس ہاؤس میں نظر بند کیا ہوا تھا۔

اس عرصے کے دوران حکومتی اہلکاروں نے ججز کالونی میں ایک اور معزول جج خلیل الرحمن رمدے کے گھر کا سامان اُٹھا کر باہر پھینک دیا تھا جس پر داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے تحقیقات کا حکم دیاتھا لیکن یہ معاملہ بھی فائلوں کی نظر ہوگیا۔

اُن کے دور میں سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں وکلاء اور عام آدمی کا داخلہ محدود کردیا تھا اور عبدالحمید ڈوگر کے بطور چیف جسٹس شروع کے ایام میں صرف اُن وکلاء اور دیگر افراد کو سپریم کورٹ میں آنے کی اجازت تھی جن کے مقدمات کی سماعت ہوتی تھی۔سپریم کورٹ کی انتظامیہ اس ضمن میں خصوصی پاس جاری کرتی تھیں۔

عبدالحمید ڈوگر کی شخصیت اُس وقت مزید متنازعہ ہوگئی جب اُن کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو امتحانی پرچوں میں اضافی نمبر دینے کا معاملہ مختلف اخبارات کی زینت بنا اور حکومت مخالف سیاسی جماعتیں اور وکلاء کا ایک گروپ عبدالحمید ڈوگر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا رہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ عبدالحمید ڈوگر نے اپنی بیٹی کو اضافی نمبر دلوانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ہے۔

حزب مخالف اس معاملے پر عبدالحمید ڈوگر کو بطور فرح حمید ڈوگر کے والد تعلیم کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر بضد تھیں جبکہ حکومتی وزراء اس معاملے میں عبدالحمید ڈوگر کا دفاع کرتے ہوئے دیکھائی دیتے تھے۔

یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا جس کی سماعت اُس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے کی جنہوں نے ان درخواستوں کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ درخواستیں میرٹ پر نہیں ہیں۔سردار محمد اسلم کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا جا چکا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی تعلیمی بورڈ کے قانون میں نمبر کی دوبارہ گنتی کا قانون تو موجود ہے لیکن کسی سوال کے جواب پر دوبارہ نمبر لگانے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں