ماحولیاتی تحفظ کا شیدائی برطانوی ’ملنگ‘

پیرے رانسلے
Image caption پیرے رانسلے نے بیس برس قبل ترکی میں اسلام قبول کیا تھا

پاکستان کے نوجوانوں کو ماحولیاتی تباہی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک برطانوی شہری ایک عرصے سے پاکستان میں ایک منفرد انداز میں مہم چلا رہے ہیں۔

وہ دیہات اور چھوٹے قصبوں کے سکول اور کالجوں کے ساتھ گاؤں، گوٹھوں کا دورہ کرتے ہیں، لوگوں کو ماحولیاتی پیغام دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کا پیغام سمجھیں اور ماحول کی فکر کریں۔ لیکن ابھی تک انہیں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی وہ چاہتے ہیں اور اب نامناسب فنڈز اور انتہائی کشیدہ ملک حالات کی وجہ سے وہ اپنا کام بند کر کے پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اٹھاون سالہ پیرے رانسلے نے بیس سال قبل اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا اسلامی نام شیخ عبداللہ رکھا تھا۔ اورگزشتہ دس برسوں سے وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنے انداز سے ماحولیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔ان کا کوئی مستقل دفتر ہے نہ رہائش گاہ اور وہ تمام وقت عارضی ٹھکانوں میں اپنے لیپ ٹاپ اور مقامی ساتھیوں کے ساتھ کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وقت آنے پر لیکچرز کو چھوڑ کر وہ مختلف اقسام کے پودے لگانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

جو انہیں جانتے ہیں یا جنہوں نے ان کے ہاتھوں تعلیم حاصل کی ہے وہ انہیں ایک ’ملنگ‘ یا ’صوفی‘ سمجھتے ہیں۔تاہم رانسلے کا کہنا ہے کہ وہ کوئی صوفی یا سیاح نہیں بلکہ ماحولیاتی تعلیم دینے والے ایک عام انسان ہیں۔

کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ دیسی حلیے میں ایک انگریز کو لمبے عرصے تک اپنے علاقے میں کمپیوٹر کےساتھ کام کرتے دیکھ کر مقامی لوگ مشکوک ہو گئے اور اور پولیس کو اطلاع دے دی۔

رانسلے نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے تو کئی بار ان سے پوچھ گچھ کی ہے مگر دو مرتبہ فوج کے اہلکاروں نے بھی انہیں ہراساں کیا اور چند گھنٹے اپنے پاس تحویل میں رکھا۔ رانسلے کے مطابق انہیں پہلی مرتبہ گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں سے مقامی زمیندار کی شکایت پر فوج نے دو سال قبل حراست میں لیا تھا۔ رانسلے کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے پہلے ان کا پاسپورٹ چیک کیا اور اس کے بعد ان کے فوٹو کھینچے۔ رانسلے کہتے ہیں کہ انہیں اس وقت زیادہ دکھ پہنچا جب ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔ فوج کی اس قسم کی تفتیش کے بعد وہ پنجاب چھوڑ کر سندھ کے ساحلی علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے۔

انہیں بدین کےقریب دوبارہ فوج نے حراست میں لیا اور ان سے تفتیش شروع کی۔رانسلے کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل فوجی انہیں ایک نامعلوم مقام پر لے گئے۔ان کا پاسپورٹ چھینا اور ان سے جارحانہ طریقے سے پوچھ گچھ کی تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ان کی توجہ ماحولیاتی تعلیم پر ہی مرکوز رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے اندازہ لگایا ہے کہ ماحول کو سب سے زیادہ خطرہ بے تحاشہ مچھلی کے شکار سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ آپ یقین کیجئیے، آئندہ دس برسوں میں آپ کا سمندر مچھلی سے خالی نظر آنے لگے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جنگلات کا خاتمہ، پانی کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان میں ماحولیاتی تباہی کی نشاندہی کر رہی ہے مگر حکومت نے کبھی ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ اپنے ایجنڈے پر نہیں رکھا۔ رانسلے کے مطابق حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سیاسی مصلحتوں کی فکر ہے مگر ماحول کی فکر نہیں ہے جو تیزی سے تباہی کی طرف جا رہا ہے۔

رانسلے کی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ کئی برسوں سے اپنے بیٹے اور بیٹی سے نہیں ملے جو برطانیہ میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی ڈیمن رانسلے لندن میں آرٹسٹ ہیں اور نیشنل کالج آف آرٹس سے وابستہ ہیں مگر وہ بھی ان کے ماحولیاتی کام سے کچھ زیادہ متاثر نہیں۔ رانسلے کا اپنے خاندان سے رابطہ کم رہتا ہے اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ دس سالوں میں صرف ایک مرتبہ لندن گئے ہیں۔

رانسلے کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیس سال قبل ترکی میں مولانا شیخ قاسم الدین کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا۔وہ باقاعدہ نمازی تو نہیں بنے مگر ان کا کہنا ہے کہ سب سے افضل عبادت ماحول اور درختوں کا تحفظ ہے۔

رانسلے نے پاکستان آمد کے بعد بعض بڑے سکول سسٹم یعنی بیکن ہاؤس اور گرامر سکول میں آرٹ ٹیچر کی نوکری کی مگر انہیں دکھ ہے کہ ماحولیاتی تعلیم پاکستان کے کسی سکول کے نصاب میں شامل نہیں کی گئی۔جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی نوکری چھوڑ دی اور ماحولیاتی تعلیم عام کرنے کے لیے گاؤں اورگوٹھوں کا رخ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسجدوں میں بھی ماحولیاتی تبلیغ کے لیے گئے مگر انہیں روک دیا گیا۔

شیخ عبداللہ عرف مسٹر رانسلے اب کچھ تھک سے گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی نے انہیں محدود کر دیا ہے اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیمیں اور ڈونرز انہیں اپنے کام کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مالی وسائل کی کمی اور اتنے تناؤ کے ماحول میں وہ شاید اپنا کام جاری نہ رکھ سکیں اور برطانیہ واپس چلے جائیں۔

رانسلے کا ماننا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تباہی سے صرف نوجوان نسل ہی بچاسکتی ہے اور وہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی مسائل سے نئی نسل کو برطانیہ سے بھی آگاہ کرتے رہیں گے۔