طورخم میں خود کش حملہ، 21 ہلاک

طالبان کے خلاف جنگ
Image caption خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہوئی ہیں

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ خاصہ دار فورس پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں اکیس اہلکار ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

علاقے کے پولیٹیکل ایجنٹ طارق حیات خان کے مطابق خودکش حملے میں خاصہ دار فورس کے اکیس اہلکار ہلاک جبکہ بائیس زخمی ہو گئے ہیں جن میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو افطاری کے وقت طورخم بارڈر کے مین گیٹ کے قریب پاکستانی حدود میں خاصہ دار اور لیویز کے اہلکار افطاری کے لیے اکھٹے ہوئے تھے کہ لڑکا ہاتھوں میں منرل واٹر کی بوتلیں لیے آیا اور کہا کہ ’آپ کے لیے پانی لایا ہوں۔‘ یہ کہہ کر اس نےخود کو اڑا دیا۔

زخمیوں کو لنڈی کوتل ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

ابھی تک کسی نے بھی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم طارق حیات خان نے اس خود کش حملے کا الزام علاقے میں سرگرم طالبان پر عائد کیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز نے سرگرم طالبان اور دیگر گروہوں کے خلاف کاروائیاں شروع کی ہیں۔ اسی راستے سے افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کے لیے سپلائی ہوتی ہے اورگزشتہ کئی سالوں کے دوران بارہا نیٹو فورسز کے لیے سامان لیجانے والی گاڑیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کی کئی مرتبہ طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں