بلوچستان: یومِ آزادی پر یومِ سیاہ

بلوچستان یومِ سیاہ
Image caption ایک مظاہرے میں شریک پوسٹر اٹھائے ہے جس پر لکھا ہے کہ ’بلوچ حریت پسند ہیں دہشت گرد نہیں‘۔

بلوچستان میں ایک طرف سرکاری سطح پر پاکستان کا باسٹھواں یوم آزادی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے تو دوسری طرف خود کو ’بلوچ آزادی پسند‘ کہنے والی جماعتوں اور تنظیموں کی اپیل پر چودہ اگست کے دن کو صوبے کے مختلف بڑے شہروں میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے۔ خان آف قلات میر سلیمان داد اور ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما نوابزادہ حیربیار مری کی اپیل پر جمعہ کو بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں خود کو ’آزادی پسند‘ کہنے والی جماعتوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا۔

کیونکہ ان کا موقف ہے کہ ’بلوچستان پر ستائیس مارچ انیس سو اڑتالیس کو پاکستان نے زبردستی قبضہ کرکے بلوچستان کو پاکستان میں شامل کیا تھا اورگزشتہ اکسٹھ سال سے نہ صرف بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ بلوچستان کے عوام کو بھی ان کے حقوق سے محروم رکھا ہے‘۔

بلوچ نیشنل فرنٹ اتحاد مری اور بلوچ خواتین پینل کی جانب سے یوم سیاہ کے موقع پر اندرون بلوچستان کوئٹہ نوشکی، قلات، خضدار، تربت، مند، تمپ،گوادر، خاران آواران اور ماشکیل میں لوگوں نے گھروں پر سیاہ جھندے لہرائے تھے اور بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔

دوسری جانب سے جمعہ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس اور بلوچستان اسمبلی کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شہر کے کسی حصے میں جشن آزادی کے حوالے سے کوئی عوامی تقریب منعقد نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی شہر میں لوگوں کا رش تھا۔ زیادہ تر دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں اور اکثر لوگوں نے گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی پر ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی تقریبات کو دیکھا رہے۔

جب کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی بلوچستان اسمبلی کے احاطے میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلڈپریشر بڑھ جانے کی وجہ سے اچانک گر گئے جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت بہتر بتائی ہے۔

شہر کے بعض حصوں میں فرنٹیر کور اور پولیس نے پاکستانی جھنڈے لہرائے۔ لیکن ماضی کے مقابلے میں اس بار جشن آزادی کے حوالے سے عام لوگوں کی دلچسپی قدرے کم نظر آئی۔اس کی ایک بڑی وجہ خوف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کل رات کوئٹہ شہر میں تین مختلف مقام پر دھماکے ہوئے تھے اگرچہ ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں