چکوال کے غلام رضا کی کہانی

چکوال
Image caption ٹکڑوں کی شکل میں ہسپتال آنے والی لاشوں کے لیے لکڑی کے تابوت کا بندوبست کیا جا رہا ہے

چکوال کے محلہ کوٹ گنیش کے اس کچے پکے گھر کے صحن میں جب غلام رضا کی لاش رکھی گئی تو پوری گلی میں جیسے کہرام مچ گیا۔ اتوار کی شام اس چھوٹے سے محلے کی تقریباً ہرگلی میں ایسا ہی شور تھا۔

علاقے کی سب سے بڑی امام بارگاہ کے سامنے چکوال کا یہ محلہ اہل تشیع کی بڑی تعداد کی وجہ سے مشہور ہے۔ جہاں چند گھر سنی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے بھی ہیں۔

گھر سے قریب ہونے کے باعث امام بارگاہ کے بیشترانتظامی امور اسی محلے کے نوجوان انجام دیتے تھے۔ صفائی ستھرائی، پانی کی سبیلیں، حفاظتی انتظامات وغیرہ۔ اور اتوار کی دوپہر ہونے والے خودکش حملے کے بعد سب سے زیادہ لاشیں بھی اس محلے میں لائی گئیں۔

بائیس سالہ غلام رضا کے بڑے بھائی نے دو کمروں پر مشتمل اپنے گھر کے کچے صحن میں اپنے بھائی کی لاش کے سرہانے بیٹھ کر بی بی سی کو بتایا کہ امام بارگاہ محلہ سر پاک کی صفائی کرنا ہمارا آبائی کام ہے۔ ’ہمارے والد صاحب بھی اسی امام بارگاہ میں جھاڑو دار تھے اور ہم چاروں بھائی بھی شوق کی خاطر یہی کام کرتے ہیں‘۔

گلفام نے اپنے چھوٹے بھائی کی میت کی طرف اشارہ کر کے ڈبڈباتی آنکھوں سے کہا کہ ’ہم سے تو کبھی بھول چوک ہو جاتی تھی لیکن یہ ہمیشہ باقاعدگی سے اپنا کام کرتا رہا۔ آج بھی یہی بازی لے گیا‘

رضا خاندان تین بھائیوں اور تین بہنوں پر مشتمل ہے۔ دھماکے کے وقت پورا خاندان امام بارگاہ میں موجود تھا۔

گلفام نے بتایا کہ تینوں بھائی دیہاڑی پر محنت مزدوری کر کے اپنا گزارا کر رہے ہیں۔ غلام رضا کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کے بھائی کے بقول وہ ان کی شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے ان کی منگیتر کے گھر جانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔’غلام رضا کام پر جائے یا نہ جائے، جھاڑو داری کے اپنے فرض سے کبھی غافل نہیں ہوا‘۔

محلہ کوٹ گنیش کی تنگ گلیوں سے نکلیں تو بالکل سامنے وسیع و عریض مرکزی امام بارگاہ پڑتی ہے اور اس سے متصل اس سے بھی بڑا کھیلنے کا میدان ہے۔ اس میدان میں جگہ جگہ ٹولیوں کی شکل میں اہل محلہ اتوار کی شام تک بیٹھے اس نکتے پر بحث کرتے رہے تھے کہ علاقے میں کئی دہائیوں سے قائم شیعہ اور سنی مسالک کے افراد کے درمیان دوستی اور احترام کے رشتے کو کس کی نظر لگ گئی؟

ساٹھ سالہ جاوید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی انہی لوگوں نے کی ہے جو پورے ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’میری زندگی میں اس علاقے کے سنی اور شیعہ مسالک کے درمیان کبھی جھگڑا بھی نہیں ہوا۔ پولیس محرم کے جلوس کے لیے حفاظتی اقدامات کرتی ہے لیکن وہ بھی رسمی ہو تے ہیں‘۔

اما بارگاہ کے حفاظتی انتاظامات کے انچارج تحسین نے کہا کہ علاقے کے سنی لوگ بھی اس سانحے پر اتنے ہی رنجیدہ ہیں جتنے کہ شیعہ آبادی۔ ’یہ لوگ ہمارے شہیدوں کے لیے قبریں تیار کر رہے ہیں، ہمارے جنازوں کو کندھا دے رہے ہیں اور ہمارے زخمیوں کے لیے خون دے رہے ہیں۔ ایسے میں کون مانے گا کہ یہ واردات فرقہ وارنہ ہے‘۔ تحسین کے مطابق یہ کام انہی ’طالبان نما‘ عناصر کا ہے جو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پاکستانی قوم پر ظلم کر رہے ہیں تاکہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

اسی قسم کے جذبات چکوال کے سب سے بڑے سول ہسپتال کی راہداریوں میں بھی سننے کو ملے جہاں لواحقین اپنے زخمی مریضوں کے سرہانے کھڑے اس سانحے کی وجوہات پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر تے نظر آئے۔

ہسپتال کے شعبہ حادثات کے صدر دروازے کے سامنے چارپائیوں اور لکڑی کے تابوتوں میں امام بارگاہ میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھی ہوئی ہیں جہاں سے انہیں لواحقین کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی ایک دیوار پر لگے نوٹس بورڈ پر یہ تحریر ہاتھ سے لکھ کر چسپاں کی گئی ہے۔’لواحقین اپنی لاشیں وصول کرنے کے بعد چیک کر لیں اگر ان کے اعضاء پورے نہ ہوں تو ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے‘۔

یہ تحریر بتا رہی تھی کہ اس ہسپتال میں لاشیں کس حالت میں لائی گئی ہوں گی۔ اسی ضمن میں مزید معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ جو لاشیں درست حالت میں تھیں انہیں چارپائیاں مہیا کی گئی ہیں جبکہ ٹکڑوں کی شکل میں ہسپتال آنے والی لاشوں کے لیے لکڑی کے تابوت کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

محلہ کوٹ گنیش کا غلام رضا اس لحاظ سے ’خوش قسمت‘ تصور کیا جائیگا کہ اس کی لاش چارپائی پر لائی گی ہے جبکہ محلے میں آنے والی بیشتر لاشیں تابوتوں میں ہی بند نظر آئیں۔

اسی بارے میں