چیف جسٹس افتخار کام پر واپس

Image caption ’حکومت کا کام لوگوںکو تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ ان سے عدالتوں میں قانونی لڑائیاں لڑنا‘

سترہ ماہ کی معطلی کے بعد پہلے روز سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کا کام اپنے لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہے اور عوام کو اس حق کی فراہمی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائےگی۔

یہ بات جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے عہدے پر بحالی کے بعد پہلے روز سپریم کورٹ میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہی۔

جسٹس افتخار نے پہلے روز ایڈہاک اساتذہ کے مقدمے کی سماعت کی جنہیں آٹھ سالہ ملازمت کے بعد عدالت عظمیٰ نے مستقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن پیٹشنرز کے مطابق اس فیصلے کو بھی سات سال گزر جانے کے باوجود پنجاب حکومت نے انہیں مستقل نہیں کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ ان سرکاری ملازمین کو مستقل کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینے کے بجائے کل تک انکا حق انہیں دیں ورنہ عدالت ان پر بہت بھاری جرمانہ عائد کرے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے میں بہت قانونی موشگافیاں ہو چکیں لیکن اب انصاف کا وقت آگیا ہے۔ ’ان غریب اساتذہ نے اپنے چودہ برس یعنی پوری جوانی اور خون حکومت کے اداروں کی خدمت میں صرف کر دیا اور اب بھی حکومت انہیں انکا حق دینے میں تامل سے کام لے رہی ہے۔ یہ سرا سر زیادتی ہے‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا کام اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ ان سے عدالتوں میں قانونی لڑائیاں لڑنا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے ان غریب لوگوں کا بہت وقت اور پیسہ برباد کر دیا ہے اپنی حکومت سے مشورے کے بعد اب یہ مقدمہ واپس لے لیں‘۔

چیف جسٹس کے لیے مخصوص عدالت نمبر ایک میں دو ساتھی ججوں کے ہمراہ مقدمات کی سماعت سے قبل منگل کی صبح جسٹس افتخار سترہ ماہ کی معطلی کے بعد جب سپریم کورٹ پہنچے تو وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان کی بڑی تعداد نے عدالت عظمیٰ کے صدر دروازے پر ان کا استقبال کیا۔ چیف جسٹس پروٹوکول اور حفاظتی دستے میں گھری گاڑیوں میں جب سپریم کورٹ کے باہر پہنچے تو سڑک پر موجود سینکڑوں وکلاء نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے، ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور خیر مقدمی نعرے لگائے۔

اس موقع پر ملک بھر سے خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ بھی اپنے گمشدہ رشدہ داروں کی بڑی بڑی تصاویر لے کر استقبالی عوام میں شامل تھے۔ چیف جسٹس کی گاڑی وکلاء کے ہجوم میں ججز گیٹ سے اندر داخل ہوئی جس کے بعد جسٹس افتخار اپنے ساتھی جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے ہمراہ اپنے چیمبر میں چلے گئے۔

چیف جسٹس نے پہلے روز چند ماہ قبل دوبارہ تعینات ہونے والے ججوں جسٹس ناصر المک اور جسٹس شاکر اللہ جان کے ہمراہ مقدمات کی سماعت کی۔

گیارہ بجے تک مقدمات کی سماعت کے بعد چیف جسٹس نے سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا سے ان کے عہدے کا حلف بھی لیا۔

اسی بارے میں