’آخر میں اپنی شکایت کس سے کروں‘

 منیر خان
Image caption جاوید اقبال کے والد منیر خان بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں پچھلے کئی سالوں سے جاری تشدد کی لہر نے نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں ملک کی ’سلامتی‘ کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں بلکہ اس کی کوکھ سے جنم لینے والے المیے متاثرہ افراد کی زندگیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نتھی ہو چکے ہیں۔ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی سے جنم لینے والے انسانی المیوں کے مختلف پہلووں کو صحافت کے تنگ دامن میں یا تو سرے سے جگہ ہی نہیں مل سکی اور اگر ملی بھی تو اس طرح نہیں جس طرح سے یہ واقعات رونما ہوئے اور یوں حقیقی کہانیاں صحافتی مقابلے کی دوڑ کے ملبے میں کہیں دفن ہوگئیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ جنگ زدہ افراد یا خاندانوں پر بیتی ہوئی انہی کہانیوں کی کھوج میں ہیں جنہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام ایک سیریز کی صورت میں شائع کر رہی ہے۔ اس سلسلے کی تیسری کہانی۔

جنگ کہانی: پہلی قسط

جنگ کہانی: دوسری قسط

(یہ واقعہ سوات کے جاوید اقبال کا ہے جن کا الزام ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تین جولائی کو ان کے گھر میں گھس کر ان کے والد، والدہ اور دو جواں سال بہنوں کو ہلاک کردیا۔ تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسے بے بنیاد الزام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ واقعے کا علم ہوجانے کے بعد انہوں نے تفتیش کی جس سے پتہ چلا کہ تین جولائی کو سکیورٹی فورسز نے کسی عام شہری کے گھر میں گھس کر کسی کو ہلاک نہیں کیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ انہی دنوں میں علاقے کے طالبان کمانڈر شیر محمد قصاب کے خلاف کارروائیاں ہو رہی تھیں لیکن فوج شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں نہتے شہریوں کو ہلاک کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔)

جاوید اقبال، حاجی آباد، میرہ منگل تان روڈ چہار باغ سوات

Image caption پڑوسیوں نے مرنے والوں کو گھر کے صحن میں دفنا دیا

بیس جون کو سکیورٹی فورسز نے ہمارے علاقے میں آ کر ایک طالب کمانڈر شیر محمد قصاب کے مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا۔ پھر انہوں نے میرے اور ساتھ واقع میرے بہن کے مکان کی تلاشی لی۔ میں نے ان سے کہا کہ جب بھی آپ لوگ اس علاقے میں آتے ہیں تو ہم گاؤں والوں سے اجازت لے لیا کریں کیونکہ یہاں پر طالبان چھپے ہوئے ہیں۔ اگر کہیں انہوں نے حملہ کیا تو پھر جھڑپ شروع ہوجائے گی اور نتیجے میں ہم عام لوگوں کو بھی نقصان پہنچ جائے گا۔

اس دن تو وہ چلے گئے لیکن دو دن بعد پھر آگئے۔ انہوں نے میرے پانچ پڑوسیوں کو گرفتار کرلیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ طالبان نہیں ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے ایک اور طالب جنگجو شیرین کے گھر کا پتہ پوچھا۔ میں نے جب بتایا تو وہ اس کے گھر کی بجائے اس کے بھائی کے گھر چلےگئے اور اس سے آگ لگادی۔ اس دوران انہوں نے طالب جنگجو کی بھابی سے کہا کہ وہ شیرین کو بلائیں تو اس نے کہا کہ وہ یہاں پر نہیں ہے اور میں عورت ہوں میں باہر جاکر کیسے ڈھونڈ کر لاؤں۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے گولیاں چلائیں جس میں وہ خاتون زخمی ہوگئی۔

واپس جاتے وقت سکیورٹی فورسز نے ہمیں آگے چلنے کو کہا۔ اب ہم گاڑیوں کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ طالبان نے ہماری طرف ایک راکٹ فائر کیا۔ ہم مکان کی دیوار کے پیچھے چھپ گئے جبکہ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔ جھڑپ بارہ گھنٹے تک جاری رہی جس میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ہم نے سکیورٹی اہلکاروں کو پانی پلایا۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو اپنی ہی چار پائیوں پر ڈال کر ان کی گاڑیوں میں رکھ دیا۔ان کے چلے جانے کے بعد میرے والد نے مجھ سے کہا کہ ’تم نے فوج کی مدد کی ہے اب طالبان تمہیں نہیں چھوڑیں گے لہذا تم گاؤں سے نکل جاؤ۔‘

میں بھی اسی دن اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ گاؤں سے نکل کر مینگورہ آ گیا۔ گھر پر اپنے ستر سالہ والد منیر خان ، والدہ بی بی اور دو بہنوں سائرہ ناز اور شازیہ کو چھوڑ دیا۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے اپنے والدین کوخواب میں دیکھا جس سے میں پریشان ہوا۔ فوجی کارروائی کی وجہ سے ٹیلی فون کام نہیں کر رہے تھے لہذا صبح اٹھتے ہی میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو گاؤں روانہ کردیا۔ اس نے واپس آکر بتایا کہ میرے والد، والدہ اور دو بہنوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا ہے۔

Image caption جاوید اقبال کے والد منیر خان، ان کی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ

میں جب گاؤں گیا تو وہاں پر پڑوسیوں نے بتایا کہ تین جولائی کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار گاؤں آئے اور وہ آپ لوگوں کے گھر میں گھس گئے۔ مکان کو آگ لگادی اور تھوڑی دیر بعد گولیوں کی آوازیں سنائی دیں اور بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ آپ کے والد، والدہ اور دو بہنوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ دو دنوں تک لاشیں گھر میں پڑی رہیں اور پھر رات کے اندھیرے میں پڑوسیوں نے آ کر انہیں مکان کے صحن میں دفنا دیا۔ انہیں قبرستان میں دفنانے سے اس لیے لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں سامنے پہاڑیوں پر بیٹھے ہوئےسکیورٹی اہلکار جنازے پر حملہ نہ کردیں۔

میں نے نذرآتش ہونے والے اپنے مکان کواور پھر صحن میں اپنے والد، والدہ اور دو بہنوں کی قبریں دیکھیں تو زار و قطار روتا رہا۔ ہلاک ہونے والی بہنوں میں سے سائرہ ناز خوازہ خیلہ کالج سے ایف ایس سی کررہی تھی اور کالج کی بیس بال ٹیم کی کیپٹن بھی تھی۔ اس نے ضلع اور صوبہ کی سطح پر فائنل میں اپنی ٹیم کو کامیابیاں د لوائی تھیں۔

میں اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کررہا ہوں آخر میں اپنی شکایت کس سے کروں۔ اب میری جان کو بھی خطرہ ہے۔

اسی بارے میں