حکومت سے امن معاہدہ ختم: مولوی نذیر

ملا نذیر
Image caption ڈرون حملے بند ہونے تک سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ان کے مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے: ملا نذیر

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا ہے کہ ان کا حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ غیر موثر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت تک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے جب تک علاقے میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔

جمعرات کو مولوی نذیر گروپ کے ایک کمانڈر شمس اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں اس وقت ان کےگروپ کا حکومت کےساتھ کسی قسم کا کوئی امن معاہدہ موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے بعد ان کا حکومت سے طے پانے والا امن معاہدہ غیر موثر ہوچکا ہے اور وہ اب سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔

کمانڈر نے بتایا کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے بند نہیں ہوتے وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ان کے مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

چند دن قبل جنوبی وزیرستان میں شاہ عالم کے علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ملا نذیر گروپ کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایاگیا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دو دن پہلے جنوبی وزیرستان ہی میں امریکی جاسوس طیاروں نے ایک ہی روز میں دو مرتبہ محسود کے علاقے میں بیت اللہ گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان حملوں حملےمیں طالبان جنگجو بھی مارے گئےتھےجس کی تصدیق عسکریت پسند بھی کر چکے ہیں۔

تقریباً دو سال قبل حکومت اور مولوی نذیر گروپ کےمابین ایک امن معاہدہ طے پایا تھا۔

یاد رہے کہ مولوی نذیر گروپ نے سکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب جنوبی وزیرستان میں فوج نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف ’آپریشن راہ نجات‘ شروع کررکھا ہے۔

دریں اثناء جنوبی وزیرستان کے علاقے شین ورسک میں نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد میں تباہ کردیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کے دھماکے میں سکول کی عمارت مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں کسی سکول پر یہ اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ ہے۔ اس سے پہلے سوات، درہ آدم خیل اور باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندوں کی طرف سے سینکڑوں سرکاری سکولوں، کالجوں اور نجی تعلیمی اداروں کو بم دھماکوں یا نذر آتش کرکے تباہ کیا گیا ہے۔

ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے دعوی کیا ہے کہ مولانا فضل اللہ سمیت طالبان کے تمام اہم رہنماؤں اور کمانڈروں میں کوئی بھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا بلکہ سب کے سب محفوظ ہیں اور سوات میں موجود ہیں۔

سوات کے طالبان کا یہ بیان پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن کے مطابق سوات کے طالبان کا اہم کمانڈر شاہ دوران فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔

کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فون پرگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات میں شرعی نظام عدل کے نفاذ ہوچکا ہے لہذا ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ضلع کا نظام شریعت کے تحت چلائے بصورت دیگر سول سرکاری اداروں اور ان کے اہلکارو کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی بارے میں