’کیلاش قبیلے کا وجود خطرے میں‘

زینا اور دُردانہ
Image caption زینا اور دُردانہ

جیسا کہ آپ چترال ڈائری کی تیسری قسط میں پڑھ چکے ہیں کہ دنیا کے ایک انوکھی ثقافت اور روایات والے قبیلے کیلاش کے لوگوں کی روایت یہ بھی ہے کہ وہ سب سے زیادہ خرچہ انتقال پر کرتے ہیں اور اس میں اپنا گھر تک لٹا دیتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق جب کسی کے گھر میں کسی کا انتقال یا موت ہو جائے تو اس کے جاننے والے جب آکر فوت ہونے والے شخص کی تعریف کرتے ہیں تو گھر کا سربراہ بکرا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ پھر کوئی اور آگیا اور اس نے آکر کہا کہ فلاں بڑا بہادر تھا تو پھر ایک اور بکرا کاٹا جاتا ہے۔ انتقال پر خرچہ اتنا ہوتا ہے کہ کبھی شادی یا کسی اور موقع پر بھی نہیں کیا جاتا۔ بسا اوقات کچھ لوگ اپنا ریوڑ کا ریوڑ بھی کاٹ کر لوگوں کو کھلا دیتے ہیں اور پھر سے ریوڑ پالتے ہیں اور اگر کسی گھر میں سال میں دو تین اموات ہوجائیں تو وہ زندگی بھر شاید ہی قرضے سے جان چھڑا سکے۔

پہلی قسط: اعتدال پسند چترالی اور طالبان کا خوف

دوسری قسط: اور جب کیلاش لڑکیوں نے اشارہ کیا۔۔

تیسری قسط: کالاش انتقل پر اپنا گھر لُٹا دیتے ہیں

بموریت میں کیلاش قبیلے کے لوگوں نے موسم بہار کا میلہ چلم جوشٹ منعقد کیا تو مرد نیز خواتین اور بچے درختوں کی ٹہنیاں لہراتے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے اور گاتے ہوئے مخصوص مقام تک پہنچتے۔ کیلاش قبیلہ سال میں چار موسموں کے ناموں سے اپنے میلے مناتا ہے۔ تیرہ سے سولہ مئی کو موسم بہار، بائیس سے تئیس اگست کو موسم گرما، نو سے دس اکتوبر کو موسم خزاں اور دسمبر کے ابتدائی بیس تاریخوں میں موسم کے اعتبار سے کسی بھی وقت منعقد کرتے ہیں۔

تمام میلوں میں خوشیاں منانے کا انداز تقریباً ایک ہی ہوتا ہے۔ میلے کے موقع پر مخصوص مقام پر دو ڈھول والے ڈھول بجاتے اور قبیلے کے مرد ان کے قریب کھڑے ہوکر گاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں جبکہ خواتین اپنی ہم عمروں کے ساتھ تین، پانچ یا اس سے بھی زیادہ تعداد میں ٹولیوں کی صورت میں ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر گول دائرے میں چکر لگاتی ہیں۔ موسم بہار اور گرمی کے میلے کھلے ماحول میں منعقد ہوتے ہیں جبکہ موسم سرما کا میلہ بند کمرے میں ہوتا ہے۔ ہر وادی میں اس کے لیے بڑے بڑے ہال تعمیر کیے گئے ہیں۔

بموریت میں موسم بہار کے میلے کے دوران میری ملاقات دُردانہ اور زینا سے ہوئی۔ دردانہ نے اپنے قبیلے کے بارے میں بتایا کہ ان کے ہاں ننانوے فیصد شادیاں پسند کی ہوتی ہیں اور آج کل بہت ہی کم ’ارینج میریج‘ ہوتی ہے۔ زینا نے بیچ میں بولتے ہوئے بتایا کہ لڑکیاں جس لڑکے کو چاہتی ہیں پہلے اس کو دو تین برس پرکھتی ہیں، بات چیت میل ملاقات ہوتی ہے، تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اور پھر شادی کرلیتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے ہاں منگنی کرنا، یا انگوٹھی پہنانے وغیرہ کی کوئی رسم نہیں۔ لیکن ان کے مطابق شوہر اور ان کے والد حسب توفیق زیور، کپڑے اور بکرے جہیز میں دیتے ہیں۔ زینا جو گریجوئیشن کر رہی ہیں اور ایک غیر سرکاری تنظیم سے بھی وابستہ ہیں انہوں نے بتایا کہ شادی کے بعد کالاش مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو چھوڑنے اور کسی اور سے شادی کرنے کا پورا حق ہوتا ہے۔ ان کے بقول شادی شدہ عورت اگر شوہر سے مطمئن نہیں تو کسی اور چاہنے والے کے ساتھ بھاگ کر دوسری شادی کرتی ہے۔

Image caption میلے کے موقع پر خواتین ٹولیوں کی صورت میں ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کرگول دائرے میں چکر لگاتی ہیں

لیکن ایسے معاملے میں اس عورت کا دوسرا شوہر پہلے شوہر کو اُتنی رقم ادا کرتا ہے جتنی اس نے عورت پر خرچ کی ہوتی ہے۔ اکثر ایسے معاملات میں رقم دوگنی طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرے مرد سے شادی کرتی ہے تو پھر اس مرد کی عورت اس شخص سے شادی کرتی ہے جس کی بیوی کو اس کے شوہر نے بھگایا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیلاش قبیلے کے لوگ آپس میں کھلے ماحول میں پیار سے رہتے ہیں۔ ان کے بقول کیلاش عورتیں اور لڑکیاں جب آپس میں ملتی ہیں تو ایک دوسرے کو بوسہ دیتی ہیں لیکن اگر لڑکی کسی لڑکے یا خاتون کسی مرد سے ملتی ہے تو گلے ملنے کے بعد ایک دوسرے کا ہاتھ چومتے ہیں۔

سطحِ سمندر سے دو سے اڑھائی ہزار میٹر کی بلندی پر واقع کافرستان نامی علاقے کے کیلاش لوگوں کی آبادی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور آج کل ان کی تینوں وادیوں میں کل آبادی تین سے ساڑھے تین ہزار نفوس پر باقی رہ گئی ہے۔ دنیا کی ایک پرانی اور نہایت ہی منفرد ثقافت ایک لحاظ سے خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پہلے یہ خطرہ انہیں مسلمانوں کی بعض تنظیموں سے لاحق تھا جو انہیں بکروں کے ریوڑ خرید کر دینے سمیت مختلف طریقوں سے انہیں مسلمان بناتے۔ لیکن آج کل انہیں خطرہ اپنے ہی قبیلے کے لوگوں سے ہے۔

وادِی رمبور کی متا گل ہوں یا وادِی بموریت کے زینا اور تعلیم خان، سب کو اپنی ثقافت، زبان اور قبیلے کے مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیلاش قبیلے میں آج کل تعلیم کا رجحان بہت زیادہ ہے اور جو پڑھ لکھ جاتے ہیں وہ اپنے قبیلے کی رسومات کو فرسودہ قرار دے کر رہن سہن تبدیل کرلیتے ہیں اور شہروں میں چلے جاتے ہیں یا پھر مسلمان ہوجاتے ہیں۔

وادِی بموریت کی ایک بازار میں وزیر علی شاہ نامی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انیس سو چرانوے میں مسلمان دوستوں کی صحبت میں آکر مسلمان ہوگئے لیکن آج کل وہ اپنے والدین کے گھر میں رہتے ہیں۔ ’میرے والدین کیلاش ہیں اور کئی مواقع پر مجھے اپنی رسومات میں شامل نہیں کرتے اور مجھ سے تفریق کرتے ہیں اور کبھی کبھار طعنہ بھی دیتے ہیں کہ جاؤ اپنے مسلمانوں کے پاس‘۔

Image caption وزیر علی انیس سو چرانوے میں مسلمان ہوئے

بتیس سالہ وزیر علی نے دائیں کان میں بالی پہننے کے لیے سوراخ کرایا ہے اور انہیں بالی پہننا اچھا لگتا ہے۔ عرق خوبانی سے مکمل سرور میں نظر آنے والے مسلمان کیلاش وزیر علی نے بتایا کہ وہ مسلمان تو ہوگئے ہیں لیکن ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی۔ مجھے ان کی بات سن کر سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار مرحوم نسیم کھرل کا افسانہ ’کافر‘ یاد آیا۔ جس میں مٹی کے گھروندے بنانے والے اوڈ قبیلے کے ایک شخص کو گاؤں کا مولوی مسلمان بنا لیتا ہے۔ بعد میں جب نو مسلم اوڈ عبداللہ، مولوی صاحب سے پوچھتا ہے کہ اگر ان کی بیٹیاں مسلمان ہوجائیں تو کیا کوئی مسلمان ان سے شادی کرے گا تو مولوی صاحب کہتے ہیں جی ہاں۔ جب عبداللہ، مولوی صاحب سے پوچھتا ہے کہ اگر اس کی بیوی مر جائے تو کیا انہیں کوئی شخص رشتہ دے گا تو مولوی صاحب ان سے کہتے ہیں کہ ابے چل اے کافر تمہیں کون رشتہ دے گا۔

جاری ہے۔۔۔۔

( اگلی قسط میں پڑھیے گا کہ کیلاش قبیلے اور ان کے ثقافتی ورثہ کو بچانے کے بارے میں یونان کیوں فکر مند ہے اور یونان نے ان کے لیے کیا کیا، کیا ہے)۔

اسی بارے میں