خودکش حملہ: پندرہ اہلکار ہلاک

مینگورہ پولیس سٹیشن
Image caption مینگورہ کا پولیس سٹیشن حملے کے بعد

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ خود کش حملہ آور نے مینگورہ شہر کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں خود کو دھماکے سے اڑا کر سکیورٹی کے پندرہ زیر تربیت اہلکاروں کو ہلاک اور چودہ کو زخمی کر دیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار علی رحمان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ خود کش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو حال ہی میں سپیشل پولیس کے لیے دو سال کے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا اور سب کا تعلق مینگورہ سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتوار کو ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں زیر تربیت پندرہ اہلکار ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک اور سکیورٹی اہلکار جان بہادر نے بتایا کہ اتوار کو مینگورہ کے پُرانے تھانے کی حدود میں ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا دیا جب وہاں سپیشل پولیس کی تربیت ہو رہی تھی۔

صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خود کش حملے کے وقت پولیس سٹیشن میں ستر کے قریب اہلکار موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے اس طرح کے حملوں کا خدشہ موجود ہے۔

مینگورہ کے ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق زخمیوں کو سیدو شریف ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں پر بعض کی حالت خطرناک بتائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے فوری بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے دکانیں بند کردیں جب کہ کئی علاقوں سے شدید فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں۔

خیال رہے کہ سوات میں جاری فوجی کارروائی کی کامیابی کے دعوؤں کے بعد یہ اپنی نوعیت کا خود کش حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔

اگرچہ سوات میں طالبان کی مزاحمت میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم سوات کے مختلف علاقوں سے گزشتہ ایک مہینے میں سو سے زائد لاشیں ملی ہیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ان میں سے زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مرے ہیں تاہم حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں