’کے ای ایس سی کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی
Image caption ’ہم خود کو اور عوام کو دھوکہ نہیں دینا چاہتے‘

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کا نظام بوسیدہ ہوچکا ہے جسے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں کے ای ایس سی انتظامیہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب نظام مضبوط ہوگا تو فنی مسائل ختم ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے کے ای ایس سی حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہیڈ آفس میں ایک انکوائری دفتر قائم کیا جائے تاکہ لوگوں کو یہ معلومات مل سکے کہ فنی خرابی کی وجہ سے بجلی نہیں آرہی یا لوڈ شیڈنگ ہے، اس اقدام سے لوگوں میں اعتماد بڑھے گا کہ ان سے کوئی معلومات چھپائی نہیں جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ اگست کو کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو اور کمپنی کے مالکان کو اسلام آباد طلب کیا گیا ہے جہاں ان سے کمپنی میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کے بارے میں مزید بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’بجلی پ وری کریں گے تو عوام کا اعتماد ہوگا، پھر جب عوام سے تعاون کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہیں کریں گے اگر بجلی کی قلت ہوگی لوڈشیڈنگ ہوگی اور ان سے مانگیں گے تو یہ درست بات نہیں ہوگی‘۔

یوسف رضا گیلانی کے مطابق آنے والے دنوں میں پانی کی دستیابی کا مسئلہ سنگین ہوجائے گا اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے آتے ہی فیصلہ کیا تھا کہ نئے ڈیم بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ڈیم ایک دن میں نہیں بنتے ان کے لیے تین چار سالوں کا عرصہ لگ جاتا ہے، ہر صوبے میں تین چار ڈیمز بنا جارہے ہیں اور ان ڈیموں پر کام ہورہا ہے جن پر اتفاق رائے ہے کیونکہ ہم نہ خود کو اور نے ہی عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صنعت صحیح نہیں چل رہی، کراچی کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ہے اس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروکار لائے جائیں گے، انہیں کراچی کے لوگوں کی تکلیف کا احساس ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ یہاں آئے ہیں ۔

اس سے قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے حکام سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ بھی شریک تھے۔

یاد رہے کہ حالیہ بارشوں کے دوران کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا نظام ایک مرتبہ پھر ٹھپ ہوگیا تھا اور شہری چوبیس گھنٹوں سے زائد عرصے تک بجلی اور پینے کے پانی سے محروم رہے تھے۔ کے ای ایس سی کی ناقص کارکردگی پر وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر کے ای ایس سی نے اپنے نظام کو درست نہیں کیا تو حکومت سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی۔

اسی بارے میں