سردار، ڈکیت یا سیاستدان

رحمان ڈکیت
Image caption سردار عبدالرحمان علاقے کی سیاسی شخصیت بنتے جا رہے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کی پولیس رحمان ’ڈکیت‘ کی ایک مبینہ مقابلے میں ہلاکت کو اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ بقول پولیس سربراہ کے، رحمان ’ڈکیت‘ لیاری انڈر ورلڈ گینگ کی لڑائی میں برسوں سے مصروف گروہ کے سربراہ اور سب سے زیادہ مطلوب شخص تھے۔

چالیس سالہ رحمان ’ڈکیت‘ کراچی کے غریب ترین علاقے لیاری میں کلاکوٹ کے رہائشی تھے۔ان کی ہلاکت پر کلاکوٹ میں سوگ کا سا ماحول ہے جو عام جرائم پیشہ افراد کی پولیس مقابلے میں ہلاکتوں کے بعد دیکھنے میں نہیں آتا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق رحمان ’ڈکیت‘ ایک سو کے قریب مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔انہوں نے نوے کی دہائی میں اس وقت اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا جب ان کا مقابلہ لیاری کے ہی ایک اور انڈر ورلڈ گروہ ارشد پپو سے ہوا تھا۔

رحمان ’ڈکیت‘ ایرانی بلوچ تھے اور ان کے والد کا نام داد محمد بلوچ تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق داد محمد کی تین شادیاں تھیں اور رحمان ان کی تیسری بیوی کی اولاد تھے۔

رحمان لیاری کا تعلق ایک متوسط گھرانےسے تھا جو انڈر ورلڈ کی دنیا میں اپنی جوانی سے بھی قبل آگئے تھے۔ان کی اپنے گروہ پر مضبوط گرفت تھی۔انہوں نے بھی اپنے والد کی طرح تین شادیاں کیں تھیں۔ رحمان کے بچوں کی تعداد سترہ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

جرائم اور انڈر ورلڈ گینگ کی لڑائی کے بعد رحمان نے اپنا اثر لیاری سے باہر ملیر اور کورنگی کی طرف بڑھانا شروع کیا تھا اور شہر میں علاقائی سطح پر ان کا مقابلہ دوسری انڈر ورلڈ گینگ کے گروہوں سے ہو رہا تھا۔

رحمان کراچی کےانڈر ورلڈ کا ایسا کردار تھا جن کی زندگی کے کئی پہلومتنازعہ رہے ہیں۔ وہ فلموں کے ہیروز کی طرح جرائم سے کمائی گئی دولت اپنے علاقے کے غریبوں میں تقسیم کرنے کے لیے مشہور تھے۔ شاید اسی وجہ سے ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ہے۔

لیاری میں ان کی نماز جنازہ کی کوریج کرنے والے ٹی وی رپورٹرز کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب علاقے کے لڑکوں نے ان کا گھیراؤ کیا اوران سےمطالبہ کیا کہ رحمان کو ’ڈکیت‘ کہہ کر نہ پکاریں کیونکہ وہ سردار عبدارحمان بلوچ ہیں۔ ایسی کشیدہ صورتحال کے بعد ٹی وی رپورٹرز کھلے میدان سے ہٹ کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر خبریں بھیجتے رہے۔

رحمان کی ہلاکت کے بعد کراچی میں کئی طرح کی بحث شروع ہوگئی ہے کہ جو ایک عام مجرم کی ہلاکت پر سننے کو نہیں ملتی ہے۔ بحثوں میں ان کے سیاسی کردار پر بھی بات کی جا رہی ہے۔

حالیہ دنوں رحمان ’ڈکیت‘ نے اپنی ایک الگ حیثیت بنا رکھی تھی۔ انہوں نے اپنے آپ کو سردار عبدالرحمان بلوچ کے نام سےمتعارف کروانا شروع کیا تھا۔ رحمان ’ڈکیت‘ اگر انڈر ورلڈ کے گرو تھے تو سردار عبدالرحمان علاقے کی سیاسی شخصیت بننے جا رہے تھے۔ وہ لیاری میں حالیہ دنوں قائم کی جانے والی امن کمیٹیوں کے نگران تھے۔

لیاری کے لوگ کہتے ہیں کہ ان کے مقامی تنازعات کا حل یا تو پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر نبیل گبول کے بنگلے پر یا رحمان کے ڈیرے پر ہوتا تھا۔

رحمان بلوچ نے اپنے آپ کو حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے منسوب کر رکھا تھا مگر ان کی ہلاکت کے بعد پیپلزپارٹی کے کسی رہنماء نے ان کو اپنی جماعت کا رکن تسلیم نہیں کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت رحمان ڈکیت کی ہلاکت پر مکمل خاموش ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ گورنر سندھ نے رحمان ’ڈکیت‘ کو ہلاک کرنے والی پولیس پارٹی کے لیے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

رحمان بلوچ عرف ’ڈکیت‘ کو کراچی میں پولیس مقابلوں کے لیے مشہور افسر چودھری اسلم کی پارٹی نے ہلاک کیا جو شہر میں ہونے والے سنہ انیس سو نوے کے آپریشن کے واحد زندہ پولیس افسر ہیں۔ ماضی کے اس آپریشن میں حصہ لینے والے باقی تمام اہم پولیس افسران کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کیا گیا ہے۔

رحمان ’ڈکیت‘ کی ہلاکت کے بعد شہر کے انڈر ورلڈ گروہوں میں بڑی تبدیلیاں رونماء ہونے کے امکانات ہیں جس کے سیاسی اثرات بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں