ما ما وشن کے مشن

ماما وشن
Image caption ماما وشن گزشتہ کئی عرصے سے تھر کے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، وہ ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے قابل عزت واحترام ہیں۔

پہلے انہیں لوگ ڈریکولا کہہ پکارا کرتے تھے مگر اب انہیں تھر کا ایدھی کہا جاتا ہے۔ پینتالیس سالہ ماما وشن گزشتہ کئی عرصے سے تھر کے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، وہ ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے قابل عزت واحترام ہیں۔

سندھ کے صحرائے تھر کے ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی میں کئی سہولیات کی عدم موجودگی ہے مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی حادثے کی صورت میں یہاں خون دستیاب ہونا ممکن نہیں، یہ سب ماما وشن کی بدولت ہے۔

جب وہ چھ ماہ کے تھے تو والد پرفالج کا حملہ ہوا انہوں نے انہیں چارپائی پر مجبور اور لاچار پڑے ہوئے دیکھا اور جب وہ بڑے ہوئے تو انہوں نے والد کی دیکھ بحال کی جس کے بعد وہ خدمت کے رنگ میں ایسے رنگے کہ اسے عبادت سمجھ بیٹھے اور ساری زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

ماما وشن نے سماجی کام کی ابتدا چوتھی جماعت سے کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی کلاس میں ایک لڑکا پڑھتا تھا جس کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ اسے کتابیں لے کر دے۔ انہوں نے دوستوں سے کہا کہ اس کی مدد کرنی چاہیے، سب نے مل کر سات روپے جمع کیے، کچھ پیسے ادھار لے کر کاپیاں خریدیں تمام دوستوں کو مشورہ دیا کہ وہ مارکیٹ سے کاپیاں لینے کے بجائے ان سے خریدیں۔ ان کے مطابق پندرہ روز میں اتنے پیسے جمع ہوگئے کہ اس کی کتابیں آگئیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں سلام کوٹ کے سنت نینو رام اور ننگر پارکر کے سماج سدھارک مسکین جہاں خان کھوسو کی بے چین روح ہے جو قحط زدہ لوگوں کی مدد کرتے تھے مگر انیس سو ستر کے عشرے سے اس وقت صورتحال کافی مختلف ہے اب تھر میں بھی مذہبی اور جہادی جماعتیں پیر رکھ چکی ہیں اور مدرسوں کی تعداد اور وسعت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایم اے اکنامکس ماما وشن کو ایک ہزار لوگوں کے بلڈ گروپ یاد ہیں۔اگر کوئی حادثہ ہوجائے تو دس بیس خون کی بوتلیں جمع کرنے کو وہ کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق لوگوں کا ان پر اس قدر اعتماد ہے کہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے کا چندہ وہ صرف دو گھنٹے میں جمع کر سکتے ہیں۔

جسمانی طور پر چھوٹے قد اور بلند حوصلوں والے اس شخص کے پاس کئی کہانیاں ہیں جن پر وہ خود بھی حیرت زدہ ہیں۔ ’ایک مرتبہ ایک بزرگ آئے اور کہا کہ ان کے آٹھ سالہ بیٹے کو خون کی ضرورت ہے، میں نے انہیں کہا چلو میں خون دیتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ میں نے جواب دیا: میں نے تو یہ سوال نہیں پوچھا تھا۔ بزرگ کہنے لگے، انہیں مسلمان کا خون چاہیے، میں انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہاں میں مسلمان ہوں، تمہیں پتہ نہیں میرا گھر جامع مسجد کے برابر میں ہے۔

مسلمان کو مسلمان کا، ٹھاکر کو ٹھاکر کا اور ایک اعلیٰ نسل کے ہندو کو ان کے ہی نسل کا خون چاہیے ’ کیا خون کا کوئی مذہب ہوتا ہے یہ تو ایک ہی ہوتا ہے جیسے سب انسان ایک ہی ہیں‘۔

میں نے ان سے پوچھا وہ ماما کیسے بنے؟۔ وہ بتاتے ہیں کہ مٹھی میں ایک درویش تھا جسے سب ماما کہتے تھے وہ ہر دروازے پر جاکر خیرات لیتا تھا ہندو یا مسلمان کی تفریق نہیں رکھتا تھا، ان سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے لیے یہ نام منتخب کیا کیونکہ ماما لفظ نہ مسلمان ہے نہ ہندو ہے، کوئی اگر آجائے کہ تم مسلمان ہو تو میں کہتا ہوں ہاں بھائی میں مسلمان ہوں، اگر کوئی یہ پوچھے کہ تم ہندو ہو؟ تو میں کہتا ہوں: ہاں میں ہندو ہوں۔

انہوں نے اپنی ایک سماجی تنظیم بھی بنائی ہوئی ہے، جس نے یہ طے کر رکھا ہے کہ کسی بھی ڈونر ادارے سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں لینی ہے، کیونکہ وہ اس سے برا سمجھتے ہیں۔

وہ خون نکال کر رکھنے کے بھی مخالف ہیں، ان کے مطابق وہ تازہ خون فراہم کرتے ہیں، اسی وقت ڈونر کو طلب کرکے اس کا خون حاصل کیا جاتا ہے، کبھی کبھار اگر یہاں کا کوئی شخص حیدرآباد اور کراچی ہسپتال میں ہو تو ان کے لیے مٹھی سے خون بھیجا جاتا ہے۔

ماما کہتے ہیں کہ خون لینے کے لیے تو بہت لوگ آتے ہیں مگر دینے کے لیے کوئی نہیں آتا۔ ’میں لوگوں کے پیر پکڑ لیتا ہوں اس وقت نہیں چھوڑتا جب تک خون دینے کے لیے راضی نہیں ہوجاتے اس کے بعد میں خود کو ان کا نوکر سمجھتا ہوں‘۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ انہیں خونے پینے والا ڈریکولا کہتےاور انہیں دیکھ کر کھسک جایا کرتے تھے۔

دن ہو یا رات ان کے گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں کوئی ان کے پاس خون کے لیے آتا ہے تو کوئی کسی لاوارث میت کو ورثا تک پہنچانے میں مدد کے لیے آتا ہے۔

ایک مرتبہ مذہبی تہوار کی صبح ایک شخص نے آکر ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ جلدی کرو ایک لاش پہنچانی ہے۔ مگر باہر نکلنے والا ماما وشن نہیں ان کا بھائی تھا۔ اس بات پر وہ ماما وشن پر بہت برہم ہوئے کہ تہوار کے روز صبح کو لاش کے لیے ان کا دروازہ بجایا گیا ہے یہ بدشگونی ہے۔ مگر ماما نے اپنا مشن نہ چھوڑا، والدین کا گھر چھوڑ دیا۔

آج ماما وشن ایک کچے گھر میں رہتے ہیں جس کی چھت ہر بارش میں ٹپکتی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ رہتا ہے۔ وہ کسی کی مدد لینے کو تیارنہیں۔ ان کی تنظیم کے اکاؤنٹ میں اس وقت ساڑہ تین لاکھ روپے موجود ہیں مگر وہ اسے امانت سمجھتے ہیں۔

وہ مندر نہیں جاتے اور اپنے اس کام کو ہی عبادت سمجھتے ہیں۔ گھر والوں کو بھی ان سے شکایت ہے کہ وہ گھر پرکم وقت ہوتے ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جو ابھی سے والد کی پیروی کر رہے ہیں۔اگر کوئی ضرورت مند گھر پہنچ جائے اور ماما وشن نہ بھی ہوں تو وہ ابتدائی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔

Image caption ماما وشن کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ تھر کا ہر نوجوان خون کا عطیہ دے

ماما وشن خود کتنی بارخون دے چکے ہیں یہ انہیں بھی یاد نہیں۔ مگر یہ بڑی راز داری سے بتاتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی تنبیہ کے بعد بھی تین مرتبہ خون دے چکے ہیں۔

ماما وشن کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ تھر کا ہر نوجوان خون کا عطیہ دے اور انہیں اتنا وقت مل جائے کہ وہ گاؤں گاؤں جاکر خون کے عطیے کے لیے جھولی پھلائیں۔

سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ہر دوسرے سال قحط سالی کا سامنا ہوتا ہے، ماما وشن کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ اس دیس میں موسم کی قحط سالی تو ضرور ہے مگر انسان کی نہیں۔

اسی بارے میں