بلوچ رہنماؤں کی ہلاکت، پرتشدد احتجاج

Image caption تین راہنماؤں کی لاشوں کی تصدیق ہو گئی ہے

بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بگٹی اور لالہ منیر کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں اور کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ خضدار میں مظاہروں کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے ان ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

مظاہروں کے دوران کوئٹہ میں سریاب روڈ پر اقوام متحدہ سمیت دیگر اداروں کی پانچ گاڑیوں اور ایک بس کو آگ لگائی گئی ہے۔ سریاب روڈ کے علاوہ بروری کے علاقے میں بینکوں اور سرکاری دفاتر کو نذرِ آتش کیا گیا ہے اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ مظاہروں کے بعد بلوچستان یونیورسٹی تین دن کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی اہم شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔

ادھر بلوچستان نینشل پارٹی کی جانب سے بھی تین روز ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں کو پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اب یہ ملک زیادہ دن نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں بھی وہ ہی قوتیں شامل ہیں جنہوں نے ملک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا۔

اختر مینگل کے مطابق تین لاشیں بھیج کر انہیں چیلنج کیا گیا ہے کہ اپنےحقوق سے دستبردار ہوجائیں مگر ہم یہ چیلنج قبول کرتے ہیں۔’جتنے لوگ مارنے ہیں مارو ہم حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔‘

اسی طرح خضدار، تربت، گوادر اور دیگر علاقوں میں بھی بلوچ رہنماؤں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجاً شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ خضدار میں گاڑیوں اور عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات ہیں جبکہ خضدار کے ضلعی پولیس افسر غلام علی لاشاری نے بتایا ہے کہ نامعلوم افراد نے ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

کراچی شہر کے مختلف علاقوں لیاری، پرانا گولی مار، پٹیل پاڑہ اور جہانگیر روڈ پر ٹائروں کو نذر آتش کرکے احتجاج کیا گیا ، بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔بلوچ رائٹس کونسل کے رہنماء وہاب بلوچ نے دیگر لاپتہ افراد کی زندگیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

بلوچ مزاحمت کاروں کی جانب سے اغوا کیئےگئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے اہلکار جان سولیکی کی رہائی کے لیے نواب خیر بخش مری سے مذاکرات میں غلام محمد بلوچ بھی شریک رہے تھے۔

غلام محمد کے ساتھی بلوچ رائٹس کونسل کے رہنماء وہاب بلوچ کا کہنا ہے کہ جان سولیکی کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ کے وفد سے مذاکرات کے بعد انہیں دھمکیاں ملتی رہیں تھیں اس قدر کہ انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے کتنے بچے ہیں۔

بلوچ رہنماؤں کی ہلاکت کے حوالے سے نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹرحاصل بزنجو نے کہا ہے کہ اس قتل کے ذمہ دار آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ چھ روز پہلے خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکار ان تین رہنماؤں کو کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر سے اٹھا کر لےگئے تھے اور اسی دن ہی انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قتل کے واقعہ کی ایف آئی آر آئی ایس آئی کے چیف جنرل شجاع پاشا اور ایم آئی کے سربراہ میجر جنرل آصف کے خلاف درج کرنی چاہیے۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ تمام بلوچوں کو متحد ہو کر کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ اس واقعہ کے بعد بلوچ قوم کے لیے ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے کہ اب وہ اسلحہ نہ اٹھائیں تو کیا کریں‘۔

اس دوران براہمدغ بگٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے نامعلوم مقام سے براہمدغ بگٹی کا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تینوں رہنماؤں کا قتل آزادی کے حصول کی طرف ایک قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں رہنماؤں کے قتل سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں بلوچوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما شیر محمد بگٹی کی لاشیں گزشتہ رات تربت کے قریب مسخ شدہ حالت میں ملی تھیں۔ تربت کے پولیس افسر ایاز بلوچ کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان رہنماؤں کو کس نے قتل کیا ہے تاہم یہ لاشیں قریباً چھ روز پرانی ہیں۔

اسی بارے میں