محفلِ موسیقی پر مذہبی عناصر کی دھمکیاں

شکارپور بینرز
Image caption مذہبی جماعت جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے مہمان خواتین سے بدتمیزی کی: وسیم صدیقی

صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور میں ضلعی کونسل کے ایک رکن نے دعوٰی کیا ہے کہ انہیں محفلِ موسیقی کا انتظام کرنے پر ایک مذہبی جماعت کے کارکنان کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

شکارپور ضلعی کونسل کے رکن اور ضلعی سپورٹس کمیٹی کے چیئرمین وسیم صدیقی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ضلعی کونسل نے اکتیس جولائی کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں شریک کھلاڑیوں کے اعزاز میں ایک تقریب تقسیم اسناد منعقد کی’مگر وہاں مہمانوں سے پہلے مدرسوں کے طلبہ اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان ڈنڈے اور اسلحہ اٹھا کر پہنچ گئے‘۔

وسیم صدیقی کے مطابق مذہبی جماعت جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے تقریب میں موجود مہمان خواتین سے بدتمیزی کی اور انہیں واپس گھروں کی طرف زبردستی روانہ کر دیا جبکہ وہ خود سٹیج پر چڑھ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ کارکن تقریب کے میزبانوں کو اپنے مدرسے لے گئے اور وہاں ان کو دھمکیاں دی گئیں۔

وسیم کے بقول انہوں نے پولیس کو مدد کے لیے طلب کیا مگر پولیس خاموش رہی۔ وسیم کا کہنا ہے کہ تقریب کے دس بارہ دن گزر جانے کے باوجود مدرسے کے طلبہ انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور ’شکارپور میں آئندہ تفریحی پروگرام کرنے والوں کا برا حشر کرنے کی باتیں کر رہے ہیں مگر پولیس ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کررہی ہے‘۔

اس حوالے سے جب لاڑکانہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ثناءاللہ عباسی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کر لی۔

اس سلسلے میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور سینیٹ میں بلدیات کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے کارکن شکارپور سمیت سندھ بھر میں ان کے کارکنان عریانی اور فحاشی کی اجازت نہیں دیں گے۔

Image caption شکار پور کو ماضی میں سندھ کا پیرس کہا جاتا تھا

ان سے جب موسیقی پر پابندی لگانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے زور دیتے ہوئے جواب دیا ’موسیقی کوئی قرآن سنت یا حدیث کا لفظ نہیں کہ آپ اس کی طرفداری کریں۔ موسیقی کو آپ جو بھی لباس پہنائیں، ہم عریانی اور فحاشی کے خلاف ہیں اور احتجاج کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے‘۔ جے یو آئی رہنماء کا کہنا تھا ’ہمارے شہر میں آپ قوم کی بیٹیوں کو نیم برہنہ لباس پہنا کر نچوائیں گے تو ہم اپنا احتجاج کریں گے اور احتجاج سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا‘۔ تاہم انہوں ڈنڈوں اور اسلحہ کے زور پر پروگرام ختم کروانے کی تردید کی ہے۔

سندھ میں حالیہ دنوں محفل موسیقی پر مذہبی جماعتوں کے کارکنان کی پابندی کی دوسری کارروائی ہے۔ اس سے قبل جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے لاڑکانہ کے قریب ایک ثقافتی میلے میں رقص کرنے والی پنجاب کی رقاصائوں کو رقص بند کرنے اور چار گھنٹوں میں شہر چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔

اسی بارے میں