چکوال میں خودکش حملہ، چوبیس ہلاک

چکوال
Image caption زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے ڈی ایچ کیو اور قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال کی ایک امام بار گاہ کے قریب خودکش حملے میں ضلع ناظم چکوال سردار غلام عباس کے مطابق چوبیس افراد ہلاک اور اکتالیس زخمی ہوئے ہیں۔

چکوال دھماکہ : تصاویر

اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ اتوار کی دوپہر شہر کے وسط میں واقع امام بارگاہ کے قریب اس وقت ہوا جب امام بارگاہ میں سالانہ مجلس ہورہی تھی اور وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ریجنل پولیس آفیسر ناصر درانی کے مطابق عمارت کے باہر پولیس اور امام بارگاہ کی انتظامیہ مجلس میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تلاشی لے رہی تھی اور اسی دوران ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے کے ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر کا تعلق چکوال کے محلے کوٹ گنیش سے ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ بقیہ افراد کی نماز جنازہ پیر کی صبح دس بجے ادا کی جائے گی۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد دینے کے لیے ڈی ایچ کیو اور قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ریجنل پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بارے پہلے سے کوئی اطلاعات نہیں تھیں اور پولیس کے انتظامات اور چیکنگ کی وجہ سے حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل نہیں ہو سکا۔ آئی جی پنجاب کے مطابق حملہ آور کی عمر چودہ سے پندرہ سال کے درمیان تھی اور اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی دڑاھی تھی۔ آئی جی پولیس کے مطابق حملہ آور کی ٹانگیں اور مسخ شدہ چہرہ مل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے یہ کامیابی ہوئی کہ حملہ آور عمارت کے اندر نہیں جا سکا۔ ایک سوال پر شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں چند کو چھوڑ کر باقی تمام ملزموں کے سراغ مل گئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے اس واقعے کی مذمت کرتےہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ حکومت پنجاب نے اس واقعہ کی تفتیش کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور بقول آئی جی پولیس پنجاب شوکت جاوید اس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی سی آئی ڈی کریں گے۔

لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کچھ ایسی قوتیں ہیں جو یہ نہیں چاہتیں کہ پاکستان ترقی کرے اور مستحکم ہو۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے وہ جن باتوں کی نشاندہی کرے گی ان کی روشنی میں ایک جامع پالیسی ترتیب دی جائے گی۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عرب، ازبک اور چیچن کے علاوہ دوسرے ملکوں کے لوگ ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یوسف رضاگیلانی نے اپیل کی کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر پاکستان کو دہشت گردی کے بھنور سے باہر نکالیں۔

دوسری جانب جعفریہ الائنس نے کراچی پریس کلب کے سامنے چکوال میں بم دھماکے کے خلاف مظاہرہ بھی کیا ہے۔ کراچی سے ارمان صابر کے مطابق جعفریہ الائنس کے صدر علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ یہ کام مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دھماکے کافروں کی ایماء پر کیے جارہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان آپس میں تقسیم ہوجائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سازش کا نوٹس لے اور عوام اس سازش کو اپنے اتحاد کے ذریعے ناکام بنائیں۔

شیعہ علماء کونسل کے کارکنوں نے بھی چکوال میں بم دھماکے کے خلاف مظاہرہ کیا جس سے علامہ ناظر عباس تقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردی کی کاروائی ہے۔ مظاہرے کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کررہے تھے۔ چکوال میں بم دھماکے کے بعد کراچی کے بعض علاقوں میں کشیدگی محسوس کی جارہی ہے جبکہ سندھ کے آئی جی پولیس صلاح الدین بابر خٹک نے صوبے اور خاص طور سے کراچی میں امام بارگاہوں، مساجد اور دیگر حساس مقامات پر سیکیورٹی بڑھانے احکامات جاری کیے ہیں۔