ڈاکٹر محمد سرور انتقال کر گئے

ڈاکٹر ایم سرور
Image caption انہیں فائنل پروفیشنل ایم بی بی ایس کے امتحانات کا رزلٹ بھی اسی دوران ملا تھا جب وہ پابند سلاسل تھے

پاکستان میں بائیں بازو کی پہلی مقبول ترین طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی رہنما ڈاکٹر ایم سرور طویل علالت کے بعد منگل کی صبح کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 79 سال تھی۔

مرحوم نے ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف) کے صدر اور سیکریٹری جنرل کے عہدوں پر خدمات انجام دی تھیں۔

ڈی ایس ایف کو پاکستان کی پہلی منظم اور مقبول طلبہ تنظیم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ محمد علی بوگرہ کی حکومت نے اس پر 1954 میں پابندی لگادی تھی۔

ڈاکٹر سرور ہندوستان کے شہر الہ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1948 میں کراچی گھومنے آئے تھے لیکن پھر یہیں کے ہو رہے۔

انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویشن کیا اور مختلف اداروں میں جنرل فزیشن کے طور پر کام کرنے کے بعد چالیس سال سے زیادہ عرصے تک گلبہار پرانا گولیمار کے علاقے میں اپنا کلینک چلاتے رہے۔

ڈی ایس ایف پر پابندی کے بعد ڈاکٹر سرور اور ان کے ساتھیوں نے کالعدم ڈی ایس ایف کے کارکنوں اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مختلف دھڑوں کو ملا کر آل پاکستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایس او) تشکیل دی تھی جس میں دائیں اور بائیں بازو کے نظریات کے حامی طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے متحد ہوئے تھے تاہم حکومت پاکستان نے کراچی میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کرنے پر اس پر بھی پابندی لگادی۔

احتجاجی ریلی کے مطالبات میں سے ایک کراچی میں اس کیمپس کا قیام تھا جو اب کراچی یونیورسٹی کہلاتا ہے۔ اس ریلی پر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں سات طلبہ ہلاک اور محمد سرور شدید زخمی ہوئے تھے۔

بعد میں حکومت نے انہیں جیل میں ڈال دیا تھا جہاں وہ لگ بھگ ایک سال قید رہے۔ انہیں فائنل پروفیشنل ایم بی بی ایس کے امتحانات کا رزلٹ بھی اسی دوران ملا تھا جب وہ پابند سلاسل تھے۔

اسی دور میں ان کے بڑے بھائی محمد اختر کو جو کہ پیشہ ور صحافی تھے۔ حکومت نے قید میں ڈال دیا۔ دوسرے سیاسی اسیروں کی طرح دونوں بھائیوں کا قانونی دفاع بھی فخر الدین جی ابراہیم نے کیا تھا۔

ڈاکٹر سرور، ڈی ایس ایف اور پچاس کی دہائی کی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے لیڈر حسن ناصر کے قریبی ساتھی تھے۔ حسن ناصر کو ایوب خان کے دور میں پنجاب پولیس نے گرفتار کرکے لاہور قلعے کے ایک قید خانے میں بند کردیا تھا جہاں تشدد کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

ڈاکٹر سرور، پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے بھی بانیوں میں سے تھے اور دو بار تنظیم کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے تھے۔ پی ایم اے جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے دور میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کرنے والی اہم تنظیموں میں سے ایک تھی۔