’ہمیں حکومت نے بلایا ہے، خود نہیں آئے‘

Image caption صوبے میں ٹارگٹ کلنگ تقریباً ختم ہوچکی ہے اور دھماکے ان علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں ایف سی موجود نہیں: آئی جی ایف سی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تعینات فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل محمد سلیم نواز نے کہا ہے کہ اگر حکومتِ بلوچستان کہے تو فرنٹیئر کور چوبیس گھنٹوں کے اندر سرحدوں پر واپس جا سکتی ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’مجھے آج بتایا جائے میں آج چلا جاؤں گا۔ ہمیں جب حکومت حکم دیتی ہے ہم اس پر کام کرتے ہیں۔ یہ حکومت نے فیصلہ کرنا ہے۔ کوئٹہ میں حکومت نے ہمیں بلایا ہے ہم خود نہیں آئے ہیں۔ قومی اثاثوں پر حکومت نے ہمیں بٹھایا ہے ہم خود نہیں آئے ہیں‘۔

فرنٹیئر کور ایک نیم فوجی سرحدی فورس ہے لیکن پچھلے کچھ سالوں سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے زیادہ تر بلوچ علاقوں میں اس کی بھاری نفری تعینات ہے اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا یہ پرزور مطالبہ رہا ہے کہ ایف سی کو واپس سرحدوں پر بھیجا جائے۔

اس سوال پر کہ پولیس اور لیویز کی موجودگی میں ایف سی کی تعیناتی کیوں ضروری ہے، ایف سی کے انسپکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کور کو صوبے میں دہشتگردی کی روک تھام کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ ’پولیس دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے نہیں بنتی ہے بلکہ وہ ایک مہذب معاشرے میں امن و امان کے قیام اور قانون کے نفاذ کے لیے بنائی جاتی ہے اور ان کی تربیت بھی انہی خطوط پر ہوتی ہے۔ لیکن دہشتگردوں کو روکنے کے لیے پولیس کافی نہیں ہے جبکہ لیویز تو اس سے بھی کم ہوتی ہے کیونکہ وہ ہے ہی قبائلی فورس۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں فرنٹیئر کور کے آنے کے بعد سے حالات بہتر ہوئے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ ان کے بقول تقریباً ختم ہوچکی ہے اور اب جو دھماکے بھی ان علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں فورسز موجود نہیں ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ دہشتگرد سے ان کی مراد آیا طالبان طرز کے اسلامی شدت پسند ہیں یا وہ لوگ جن کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کے لیے مسلح جنگ لڑائی کررہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے اندر طالبان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان افراد کو دہشتگرد مانتے ہیں جو بے گناہ لوگوں کے قتل، بم دھماکوں، فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملوں جیسے جرائم میں ملوث ہوں۔

’براہ مہربانی ان لوگوں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہ رکھیں۔ حقوق مانگنے کے طریقے ہوتے ہیں۔ حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد آپ بالکل کریں اس کے لیے آپ جلسے جلوس کریں۔ آپ کے صوبے کے وزیر اعلٰی آپ کے باقی لوگ اپنے سیاسی اور معاشی حقوق مانگ رہے ہیں وہ جدوجہد چل رہی ہے لیکن صرف دو گروپ ہیں بی ایل اے اور بی آر پی جو ہر قتل و غارت گری کے بعد وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ ہم نے کیا ہے۔ اس پنجابی کو ہم نے مارا ہے پنجابی یہاں سے نکل جائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ حکومت بلوچستان میں ترقی کے لیے تیار ہے اور خود بلوچستان کے منتخب نمائندوں کی مشاورت سے صوبے کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے تو یہ دونوں گروہ بیرونی مدد سے بلوچستان میں دہشتگردی کررہے ہیں۔

’براہمداغ صاحب افغانستان سے بولتے رہے ہیں۔ اب یہ سن رہے ہیں کہ وہ دبئی چلے گئے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسی اطلاع نہیں ہے کہ وہ دبئی گئے ہیں یا نہیں لیکن وہ افغانستان سے دہشتگردی کی کارروائیاں کراتے رہے ہیں۔ حیربیار صاحب انگلینڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے والد صاحب کہتے ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک راستے پر جارہا ہے اور جو راستہ ہے وہ سب کو پتہ ہے وہ پاکستان کو توڑنے کی بات کررہے ہیں۔‘

Image caption ’دہشتگرد وہ ہیں جو بے گناہ لوگوں کے قتل، بم دھماکوں، فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملوں جیسے میں ملوث ہوں‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں تنظیمیں اتنی مضبوط نہیں ہیں کیونکہ ان کے بقول عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں اور اگر حکومت بلوچستان کے مسائل کو حل کرے تو ان تنظیموں کی رہی سہی حمایت بھی ختم ہوجائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’ایف سی ایک قبائلی فورس ہے اور اگر کسی قبائلی کے اوپر آپ حملہ کریں تو وہ جاکر آپ کے ابا جی سے شکایت نہیں کرے گا بلکہ آپ کو وہیں جواب دے گا۔ تو اگر کوئی ایف سی پر حملہ کرے گا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ پہلے بھی جواب دیا گیا ہے آئندہ بھی دیا جائے گا۔‘

ایف سی کے اہلکاروں کے رویے کے متعلق بلوچستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں کی شکایات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی تذلیل کرنے سے متعلق زیادہ تر شکایات بے بنیاد ہیں۔

’دیکھیئے ایف سی سختی کرتی ہے، سخت لہجے میں بول سکتی ہے یہ تو قابل قبول ہے اور کبھی ہوسکتا ہے کہ کسی بیوقوف نے کسی کو مرغا بنانے کی بھی کوشش کی ہو۔ یہ باتیں ایسی ہیں جن پر کنٹرول بھی کرنا چاہیے اور میں اس کے لیے کوششیں بھی کررہا ہوں۔ لیکن یہ کہنا کہ لوگوں کے بال اور مونچھیں مونڈ دی جاتی ہیں اور ان کی شلواریں کاٹ دیتے ہیں بڑی ہی بدنیتی پر مبنی ہے۔ بلوچستان کے قبائلی علاقے میں کون اپنی مونچھیں منڈوالے گا۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا یہ بالکل جھوٹی باتیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایف سی کے متعلق اس طرح کی باتیں پھیلا کر اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ’آپ یہ دیکھیں نا کہ جب کہیں دھماکہ ہوتا ہے اور لوگ مرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ہم نے کیا ہے اور جب ایف سی جاکر تلاشی لیتی ہے لوگوں کو پکڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ بے گناہ لوگوں کو پکڑا جارہا ہے اوپر سے بنتے ہیں سرمچار۔ بنتے ہیں بہت بڑے جانثار، اور جب ایک ہاتھ پڑتا ہے تو رو روکر ان کی جان عذاب میں آجاتی ہے۔ پیٹتے پھرتے ہیں۔‘

ایف سی کے سربراہ نے حال ہی میں کوئٹہ میں اپنی اشاعت بند کرنے والے روزنامہ آساپ کی انتظامیہ کے اس مؤقف کو مسترد کردیا کہ اس کے دفتر کے باہر ایف سی کے دستے تعینات کردیے گئے تھے جو اخبار کے عملے کی بار بار جامہ تلاشی لیتے تھے اور انہیں ہراساں اور تذلیل کرتے تھے۔ ’مجھے آپ یہ بتایے کہ آساپ اخبار صرف چیکنگ کے اوپر بند ہوجاتا ہے۔ میڈیا اتنا مضبوط ہے آپ کو پتہ ہے کہ اگر اس بات میں سچائی ہوتی تو تحریک شروع ہوجاتی تو یہ چیزیں آج کل نہیں چلتی ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کوئٹہ سے شائع ہونے والے دو مزید اخبارات ڈیلی بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزادی کے دفتر کے باہر بھی ایف سی کے دستے تعینات ہیں جو دفتر کے عملے سمیت وہاں جانے والے ہر شخص کو روک کر نہ صرف تلاشی لیتے ہیں بلکہ ان کی ہتک بھی کرتے ہیں اور اخبار کے دفتر جانے پر خود میرے ساتھ بھی گزشتہ روز ایسا ہی سلوک ہوا تو ان کا کہنا تھا ’کوئٹہ کے اندر پندرہ سو سے زیادہ گاڑیاں ہم روزانہ چیک کرتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کی تلاشی لی جاتی ہے۔ تو اگر آپ اخبار کے نمائندے ہیں تو سیدھی سی بات ہے کہ چیکنگ کرادو بھائی۔ چیکنگ کرانے میں کیا نقصان ہے۔ اچھا اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دس دفعہ چیک کررہے ہیں تو بھئی دس دفعہ چیکنگ کرادو۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے ہتک آمیز کیوں کہا جاتا ہے۔‘

جب انہیں یاد دلایا گیا کہ اخبار نکالنا تخلیقی کام ہوتا ہے اور اگر اخبار کے دفتر کے باہر باوردی مسلح اہلکار تعینات ہوں جو دفتر آتے جاتے ہر بار تلاشی لیتے ہوں اور پوچھ گچھ کے دوران ایسے لہجے میں بات کرتے ہوں جو تکلیف دہ ہو تو اخبار نکالنا یقیناً مشکل ہوجاتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ایف سی کے دستے جگہ بدلتے رہتے ہیں اور ان دنوں ہوسکتا ہے کہ بلوچستان ایکسپریس اور آزادی اخبار کے دفتر کی باری ہو۔ لیکن ان کے بقول ڈیلی ڈان، آج ٹی وی اور میڈیا کے دوسرے اداروں کے دفاتر کو بھی چیک کیا جاتا رہا ہے مگر وہ اس پر نالاں نہیں ہوتے اس لئے ایف سی کے عملے کی تعیناتی کو اخبارات پر قدغن سے تعبیر کرنا غلط ہے۔

اسی بارے میں