ایک برس میں تشدد کے 7500 واقعات

Image caption خواتین کے قتل کے خلاف ملک میں احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران خواتین پر تشدد کے قریباً ساڑھے سات ہزار واقعات درج ہوئے ہیں لیکن اس تحقیق سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ دراصل یہ تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ بڑی تعداد میں تشدد کے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں یوں تو خواتین پر تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے لیکن دو واقعات ذرائع ابلاغ پر چھائے رہے جن میں ایک بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں بابا کوٹ کے مقام پر پیش آیا جہاں مبینہ طور پر چند خواتین کو تشدد کے بعد زندہ درگور کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بارے میں بعد میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں جن میں پولیس کے مطابق صرف دو خواتین کو تشدد کے بعد ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا تھا جبکہ غیر سرکاری تنظیمیں یہ دعوی کر رہی ہیں کہ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔

دوسرا واقعہ صوبہ سندھ میں پیش آیا جب تسلیم سولنگی نامی خاتون کے والد نے دعوٰی کیا کہ ان کی بیٹی کو کتوں کے سامنے بھگایا گیا تھا اور تشدد کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

اسلام آباد سے جاری ہونے والی عورت فاؤنڈیشن کی پہلی سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار آٹھ میں خواتین پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ پنجاب میں پیش آئے جن کی تعداد چار ہزار چار سو سولہ ہے جبکہ سندھ ایک ہزار تین سو اسی واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ صوبہ سرحد میں سات سواناسی ، بلوچستان میں سات سو ستاسٹھ اور وفاقی دارالحکومت میں دو سو نو واقعات پیش آئے ہیں۔

تنظیم کی اسلام آباد پراجیکٹ مینیجر ربیعہ ہادی نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ واقعات اغواء کے پیش آئے ہیں جو کل واقعات کا تیئس فیصد ہیں اور اگر قتل اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کو ملایا جائے تو ان کی تعداد پچیس فیصد سے زیادہ ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران ایسے ایسے ہولناک واقعات سامنے آئے ہیں کہ جن سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک خاتون سے شادی سے انکار کردیا تو اسے زہر کا ٹیکہ لگا دیا گیا۔ اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ قبائلی تنازعات یا ذاتی دشمنیوں میں اپنے خاندان کی خواتین اور مخالف کو قتل کر دیا جاتا ہے اور الزام غیرت کے نام پر قتل کا دے دیاجاتا ہے۔

رپورٹ کے اجراء کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عورتوں کے حقوق کی سرگرم رکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ اب معاشرہ بیدار ہو رہا ہے اور خواتین پر تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن پھر بھی یہ کم ہیں کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہر پانچ میں سے چار خواتین پر کسی نہ کسی شکل میں تشدد ہو رہا ہوتا ہے۔