اسلام آباد: ای سیون میں حملہ، آٹھ ہلاک

اسلام آباد
Image caption حملے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی

اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع فرنٹیئر کانسٹیبلری کے رہائش کیمپ پر ایک خودکش حملے میں پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق آٹھ اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

جائے وقوعہ سے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سنیچر کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً شام پونے آٹھ بجے ایف سیون اور ای سیون کے درمیان گرین بیلٹ پر واقع ایف سی کے کیمپ میں زوردار دھماکہ ہوا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔حکام نے بتایا ہے کہ یہ فائرنگ ایف سی کی طرف سے کی گئی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ خودکش حملہ آور ای سیون کی طرف واقع گرین ایریا کی طرف سے آیا اور اُس نے عمارت میں داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اُّڑا دیا۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اس کی ناکہ بندی کر دی۔ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ حملے کے وقت ایف سی کے چوبیس اہلکار موقع پر موجود تھے جن میں سے چھ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملے کا نشانہ بننے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار اسلام آْباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں قائم غیر ملکی سفارت خانوں اور اہم سرکاری عمارتوں کے باہر فرائض سرانجام دیتے تھے۔

ڈی آئی جی آپریشن بن یامین کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں سات سے آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ خودکش حملہ آور کے ساتھی قریبی جنگل میں چُھپے ہوں اور اُن کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کی گئی ہے جس میں رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں ہیں۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر اسد اللہ فیض کا کہنا ہے کہ پولیس نے دو مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف ائی اے کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹئیر کانسٹیبلری کی بیرک کے باہر موجود اہلکار کھانا کھانے چلا گیا جس کی وجہ سے خودکش حملہ آور کو اس کیمپ میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔ جس جگہ یہ واقعہ رونما ہوا اُس کے ساتھ ہی اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی بیرک بھی موجود تھی جس میں بیس سے زائد پولیس اہلکار موجود تھے۔

واضح رہے کہ حکومت نے چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا تھا کہ شدت پسند لاہور میں مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاقے میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے مراکز کے علاوہ اہم قومی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک سرکاری دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے جس کے تحت بہت جلد اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں سِول، فوجی تنصیبات کے علاوہ غیر ملکی سفارت خانے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں