مچھر کالونی کا چولہا گھر

چولہا گھر
Image caption چولہا گھر میں ایل پی جی گیس کے آٹھ چولہے لگائے گئے ہیں

کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں واقع ایک عمارت میں روزانہ دوپہر ہوتے ہی ایسی خواتین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو اپنے ساتھ برتنوں میں سبزی، گوشت، مچھلی اور دالیں لے کر آتی ہیں اور یہاں کھانا پکاتی ہیں۔

اس جگہ کو چولہا چوک کہا جاتا ہے۔

صنعتی علاقے اور فش ہاربر کے قریب واقع مچھر کالونی میں سات لاکھ سے زائد لوگوں کا بسیرا ہے، جس میں اکثریت غیر قانونی تارکین وطن کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ پینے کے پانی سے لے کر نکاسی اور صحت کی تمام سہولیات سے محروم ہے۔

اس علاقے میں گیس کی سہولت بھی میسر نہیں اور لوگ لکڑیاں یا بھوسی جلا کر کھانا پکاتے ہیں۔

کنسرن فار چلڈرن ٹرسٹ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب اس علاقے میں چولہا چوک پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ تنظیم کی ایک اہلکار ہیما مکیش کا کہنا ہے کہ ’علاقے کی خواتین میں ٹی بی، دمہ اور سانس کی تکلیف کی بیماریاں عام ہیں۔ ان بیماریوں کی وجہ تلاش کرنے کے لیے جب سروے کیا گیا تو پتہ چلا ان تمام بیماریوں کی ایک بڑی وجہ چولہا ہے کیونکہ اس کے لیے جو لکڑی استعمال کی جاتی ہے وہ پرانی کشتیوں اور بحری جہازوں کی ہوتی ہیں جن پر رنگ و روغن لگا ہوا تھا جو جلنے سے دھواں اور بدبو نکلتی ہے‘۔

ہیما کے مطابق ان کی تنظیم نے ایک گھر حاصل کیا ہے، جس میں آٹھ چولہے لگائے گئے ہیں جہاں ایندھن کے لیے ایل پی جی گیس اور صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس سے ایک طرف کھانا آسانی سے پکتا ہے تو دوسری طرف سانس کی بیماریوں میں کمی ہو رہی ہے۔

چولہا چوک میں آنے والوں میں تیرہ سالہ سلمٰی بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق بارہ بجے سے تین بجے کے درمیان وہ کسی وقت بھی یہاں آسکتی ہیں، اس سے پہلے ہر روز لکڑیاں لانی پڑتی تھیں اس سے کھانا پکانا مشکل ہوجاتا تھا۔

اس باورچی خانے کی دیواروں پر صفائی ستھرائی کے لیے ہدایات تحریر ہیں اور یہاں داخل ہونے کے لیے ایپرن پہننا لازمی ہے۔ چولہا گھر میں موجود ممتاز نامی خاتون کا کہنا تھا کہ ’لکڑی جلانے سے برتن کالے ہوجاتے، گندگی ہوتی تھی اور پانی بھی زیادہ خرچ ہوتا تھا اب صفائی ستھرائی رہتی ہے‘۔

ممتاز سے جب معلوم کیا گیا کہ وہ ایل پی جی گیس کا سلنڈر خود کیوں نہیں لگاتیں تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ گیس کا چولہا لگوا سکیں کیونکہ یہ مہنگا پڑتا ہے مہینے کا خرچہ بارہ سے پندرہ سو رپے اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ لکڑیاں دو سو رپے کی من مل جاتی ہیں اور پچاس رپے کی بھوسی ملتی ہے اس وجہ سے گیس استعمال نہیں کرتے‘۔

ایک اور مقامی خاتون رابعہ کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر سو ڈیڑھ سو روپے کماتا ہے اور روزانہ کا خرچہ دو سو تین سو روپے ہوتا ہے جبکہ سات آٹھ کھانے والے ہیں اس صورتحال میں گیس کا خرچہ کہاں اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق لکڑیوں پر کھانا پکانے میں چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں جبکہ چولہا گھر میں تین گھنٹے میں کھانا تیار ہوجاتا ہے اور باقی وقت جو بچتا ہے وہ گھر میں جھینگا صاف کرنے میں لگاتی ہیں۔

Image caption چولہا گھر میں تین گھنٹے میں کھانا تیار ہوجاتا ہے

مچھر کالونی میں اکثریت بنگالی، بہاری اور برمی لوگوں کی ہیں جن میں کچھ قدامت پسند بھی ہیں۔ ان گھرانوں کی خواتین کو اس چولہا گھر آنے میں دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ رابعہ کے مطابق ’گھر والے اعتراض کرتے ہیں اور ان کی سننا پڑتی ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں کو سمجھایا کہ گھر پر کھانا پکانے میں تکلیف ہوتی ہے جبکہ چولہا گھر میں گیس اور پانی کی سہولت موجود ہے۔ اس کی وجہ سے ایندھن کا خرچہ کم ہوگا جس کے بعد وہ راضی ہوگئے۔

خیال رہے کہ مچھر کالونی میں پانی کی فراہمی کا کوئی نظام نہیں ہے، پانی دکانوں پر پانچ روپے فی ڈبے کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔

رابعہ کو یہ تو معلوم نہیں ہے کہ حکومت اس غریب بستی میں گیس کی فراہمی کیوں نہیں کرتی مگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ انہیں یہ سہولت اللہ کے حکم سے نصیب ہوئی ہے۔

چولہا گھر کے پاس ایک کمرہ چھوٹے بچوں کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔ یہ بچے اپنی ماؤں کے ساتھ آتے ہیں۔ کنسرن فار چلڈرن کے فیلڈ افسر پرویز اختر کے مطابق جہاں چولہے لگے ہوئے ہیں وہ خطرناک جگہ ہے اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچوں کے لیے علیحدہ سے جگہ بنائی جائے تاکہ وہ خطرے سے بھی دور رہیں اور ماؤں کے کام میں رخنہ نہ ڈالیں۔

تنظیم کی اہلکار مس آمنہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کا یہ تجربہ کامیاب ہوگیا تو وہ اسے دوسرے علاقوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر اس کے لیے انہیں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔یاد رہے کہ پہلے اس قسم کے منصوبے دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں نظر آتے تھے تاہم اب ملک کے بڑے شہروں میں بھی لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے این جی اوز اپنا کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہیں۔