سندھ: مدرسوں کی تعمیر میں تیزی

Image caption سندھ میں بچیوں کے مدارس کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں مدرسوں کی تعمیر میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے ان مدارس کی تعمیر اندرون سندھ کے خصوصاً ان علاقوں میں جاری ہے جہاں ماضی میں سیکیولر صوفی خیالات اور مذہبی رواداری کا اثر عام رہا ہے۔ گزشتہ دس سال میں صوبے میں مدرسوں کی تعداد میں پچاس فی صد سے زیادہ اضفہ ہوا ہے۔

شکارپور کوماضی میں سندھ کا پیرس کہا جاتا تھا جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک ساتھ تعلیم قیام پاکستان سے قبل دی جاتی تھی۔ مگر آجکل شکارپور میں محلے کی سطح پر مدرسے تیزی سے تعمیر ہو رہے ہیں۔ شکارپور بائی پاس کے قریب جامعہ مدنی کا مدرسہ زیر تعمیر ہے۔ سیمنٹ اور لوہے کی آر سی سی چھت والے دو منزلہ مدرسے میں تاحال بچوں کو داخلہ نہیں دیا گیا مگر قریبی مسجد میں چند طالبعلم حفظ قرآن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

جامعہ مدنی کے ایک سینیئر طالبعلم اور مدرسہ تعمیر کے نگران زبیر احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مدرسے کی تعمیر کا کام دو ہزار چار سے جاری ہے اور اب آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ جامعہ مدنی شکارپور کے نئے کیمپس میں تیس رہائشی کمرے ہیں جبکہ دفاتر ان کے علاوہ ہیں۔ مدرسے کے مہتمم قاری محمد علی مدنی ہیں جو ان دنوں عمرے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوچکے ہیں۔

قاری محمد علی کے عرب ممالک میں اچھے تعلقات سمجھے جاتے ہیں اور ان کے نئے مدرسے کے لیے ماربل والی مسجد کا تحفہ قطر کے ایک عرب شیخ نے دیا ہے۔

قاری محمد علی مدنی شکارپور او رگردونواح میں مدرسوں کی تعمیر کے حوالے سے برسوں سے سرگرم رہے ہیں۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے شکارپور کی قدیم پلازہ سینما خرید کر اس کو چند برس پہلے مدرسے میں تبدیل کردیا ہے۔جبکہ سکھر میں ایک اور مذہبی جماعت نے چند برس قبل گھنٹہ گھر روڈ پر ایک سینما کو خرید کر وہاں مدرسہ تعمیر کیا تھا۔

Image caption نئے مدرسے کے لیے ماربل والی مسجد کا تحفہ قطر کے ایک عرب شیخ نے دیا ہے۔

جمیعت علماءاسلام کے صوبائی سیکریٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ پاکستان میں مدرسوں کی کل تعداد دس پندرہ ہزار ہے جہاں دو ڈھائی لاکھ طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔سینیٹر سومرو کا کہنا ہے کہ سندھ کا اس تعداد میں حصہ پانچویں حصے کے برابر بنتا ہے۔ سندھ میں بچیوں کے مدارس کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

سینیٹر کے مطابق مدرسوں کا نظام عام مسلمانوں کے عطیات اور صدقات سے حاصل ہونے والی رقم سے چلایا جاتا ہے۔ مسلم ممالک سے امداد نہیں ملتی، نہ حکومتی زکواۃ کی رقم ان کے مدارس کو ملتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ضرور ہے مگر اس سے قبل سندھ باب الاسلام ہے اور رہے گا۔

سینیٹر سومرو سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان مدارس کے طالبعلم کل کے بیت اللہ محسود ثابت نہیں ہونگے تو ان کا کہنا تھا کہ ’بیت اللہ محسود ہویا منگل باغ، وہ کسی مدرسے کے طالبعلم نہیں رہے ہیں۔ وہ مولوی ہیں نہ کسی مدرسے کے منتظم تو ہمارے طالبعلموں کے وہ رول ماڈل کیسے بنیں گے۔‘

لاڑکانہ میں سینیٹر سومرو کی باتیں سننے کے بعد جب میں قومی شاہراہ پر پنوعاقل پہنچا تو وہاں ایک ڈبل سٹوری مدرسے کے تعمیر کا کام تیزی سے جاری تھا۔

پنوعاقل چھاؤنی سے ایک کلومیٹر فاصلے پر اس مدرسے کا نام تاحال نہیں رکھا گیا ہے مگر وہ شہر کے مہنگے ترین علاقے میں تعمیر ہورہا ہے۔ مدرسے کے منتظم ایک ٹریکٹر و موٹر سائیکل شوروم کے مالک ندیم اختر آرائیں ہیں۔

ندیم اختر نے بی بی سی کوبتایا کہ مدرسہ آدھ ایکڑ سے زائد رقبے پر وہاں تعمیر ہورہا ہے جہاں ایک ایکڑ اراضی کی قیمت ساٹھ لاکھ سے اسی لاکھ روپیا بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سو طالبعلموں کی رہائش اور تعلیم کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

پنوعاقل کے مدرسے میں تہہ خانے بھی تعمیر کیے گئے ہیں جو ندیم کے بقول لائبریری اور اساتذہ کی رہائش کے کام آئیں گے۔ ندیم اختر آرائیں کے مطابق مدرسہ تعمیر میں ہزاروں کا نہیں لاکھوں کا سرمایہ لگتا ہے اور لوگ انہیں تعارف کروائے بغیر مدرسے کے لیے رقم فراہم کرتے ہیں۔

پنوعاقل مدرسے کا تمام تعمیری سامان جنوبی پنجاب کے شہروں رحیم یار خان اور صادق آباد سے منگوایا جاتا ہے۔ تعمیراتی کام کے کاریگر بھی ملتانی ہیں تا کہ بقول منتظم کام کا معیار برقرار رکھا جائے۔

پنوعاقل کسی زمانے میں سندھ کے صوفی ہندو فنکاروں کے حوالے سے جانا جاتا تھا مگر اب وہاں صوفی ہیں نہ ہندو راگی۔

پاکستان لبرل فورم نامی غیر سرکاری تنظیم کے ایک رہنماء خالد چانڈیو کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے تمام مدارس کا نصاب فرسودہ ہے اور مدرسوں میں اورنگزیب کے زمانے سے نظام الدین فرنگی محلی کا ترتیب دیا ہوا درس نظامی پڑھایاجاتا ہے، مدارس کے نصاب میں ریاضی اور فسلفے پر باقاعدہ بندش ہے۔‘

خالد چانڈیو کی اپنی تحقیق کے مطابق قیام پاکستان سے قبل سندھ میں مدرسوں کی تعداد محدود اور درجنوں میں تھی مگر اب یہ تعداد بڑھ کر سینکڑوں ہو گئی ہے۔ ان مدارس میں سے پچاس فیصد سے زائد دیوبندی مسلک سے وابستہ ہیں جبکہ بقیہ مدرسے بریلوی،اہل حدیث اور شیعہ مسلک کے مذہبی رہنماء سنبھالتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فقہ کے حوالے سے نوے فیصد سے زائد مدرسے حنفی فقہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ بقیہ مدرسے فقہ جعفریہ کے رہنماء چلاتے ہیں۔

جبکہ عالمی صوفی فاؤنڈیشن نامی ایک تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر ساغر ابڑو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سندھ میں ترقی پسند سیاسی تحریکوں اور صوفی رجحانات کی کمی کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کومذہبی رجحانات نے پر کرنا شروع کیا ہے۔اور لوگ مدرسوں کی طرف اپنے بچوں کو بھیج رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مدارس کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان جیسے لبرل لوگوں کے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے کہ کہیں آنے والا کل صوفیوں کی سرزمین سندھ پر شدت پسند اور تنگ نظر نسل کو جنم تو نہیں دےگا؟

اسی بارے میں