’بلوچستان میں صرف فوج کی مرضی چلتی ہے‘

میر سلیمان داؤد
Image caption بلوچستان میں صرف فوج کی چلتی ہے

لندن میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے موجودہ خان آف قلات میر سلیمان داؤد کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان کی آزادی اور وہاں اب تک ہونے والے فوجی آپریشنز کے ذمہ دار حکمرانوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے کی خاطر جلد ہی عالمی عدالت سے رجوع کریں گے اور اس سلسلے میں تمام بلوچ قائدین سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے لندن سے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے کہی۔

سلیمان داؤد بلوچستان کے مسئلے کے ایک اہم فریق ہیں۔ انہوں نے حال ہی کونسل برائے آزاد بلوچستان کے نام سے ایک فورم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس کے ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے دعوٰی کیا کہ ’اس کونسل میں وہ سارے بلوچ رہنما شریک ہیں جو بلوچستان کے حصے دار ہیں۔ سب سے صلاح مشورہ جاری ہے اور جب اس پر اتفاق رائے ہوجائے گا تو ارکان کے ناموں کا بھی انشاء اللہ اعلان کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ کونسل کے قیام کا مقصد بلوچستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر لے جانا اور ان کے بقول بلوچستان کے عوام کے ساتھ پچھلے تریسٹھ سالوں میں ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کرنا ہے اور ان زیادتیوں میں ملوث حکمرانوں کے خلاف عالمی عدالت میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ داخل کرنا ہے۔

’قانونی رائے تو ہم نے لے لی ہے اور مقدمہ ان پر چل سکتا ہے جیسے کہ آپ خود واقف ہوں گے کہ چلی کے پنوشے کے اوپر مقدمہ چلا اور جیسے کہ یوگوسلاویہ میں ابھی تک مقدمہ جاری ہے۔ باقی جہاں تک بلوچستان کے مسئلے کا تعلق ہے اس کے لیے تو ہر جگہ جانا پڑے گا خواہ وہ پینٹاگون ہے، امریکی کانگریس ہے، اقوام متحدہ ہے، روس ہے یا برطانیہ یعنی جتنی بھی عالمی طاقتیں ہیں سب کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے ان کے بنیادی مطالبے کیا ہیں تو ان کا جواب تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ یہ بلوچ عوام کی رائے ہے کہ وہ اپنی زمین اپنے وسائل اپنی ہر چیز پر حق حاکمیت چاہتے ہیں۔ حق حاکمیت کی وضاحت کرتے انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان ہماری سرزمین ہے۔ ہم نے اگر پاکستان کے ساتھ معاہدے کیے تو وہ پچھلے ساٹھ سال سے توڑے گئے ہیں۔ ہمارے پر یہ پانچواں فوجی آپریشن ہے جو اس وقت ہورہا ہے۔ ہمارے وسائل کو پنجاب لوٹ رہا ہے اور یہ پچھلے باسٹھ تریسٹھ سالوں سے ہورہا ہے اور ہمیں کسی سے خیرات نہیں چاہیے۔’

اس سوال پر کہ موجودہ حکومت کہتی ہے کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس حوالے سے جلد ہی خوش خبری دے گی تو کیا انہیں اس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ سلیمان داؤد نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تھی تو یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے پیشرفت ہوگی لیکن ان کے بقول اس حکومت کی پچھلی اٹھارہ مہینوں کی پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود بے حد کمزور ہے اور خاص کر بلوچستان میں صرف فوج کی مرضی چلتی ہے۔

’پیپلز پارٹی کی مرکز میں حکومت ہے اور تین صوبوں میں بھی وہ حکومت کررہی ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنی پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کے ذریعے کروا رہے ہیں۔ کیا ان کو اپنے اوپر اعتبار نہیں ہے یا اس ملک کے اداروں پر اعتبار نہیں ہے؟ تو جب ملک کے حاکم اتنے کمزور ہیں کہ اپنی قائد کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تو ہمارے لیے وہ کیا کریں گے؟‘

خان آف قلات کا کہنا تھا کہ اب حکومت پاکستان سے صرف اسی صورت میں بات چیت ہوسکتی ہے جب اس میں امریکہ، برطانیہ، روس، اقوام متحدہ یا یورپی یونین جیسی کوئی عالمی قوت ثالث بنے۔

اس سوال پر کہ آیا وہ قلات ریاست کی بحالی کی بات کررہے ہیں یا بلوچستان کی آزادی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی ریاست قلات دراصل آج کا بلوچستان ہی ہے اور جن علاقوں کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کی تخلیق کے بعد ان کا حصہ بنایا وہ قیام پاکستان سے پہلے ریاست قلات کے ہی زیر انتظام تھے۔ ان کے بقول قلات کا مطلب ہی بلوچستان ہے۔

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ خود کہہ رہے ہیں کہ کونسل برائے آزاد بلوچستان کے ارکان کے نام اس وقت ظاہر کیے جائیں گے جب بلوچ رہنماؤں کے مابین اتفاق رائے پیدا ہوجائے گا تو کیا اسکا مطلب یہ ہوا کہ کونسل کے اغراض و مقاصد پر اب تک اتفاق رائے موجود نہیں ہے یعنی دوسرے الفاظ میں یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’ہر کسی کے ساتھ صلاح مشورہ ہورہا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ کسی کے ساتھ اتفاق رائے ہوا نہیں ہوا بلکہ یہ عمل آگے بڑھے گا اور سب کے ساتھ رابطے ہوئے ہیں جو اندر بیٹھے ہوئے ہیں جو باہر ہیں سب کے ساتھ بات ہورہی ہے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ صرف براہمداغ بگٹی ہوں یا مری ہوں، یا مینگل ہوں یا اور جتنے بھی ہمارے قبائلی لوگ ہیں سب کے ساتھ ہماری مشاورت ہو رہی ہے‘۔

خان آف قلات کا کہنا تھا کہ کونسل برائے آزاد بلوچستان کے ارکان کے ناموں اور لائحہ عمل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ ایک دو مہینوں اندر متفقہ فیصلہ کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں جمہوری وطن پارٹی کے رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی حملے میں ہلاکت کے کچھ عرصے بعد قلات میں سلیمان داؤد کی سربراہی میں بلوچستان کے تمام قبائلی سرداروں اور قوم پرست سیاسی رہنماؤں کا جرگہ ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کو عالمی عدالت میں لے جایا جائے گا۔

سلیمان داؤد سے جب اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس معاملے میں پیش رفت کیوں نہیں ہوسکی تو انہوں نے اس کا کوئی واضح جواب تو نہیں دیا البتہ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قانونی ماہرین کی رائے حاصل کرلی گئی ہے اور اب صرف اسکی حکمت عملی طے ہونا اور اسکے اخراجات کے لیے رقم کا بندوبست کرنا باقی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ قلات میں ہوئے اسی جرگے میں شریک ماضی کی قلات ریاست کے اہم علاقوں سراوان اور جھلاوان کے قبائلی سردار (بالترتیب سردار اسلم رئیسانی اور ثناء اللہ زہری) تو اب حکومت کا حصہ ہیں جبکہ جرگے میں شریک ایک اور قبائلی سردارذوالفقار مگسی صوبے کے گورنر بن چکے ہیں تو کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ بظاہر بلوچستان کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے فیصلے حاصل سیاسی حمایت بڑی حد تک کمزور پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ عوام کرتے ہیں اور ان سرداروں نے عوامی فیصلے کے خلاف اقدام کیا ہے اسی لیے ان کے بقول انہیں عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ ’اگر اسلم رئیسانی، ثناء اللہ زہری اور ذوالفقار مگسی کو عوامی پذیرائی حاصل ہے تو پھر وہ یہ مسئلہ حل کیوں نہیں کرتے؟ وہ کیوں اس کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے لوگوں کی مرضی کے خلاف چل رہے ہیں‘۔

سلیمان داؤد کے اپنے خاندان کے بعض افراد نہ صرف بلوچستان اسمبلی کے منتخب رکن ہیں بلکہ ان میں سے بعض قاف لیگ جیسی وفاقی سیاسی جماعتوں میں بھی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ خود ان کا خاندان بلوچستان کے مسئلے کے اس حل پر متفق نہیں ہے جس کی وہ بات کر رہے ہیں۔ ’ہر خاندان میں اس قسم کے لوگ آپ کو ملیں گے مگر ابھی ہر کوئی اپنا خود جواب دہ ہے دو چیزوں میں خاص طور پر ایک مذہب اور ایک سیاست۔ اب آیا یہ لوگ عوام کی امنگوں کا خیال رکھ رہے ہیں یا نہیں رکھ رہے ہیں یہ سوال آپ ان سے کریں تو بہتر ہوگا۔میں اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہوں اپنی قوم کا اسی لئے میں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مزاحمتی تحریک اپنے نکتہ عروج پر ہے۔ ’آج پنجاب کے ایوانوں میں بھی یہ بات ہورہی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ زیربحث ہے۔ جو کچھ آج ہورہا ہے وہ کبھی نہیں ہوا۔ آج تو پاکستان کے جھنڈوں کو بھی جلایا جارہا ہے اور آزادی کے پرچم پورے بلوچستان میں لہرائے جارہے ہیں‘۔

اسی بارے میں