حکیم اللہ محسود طالبان کے نئے امیر

حکیم اللہ محسود
Image caption ’حکیم اللہ محسود کی تقرری پر دوسرے گروپوں کے طالبان رہنماء بھی خوش ہیں‘

طالبان کی 42 رکنی شورٰی نے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کو بیت اللہ محسود کی جگہ تحریکِ طالبان پاکستان کا نیا امیر مقرر کیا ہے۔ ساتھ ہی شوری نے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اعظم طارق کو تحریک کا مرکزی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے قائم مقام امیر مولوی فقیر محمد نے سنیچرکو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ بیت اللہ محسود مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت اللہ کی وصیت ہے کہ ان کی زندگی میں تحریک کا نیا امیر مقرر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’بیت اللہ محسود ہلاک نہیں ہوئے بلکہ سخت بیمار ہیں اور اسی وجہ سے وہ روپوش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکیم اللہ محسود کو بیالیس رکُنی شوری نے متفقہ طورپر تحریک کا امیر مقرر کیا ہے اور اعظم طارق مرکزی ترجمان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیالیس رُکنی شورٰی کا اجلاس اورکزئی ایجنسی میں ہوا تھا جس میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبان کے علاوہ بندوبستی علاقوں کے طالبان جنگجوؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ کہ امیر کی صحت کی خرابی کے باعث شوری نے حکیم اللہ محسود کو مستقل امیر مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اور شوری نے مولوی عمر کی گرفتاری کے بعد اعظم طارق کو تحریک کا مرکزی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولوی عمر کی گرفتاری کے بعد حاجی مسلم خان کو قائم مقام ترجمان مقرر کیا تھا لیکن علاقے میں ٹیلی فون نہ ہونے کی وجہ سے اب اعظم طارق مرکزی ترجمان کی حثیت سے کام کریں گے۔فقیر محمد کے مطابق مولوی عمر نے اس لیے استعٰفی دیا تھا کیونکہ باجوڑ میں ٹیلی فون نظام خراب ہونے کی وجہ سے ان کا تمام میڈیا سے رابطہ مشکل ہوگیا تھا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’تحریک طالبان پاکستان مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے لیکن طالبان کے ساتھ مثبت مذاکرات کرنا اور علاقے میں امن قائم کرنا پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ پاکستان کے اختیارات پر غیر ملکی قوتوں کا قبضہ ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ کہ حکیم اللہ محسود کو امیر مقرر کرنے پر دوسرے گروپوں کے طالبان رہنماء مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر بھی خوش ہیں۔

اسی بارے میں