مشرف طیارہ کیس: عدم ثبوت پر بری

تفتیش کار
Image caption حملے کے بعد پولیس اور تفتیش کاروں کے موقع پر جلد پہنچنے کے باوجود عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کیے جا سکے

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے طیارے پر فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو افراد کو بری کر دیا ہے۔

بدھ کے روز جب اس مقدمے کی سماعت شروع کی گئی تو ملزمان ڈاکٹر نیاز اور مظہرالحق کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس نے اُن کے مؤکلوں کے خلاف ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے مقدمہ درج کیا ہوا ہے اور ابھی تک اُن کے خلاف کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے بارہا ہدایات کے باوجود استعاثہ اُن کے مؤکلوں کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد عدالت میں پیش نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے گھر کے مالک کے بیان پر اُن کے مؤکلوں کو گرفتار کیا تھا لیکن اُس میں بھی مقامی پولیس ان افراد کے سابق صدر مشرف کے طیارے پر حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کرسکی۔

سماعت کے دوران عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے استغاثہ سے کہا کہ اگر اُن کے پاس ملزمان کے اس مقدمے میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں تو اُنہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

استغاثہ کی طرف سے ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم نہ کرنے کی بنا پر عدالت نے ان دونوں افراد کو اس مقدمے میں بری کردیا۔

واضح رہے کہ جولائی سنہ دوہزار سات میں راولپنڈی کے علاقے اصغر مال کے قریب ایک گھر کی چھت سے سابق صدر جنرل ریٹایرڈ پرویز مشرف کے طیارے پر اُس وقت حملہ کیا گیا جب اُن کا طیارہ کوئٹہ کے لیے پرواز کر رہا تھا۔ جس جگہ سے طیارے پر فائرنگ کی گئی وہاں سے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کا رن وے صاف نظر آتا ہے۔

جس مکان سے طیارے پر فائرنگ کی گئی وہاں سے پولیس نے مشین گن، لانچنگ پیڈ اور دیگر اسلحہ بھی برامد کیا تھا۔ پولیس نے اُس کے گھر کے مالک کے بیان کی روشنی میں مذکورہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جس میں مالک مکان محمد حسین کا کہنا تھا کہ اُس نے یہ گھر ڈاکٹر نیاز اور مظہرالحق کو کرائے پر دیا تھا۔

واضح رہے کہ جس وقت سابق صدر پرویز مشرف کے طیارے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اُس دور میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف فوجی آپریشن جاری تھا۔

اسی بارے میں