بیت اللہ محسود کون؟

Image caption بیت اللہ محسود تصویر بنوانے سے گریز کرتے ہیں

یوں تو وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف سات برسں سے جاری کارروائیوں کے دوران کئی مقامی طالبان کمانڈر سامنے آئے لیکن بیت اللہ محسود وہ واحد کمانڈر ہیں جنہیں وزیرستان سے باہر دوسرے قبائلی علاقوں میں بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس وقت پوری دنیا بیت اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کے طورپر جانتی ہے۔

تنتیس سالہ بیت اللہ محسود صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں کینٹ کے علاقے داؤد شاہ میں پیدا ہوئے۔ بیت اللہ محسود کا تعلق محسود قبائل کے ذیلی شاخ شوبی خیل سے ہے۔ ان کے والد مولانا محمد ہارون داؤد شاہ کے ایک چھوٹی سی مسجد میں پیش امام تھے اور مسجد کے قریب گاؤں والوں نے انہیں رہائش کے لیے ایک مکان دیا ہوا تھا۔ بیت اللہ کے خاندان والوں نے زیاد تر زندگی بنوں ہی میں گزاری۔

مولانا محمد ہارون کے چھ بیٹے تھے جن میں بیت اللہ سے چھوٹے یحییٰ خان محسود کو گزشتہ سال بنوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیاگیا تھا اور پانچ ابھی تک زندہ ہیں۔ ان میں سے بیت اللہ سے بڑے بھائی ظاہر شاہ اور چھوٹے محمد اسحاق ان کے گروپ کا حصہ ہیں۔ ان کے ایک بڑے بھائی ملک سے باہر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ بیت اللہ کے والد مولانا محمد ہارون کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکے ہیں اور ان کی والدہ زندہ ہے جو ان دنوں ان کے ساتھ جنوبی وزیرستان میں ہی رہائش پذیر ہے۔

بیت اللہ محسود کی پہلی شادی بنوں میں ہوئی تھی۔ لیکن ان کی پہلی بیوی سے کسی قسم کی اولاد نہیں تھی اس لیے انہوں نے گزشتہ سال جنوبی وزیرستان کے ایک قبائلی سردار ملک اکرام الدین کی بیٹی سے دوسری شادی کی۔ ملک اکرم الدین ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں۔

بیت اللہ محسود نے ابتدائی دینی تعلیم بنوں کے علاقے داؤد شاہ کے پیپل مدرسے میں ہی حاصل کی ہے۔اس کے بعد مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے ایک مدرسے میں داخلہ لیا۔ لیکن وہاں سے انہوں نے علم کے درجوں کو مکمل نہیں کیا اور واپس بنوں چلے گئے جہاں ایف ار بنوں کے علاقے ماتی ممن خیل میں انہوں نے کچھ عرصے تک ایک مسجد میں امامت کی۔

میرانشاہ میں طالب علمی کے دوران افعانستان کے طالبان سے ان کے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی۔ اور میرانشاہ بازار کے مغربی حصے میں جلاالدین حقانی کا اسلامی مدرسہ تو افعانستان کے طالبان کا مرکز تھا۔ بیت اللہ محسود کا بھی اس مدرسے میں آناجانا تھا۔

بیت اللہ محسود بعد میں طالبان تحریک میں شامل ہوگئے اور بگرام میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لیا اور فتح حاصل کی۔ اس کے بعد بیت اللہ مسلسل مختلف محاذوں پر طالبان کے ساتھ رہا۔

بیت اللہ محسود طالبان کی شکست کے وقت افغانستان سے جنوبی وزیرستان آگئے اور وہاں آنے والے جنگجوؤں کو پناہ دی۔ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں فوجی کارروائی میں بیت اللہ محسود نمایاں رہے۔ فوجی قافلوں اور سکاؤٹس قلعوں پر حملوں میں سکیورٹی فورسز کو شدید نقصان پہنچایا۔ سکیورٹی فورسز نے سات فروری دو ہزار پانچ کو سرروغہ کے مقام پر ان سے امن معاہدہ کیا۔لیکن معاہدہ زیادہ دیر تک نہ رہا اور کچھ عرصے کے بعد ٹوٹ گیا۔ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک تنظیم کی بنیادہ ڈالی جو بعد میں تمام قبائلی علاقوں اور سرحد کے مختلف علاقوں میں تنظیم نے اپنا مقام بنالیا۔

اس وقت امریکہ نے بیت اللہ محسود سمیت تین طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد پرگیارہ ملین ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں