فوجی قافلے پر حملہ، چار اہلکار ہلاک

پاک فوج
Image caption اس حملے میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تین ٹینک بھی تباہ کیے گئے: اعظم طارق

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ محسود قبائل کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے ایک حملے میں کم سے کم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کاروائی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھر پور حملے کیے جس میں کئی عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کو رات گئے محسود قبائل کے علاقے سروکئی سب ڈویژن میں اس وقت پیش آیا جب نوی سروکئی جانے والے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر عسکریت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں جبکہ تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بعض ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں سے بھر پور حملے کیے جس میں متعدد عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک کے ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ اس حملے میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تین ٹینک بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ تاہم اس دعوے کے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز نے لدھا سب ڈویژن کے علاقے لالے ژئی میں ایک دینی مدرسے کو طالبان ٹھکانہ سمجھ کر نشانہ بنایا ہے جس سے عمارت تباہ ہوگئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے محسود قبائل کے علاقےمیں مشتبہ عسکریت پسندوں کے تقریباً بارہ مکانات کو تباہ کردیا تھا اور سکیورٹی اہلکار کاروائی مکمل کرکے واپس جارہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔

اسی بارے میں