میرانشاہ: خودکش حملہ، تین بچے ہلاک

میرانشاہ میں زخمی ہونے والے بچے
Image caption حملے میں زخمی ہونے والے سکول کے بچے وہاں سے گزر رہے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر ایک خودکش حملے میں تین بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور اٹھارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں پانچ پرائیوٹ گاڑیوں بھی نقصان پہنچا ہے جو چیک پوسٹ قریب کھڑی تھی۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش حملہ اور نے ایک سفید رنگ کی گاڑی سٹیڈیم چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش حملے میں ان کے صرف تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن کو میرانشا سکاؤٹس ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے تمام راستوں کو بند کیا ہے کسی کو سکاؤٹس قلعہ طرف جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق خودکش حملے میں تین راہ گیر بچے بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

یادرہے کہ شمالی وزیرستان میں پہلے بھی سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں اور قافلوں پر حملے ہوئے ہیں۔جس میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

لیکن گزشتہ دو سال سے حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد علاقے میں قدر سکون تھا۔ علاقے میں جب سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملے شروع ہوئے ہیں تب سے امن معاہدوں کا اثر ختم ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے مقامی طالبان کی طرف سے سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں اور قافلوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں