بلوچستان میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال

Image caption کوئٹہ میں فرنٹیئرکور کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے

بلوچ قوم پرست رہنما نواب محمداکبر خان بگٹی کی تیسر ی برسی کے موقع پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے زیادہ ترحصوں میں بدھ کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے جبکہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پورے صوبے میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کی اپیل پر کوئٹہ اور اندرون بلوچستان کے بڑے شہروں گوادر، تر بت، نوشکی، دالبندین، خضدار، قلات، مستونگ، حب اور مچھ میں مکمل طور پر شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی ہے۔

بگٹی کی برسی پر بلوچستان بند: تصاویر

اس دوران کوئٹہ کی تمام دکانیں اور کاروباری مراکز صبح سے ہی بند تھے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر تھی اور سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی تعداد قدرے کم رہی۔

ہڑتال کے موقع پر صوبائی حکومت نے نہ صرف کوئٹہ شہرمیں دفعہ ایک سوچوالیس نافذ کرکے ہرقسم کے جلسہ جلوس پر پابندی عائدکی ہے بلکہ پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ فرنٹیئرکور کی بھاری نفری بھی تعینات کررکھی ہے جو کوئٹہ کے حساس علاقوں میں گشت کر رہی ہے۔

شہر میں سوسے زیادہ پولیس کی نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں کوئٹہ سے کراچی، تفتان اور سکھر جانے والی تمام قومی شاہراہیں بھی ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔

دوسر ی جانب نواب اکبر بگٹی کی بر سی کے موقع پر بلوچ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر بلوچ وکلاءنے بھی صوبہ بھر میں عدالتوں کابائیکاٹ کیا ہے۔

نواب اکبر بگٹی کی تیسری برسی کے موقع پر جمہوری وطن پارٹی حالی گروپ سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہر ہ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں مظاہر ہ کرنے کی اجازت نہیں دی اور تمام مظاہرین کومنتشرکردیا۔

دوسری جانب کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس پرایک دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دوافراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ بلوچ ری پبلیکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے اس واقع کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ بلوچ مزاحمت کاروں نے ریمورٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا ہے جس میں دس سے زیادہ سیکورٹی اہلکار ہلاک وزخمی ہوئے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے بھی بلوچ نیشنل فرنٹ کی اپیل پر ہونے والے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

اس سے قبل کل رات بھی کوئٹہ سوئی خضدار اور بولان میں بم دھماکے اور راکٹ حملوں کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور دس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جس کی ذمہ داری بلوچ مزاحمت کاروں کی تنظیموں بی آراے اور بی ایل اے نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں