چترال: پرویز مشرف کا حامی نظر آیا

چترال
Image caption چترال کی خوبصورتی میں اس وقت مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب فضا سے اس کا منظر دیکھیں

کالاش قبیلے کے موسم بہار کا میلہ ختم ہونے کے بعد واپس چترال پہنچے۔ چترال شہر کا پاکستان کے اکثر چھوٹے شہروں کی طرح ایک ہی بازار ہے۔ شہر سے گزرنے والی سڑک کنارے دونوں جانب دوکانیں ہیں۔

آج کل موبائل کمپنیوں نے اپنی سروس بھی شروع کی ہوئی ہے اور شہر میں چند انٹرنیٹ کیفے بھی ہیں جہاں ڈائل اپ نیٹ ورک دستیاب ہے لیکن انتہائی سست۔ چترال شہر میں بجلی اکثر غائب رہتی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں لیکن اس اعتبار سے سہولتیں بالکل ناکافی ہیں۔

چترالی اور یونانی رسم و رواج

کالاش قبیلے کا وجود خطرے میں

کالاش فوتگی پر اپنا گھر لٹا دیتے ہیں

اور جب کیلاش لڑکی نے اشارہ کیا

اعتدال پسند چترالی اور طالبان کا خوف

بازار میں لوگوں سے بات کی تو ایسا لگا کہ چترال پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں سابق صدر پرویز مشرف آج بھی دیگر سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مقبول ہیں۔ ہوٹل کے بیرے اور مینیجر سے لے کر عام دوکاندار اور پڑھے لکھے لوگوں تک جس سے بھی بات ہوئی وہ پرویز مشرف کا حامی نظر آیا۔

ایڈووکیٹ عبدالولی نے اس کی ایک بڑی وجہ لواری سرنگ کا منصوبہ بتائی۔’چترال کے لوگ ہر سال موسم سرما میں چھ ماہ تک ملک سے کٹ جاتے ہیں ۔کیونکہ برفباری کی وجہ سے راستے بند ہوجاتے ہیں اور ہم مجبور ہوجاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اربوں روپوں کی لاگت سے پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں چترال کو دیر سے زمینی راستے سے ملانے کے لیے تقریباً آٹھ کلومیٹر سے بھی زیادہ پہاڑ کھود کر سرنگ بنائی۔ ان کے مطابق لواری ٹنل پر کوریا کی کمپنی کام کر رہی ہے اور کھدائی مکمل ہونے کے بعد اب صرف اُسے ہوادار بنانے اور چھوٹے موٹے کام باقی ہیں۔

’لواری ٹنل چترال کے لوگوں کا صدیوں پرانا خواب تھا جو پرویز مشرف نے پورا کردیا اور یہ منصوبہ ہماری زندگی میں انقلاب لائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف اگر چترال سے انتخاب لڑیں تو آسانی سے جیت سکتے ہیں۔‘

چترال میں معلوم ہوا کہ ایک مقامی لکڑ ہارے سے پرویز مشرف کی دوستی ہے۔ احمد خان نامی اس شخص سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پرویز مشرف سے اپنے عشق کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ان کی تاحال پرویز مشرف سے چار ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپنی ملاقاتوں کی تصویریں بھی دکھائیں۔

احمد خان نے بتایا کہ انہیں پرویز مشرف ایک سچے، کھرے اور بہادر انسان لگتے ہیں۔ جب پرویز مشرف پر حملہ ہوا تو وہ بہت روئے اور جب معلوم ہوا کہ وہ بچ گئے ہیں تو انہوں نے چترال شہر کے بازار میں ہر آنے جانے والے شخص کو مٹھائی کھلائی۔ ’میں غریب آدمی ہوں لکڑیاں بیچ کر پیٹ پالتا ہوں لیکن اُس دن میں نے ہزاروں روپے خرچ کردیے۔‘

Image caption چترال شہر میں احمد خان پرویز مشرف کے متوالے کے طور پر مشہور ہیں

چوالیس سالہ احمد خان بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف نے لواری سرنگ بنا کر چترالی عوام کو خرید لیا ہے اور چترالی اپنے محسن کو کبھی نہیں بھولتے۔ انہوں نے بتایا کہ ’پرویز مشرف نے جب ریفرنڈم کرایا تو میں نے اپنے گھر میں پولنگ سٹیشن بنایا۔ میرے دو قریبی عزیزوں نے پرویز مشرف کے خلاف ووٹ دیے اور میں آج تک ان سے بات نہیں کرتا۔‘

احمد خان نے بتایا کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی لواری سرنگ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن انہیں پھر موقع نہیں مل پایا۔ ان کے بقول بعد میں دو بار پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی لیکن اس منصوبے پر کام شروع نہیں کیا۔

چترال شہر میں احمد خان ’پرویز مشرف کے متوالے‘ کے طور پر مشہور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف کی جانب سے سیاست میں آنے کے فیصلے پر وہ بہت خوش ہیں اور اگر وہ چترال سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑیں تو وہ اتنے ووٹ لیں گے کہ ان کے مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی۔

’مجھے پورا یقین ہے کہ آئندہ ملاقات میں، ان سے اسرار کروں گا کہ وہ چترال سے آئندہ انتخاب لڑیں۔انہیں خرچہ بھی نہیں کرنا پڑے گا اور چترال کے لوگ خود ان کی انتخابی مہم چلائیں گے۔‘

احمد خان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے اجازت لے کر واپس اسلام آباد کے لیے چترال کے ہوائی اڈے پہنچے۔ چترال کا ہوائی اڈہ دریائے چترال کے کنارے پر تنگ وادی میں واقع ہے۔ چترال کی خوبصورتی میں اس وقت مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب فضا سے اس کا منظر دیکھیں۔ (چترال کی چھ قسطوں پر محیط کہانی کی یہ آخری قسط ہے) ۔

اسی بارے میں