ڈاکٹر عافیہ کی امداد پر قانونی نوٹس

ڈاکٹر عافیہ صدیقی
Image caption عافیہ صدیقی کی قانونی امداد کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی رقم جاری کی گئی ہے

لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی پابندی کے باوجود امریکہ میں قید خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی امداد کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی رقم جاری کرنے پر وزرات خارجہ اور داخلہ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

ہائی کورٹ نے یہ حکم لاہور کے وکیل بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی طرف سے توہین عدالت کی اس درخواست پر دیا جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کی خلاف وزری کرنے پر وزارت خارجہ اور داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ عدالت نے بیرسٹر جاوید جعفری کی درخواست پر حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی پیروی کے لیے امریکی وکلا کو بیس لاکھ ڈالر کی رقم دینے سے روکنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

عدالت کے روبرو درخواست گزار وکیل نے یہ موقف اختیار کیا کہ عدالت نے بارہ اگست کو ان کی ایک درخواست پر حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عدالتی فیصلے تک عافیہ صدیقی کی قانونی مدد کے لیے رقم جاری نہ کی جائے لیکن عدالتی حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے بیس لاکھ ڈالر کی رقم جاری کردی گئی جو درخواست گزار وکیل کے بقول توہین عدالت ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ اور خارجہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عدالت نے درخواست گزار وکیل کا موقف سننے کے بعد چوبیس اگست کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت میں حکومتی موقف پیش کریں۔

خیال رہے کہ بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع اور پیروی کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی جو رقم جاری کی جارہی ہے اس رقم کے بڑے حصے میں خوردبرد ہوسکتی ہے۔ درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں ہے اس لیے اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا جائے کیونکہ بقول بیرسٹر جاوید جعفری کے جو درحواست عالمی عدالت انصاف میں دائر کی جائے گی اس پر انتہائی کم خرچ آئے گا۔

اسی بارے میں