میاں طفیل محمد انتقال کرگئے

Image caption میاں طفیل محمد پندرہ سال تک جماعت اسلامی کے مرکزی امیر رہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر میاں طفیل محمد لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر پچانوے برس تھی۔

میاں طفیل محمد کی پندرہ روز قبل دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی جس کے بعد انہیں شیخ زید ہسپتال میں داخل کرادیا گیا تھاجہاں وہ جمعرات کی شب اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

میاں طفیل محمد سنہ انیس سو چودہ میں بھارت کی ریاست کپورتھلہ کے ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔مرحوم نے سنہ انیس سو پینتیس میں بی اے (آنرز) کیا اور انیس سو سینتیس میں لا کالج لاہور سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

میاں طفیل نے چھبیس اگست انیس سو اکتالیس میں جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کی اور اس طرح وہ بانی ارکان جماعت میں شمار ہوتے ہیں۔انہوں نے قرآن وسنت کی تعلیم انیس سو اڑتالیس سے انیس سو پچاس تک سنٹرل جیل ملتان میں نظربندی کے دوران مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی سے حاصل کی۔

مرحوم سترہ اگست انیس سو چوالیس سے اگست انیس سو سینتالیس تک جماعت اسلامی ہند کے سیکرٹری جنرل رہے اور قیام پاکستان کے بعد دسمبر انیس سو پینسٹھ تک جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے جس کے بعد وہ انیس سو چھیاسٹھ سے انیس سو بہتر کے وسط تک وہ جماعت اسلامی مغربی پاکستان کے امیر رہے۔

اکتوبر انیس سو بہتر میں جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سیاد ابوالاعلی مودودی اپنی صحت خرابی کی وجہ سے امارت جماعت سے الگ ہوگئے جس کے بعد میاں محمد طفیل کو ان کی جگہ جماعت اسلامی کا نیا امیر چنا گیا۔

مرحوم نے خرابی صحت کی وجہ سے انیس سو ستاسی میں جماعت کے امیر کا منصب چھوڑ دیا۔

میاں طفیل محمد نے ملک میں بننے والے مختلف سیاسی اتحادوں میں نمایاں کردار ادا کیا اور انہیں کئی مرتبہ قید اور نظربندبھی کیا گیا۔ مرحوم نے سید علی ہجویری المعرف داتا گنج بخش کی مشہور کتاب’کشف المجوب‘ کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔

میاں طفیل نے جماعت اسلامی کی امارت سے فارغ ہونے کے بعد ادارہ معارف اسلامی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے چندسال پہلے تک کام کرتے رہے۔

مرحوم کی نماز جنازہ جمعہ کی سہ پہر چار بجے منصورہ میں ادا کی جائے گی۔