’امریکی سفارتکار‘ پر نارواسلوک کا الزام

پولیس سکیورٹی
Image caption اُس شخص نے اپنا تعارف صرف امریکی میرین کے طور پر کروایا: درخواست میں الزام

اسلام آباد کے تھانے سیکرٹریٹ میں درج کروائی جانے والی ایک رپورٹ میں امریکی سفارت خانے کے اہلکار پر ایک پاکستانی شہری سے ناروا سلوک کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ گذشتہ چند دنوں کے دوران سفارت خانے کے اہلکاروں کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کا دوسرا واقعہ ہے۔

امریکی سفارت خانے کے ترجمان رچرڈ سنلزر نے ایسے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے سے انکار کیا ہے۔

ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع ناصر اپارٹمنٹ کے رہائشی شمس اللہ خان نے تھانہ سیکرٹریٹ میں اس واقعہ کی رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا ابراہیم اپنی گاڑی پر جا رہا تھا کہ امریکی سفارت خانے کے قریب ایک شخص نے ان کی گاڑی کو روکا اور بلا اشتعال ان کے بیٹے کو گالیاں دینا شروع کردیں۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ اُس شخص نے اپنا تعارف صرف امریکی میرین کے طور پر کروایا جس کے بعد اُس نے نہ صرف ابراہیم کو گالیاں دیں بلکہ گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔

درخواست گُزار کا کہنا ہے کہ مزکورہ امریکی سفارت خانے کے اہلکار کے حکم پر وہاں پر سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں نے اُس کے بیٹے کو تین گھنٹے تک روکے رکھا اور اُس کی تصاویر اُتارنے کے علاوہ اُس کی شناخت کے بارے میں بھی معلومات لیتے رہے۔

درخواست گُزار شمس اللہ خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں رہائش پذیر سفارتکاروں کے طرف سے اس علاقے میں رہنے والی پاکستانیوں کو بُرا بھلا کہنا معمول کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس نے اس واقعہ پر امریکی سفارت خانے کے مزکورہ اہلکار کے خلاف کارروائی نہ کی تو پھر وہ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کی طرف رجوع کریں گے۔

اُدھر امریکی سفارت خانے کے ترجمان رچرڈ سنلزر نے ایسے کسی واقعہ کے رونما ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت امریکی سفارت خانے کے خلاف ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ اگر کوئی سڑک پر چلنے والا شخص خود کو بطور امریکی سفارت خانے کے اہلکار کے متعارف کروائے تو کیا اس کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کا کوئی بھی اہلکار ایسے واقعہ میں ملوث نہیں ہے۔

تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او حاکم خان کا کہنا تھا کہ پولیس نے واقعہ کے رپورٹ روزنامچے میں درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ اس واقعہ میں امریکی سفارت خانے کا کوئی اہلکار ملوث تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو امریکی سفارت خانے کے باہر تعینات نجی سکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کے بیانات لیے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران یہ دوسرا واقعہ پولیس میں رپورٹ ہوا ہے جس میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں پر مبینہ نارواسلوک کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے قبل امریکی سفار ت خانے کے ایک اہلکار جان آرسو کی طرف سے تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او حاکم خان پر اسلحہ تاننے کی رپٹ درج کی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کی طرف سے مزکورہ امریکی اہلکار کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں ابھی تک اس ضمن میں کوئی دستاویز موصول نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں